محمد ہاشم القاسمی

(خادم دارالعلوم پاڑا، ضلع پرولیا، مغربی بنگال)
​برصغیر ہند وپاک ،بنگلہ دیش اور برما کے اسلامی مدارس میں صدیوں سے رائج تعلیمی نصاب کو "درسِ نظامی” کہا جاتا ہے۔ تقریباً تین صدیوں سے علم و عرفان کی پیاس بجھانے والا یہ نصاب کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس کا تاریخی پس منظر مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ کے اس دورِ حکومت سے جڑا ہے جب یہ پورا خطہ ایک متحدہ برصغیر( اکھنڈ بھارت) کی شکل میں قائم تھا۔ اسی عہدِ زریں میں علم و فضل کے افق پر ایک ایسی عبقری شخصیت نمودار ہوئی جسے دنیا ملا نظام الدین سہالویؒ کے نام سے جانتی ہے۔
​ملا نظام الدین سہالوی کی ولادت 1088ھ (مطابق 27 مارچ 1677ء) کو صوبہ اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی کے ایک تاریخی قصبے "سہالی” میں ہوئی۔ آپ کا شجرہ نسب (ملا نظام الدین بن ملا قطب الدین سہالوی بن عبدالحلیم بن عبدالکریم) گواہ ہے کہ آپ کا خاندان نسل در نسل علم و دانش کا گہوارہ تھا۔ آپ جید عالم، علومِ عقلیہ و نقلیہ کے ماہر، اور فقہ و اصول کے امام تھے۔ جب آپ کی عمر محض 15 برس تھی، تو آپ کے والد ملا قطب الدین شہیدؒ اپنے خاندان کے ساتھ لکھنؤ منتقل ہو گئے؛ اس وقت آپ ‘شرح جامی’ پڑھ رہے تھے۔ والد کے سایۂ شفقت سے محرومی کے بعد بھی آپ کے شوقِ علم میں کمی نہ آئی۔ آپ نے حصولِ علم کے لیے دور دراز کے اسفار کیے۔ ابتدائی کتب ‘دیوا’ (جموں) میں پڑھیں، جبکہ انتہائی کتب کی تکمیل بنارس جا کر حافظ امان اللہ بنارسیؒ سے فرمائی۔ بعد ازاں، لکھنؤ واپسی پر شیخ غلام نقشبند گھوسویؒ سے بقیہ کتب پڑھ کر سندِ فضیلت حاصل کی۔ ظاہری علوم کی تکمیل کے بعد آپ نے باطنی علوم (تصوف) کی طرف رخ کیا۔ اس وقت پورے ہندوستان میں شاہ عبدالرزاق ہانسویؒ کے فیوض و برکات کا شہرہ تھا۔ ملا نظام الدین سہالوی نے ان کے دستِ حق پرست پر بیعت کر لی۔ چونکہ شاہ صاحب علومِ ظاہری سے زیادہ آشنا نہ تھے، اس لیے علمائے فرنگی محل اور خود ملا صاحب کے مایہ ناز اور ذہین شاگرد ملا کمال (جو علومِ عقلیہ کے امام تھے) کو سخت تعجب ہوا اور انہوں نے اعتراض بھی کیا۔ تاہم، جب ملا کمال نے شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر فلسفے کے پیچیدہ مسائل پر گفتگو کی، تو شاہ صاحب کے لدّنی جوابات نے انہیں ایسا مسحور کیا کہ وہ اپنے استاد کے ہمراہ شاہ صاحب کے قدموں میں گر پڑے اور حلقہ بگوشِ بیعت ہو گئے۔
​اورنگزیب عالمگیرؒ نے ملا نظام الدین سہالویؒ کی علمی منزلت کو بھانپتے ہوئے لکھنؤ میں ایک عظیم الشان عمارت انہیں تفویض کی تاکہ وہ اسے تعلیمی مرکز بنا سکیں۔ یہ عمارت پہلے یورپی (فرانسیسی، ہالینڈ اور برطانوی) تاجروں کی تجارتی کوٹھی ہوا کرتی تھی، اسی مناسبت سے یہ مرکز "فرنگی محل” کے نام سے مشہور ہوا جو پچھلے تین سو سال سے علم کی شمع روشن کیے ہوئے ہے۔
​ملا صاحب نے اس مدرسے کے لیے ایک جامع نصاب ترتیب دیا۔ یہ نصاب وقت اور معاشرے کی پکار تھا، اور یہ الٰہی قانون ہے کہ جو چیز سوسائٹی کی حقیقی ضرورت بن جائے، اللہ اسے قبولِ عام عطا فرما دیتا ہے۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے یہ نصاب پورے ساؤتھ ایشیا (برصغیر) کا متفقہ تعلیمی دستور بن گیا۔
​آج کل ذہنوں میں یہ مغالطہ پایا جاتا ہے کہ مدارس شروع ہی سے عصری علوم کے مخالف تھے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ملا نظام الدین سہالوی کے مرتب کردہ اصل نصاب میں دین اور دنیا کی کوئی تفریق نہ تھی۔ ایک ہی درسگاہ میں، ایک ہی تپائی پر بیٹھ کر طالب علم: قرآن، حدیث اور فقہ پڑھتا تھا۔
​ریاضی (Mathematics)، طب (Medical Science)، فلکیات (Astronomy) اور جغرافیہ کی تعلیم حاصل کرتا تھا۔ دفتری و عدالتی ضرورت کے لیے فارسی زبان اور ملک کے قانون کے طور پر فقہِ حنفی کی تعلیم حاصل کرتا تھا۔
​خلاصہ یہ کہ آج کے اسکول، کالج، یونیورسٹی اور مدرسے کے مضامین ایک ہی جگہ یکجا تھے۔ یہ مربوط نظام ڈیڑھ سو سال تک کامیابی کے ساتھ چلتا رہا اور اس نے برصغیر کو بہترین معالج، منصف، سائنسدان اور مایہ ناز فقہاء دیے۔ 1757ء میں جنگِ پلاسی میں نواب سراج الدولہ کی شہادت کے بعد جب ایسٹ انڈیا کمپنی کا اقتدار بنگال پر ہوا اور رفتہ رفتہ 1822ء تک پورے ہندوستان پر انگریز قابض ہو گئے، تب بھی انہوں نے نظام میں فوری تبدیلی نہیں کی۔ یہاں تک کہ انگریزوں نے اپنے مقاصد کے لیے جو ابتدائی مدارس (جیسے کلکتہ مدرسہ عالیہ) قائم کیے، وہاں بھی یہی درسِ نظامی رائج رہا۔
​اصل تبدیلی 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد آئی۔ جب حریت پسندوں کو ناکامی ہوئی اور اقتدار براہِ راست برطانوی تاج کے ہاتھ میں چلا گیا، تو انگریزوں نے اس خطے کی اسلامی و تہذیبی شناخت کو مٹانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے: سرکاری و عدالتی زبان فارسی کو ختم کر کے انگریزی رائج کر دی۔ ملک کے مسلم قانون (فقہِ حنفی اور فتاویٰ عالمگیری) کو معطل کر کے برطانوی قانون نافذ کر دیا۔
​جب نظام اور زبان بدلی، تو انگریزوں نے تعلیمی نصاب پر بھی وار کیا اور درسِ نظامی سے پانچ بنیادی مضامین خارج کر دیے: (۱) قرآن، (۲)حدیث، (۳)فقہ، (۴) عربی (۵) اور فارسی۔ انگریزوں کے نزدیک اب ان مضامین کی کوئی سرکاری ضرورت نہیں رہی تھی۔ یہیں سے برصغیر میں "دینی” اور "عصری” تعلیم کی وہ خلیج پیدا ہوئی، جو اس سے پہلے موجود نہ تھی۔
​انگریز کی اس شاطرانہ چال کے نتیجے میں پورا دینی نظام (مساجد، مدارس، قضاء اور افتاء) خطرے میں پڑ گیا۔ اس وقت اگر ان پانچ مضامین کی حفاظت نہ کی جاتی تو مستقبل میں مسلم معاشرے کو امام، خطیب، قاری، حافظ اور مفتی میسر نہ آتے اور عیسائیت کے فروغ کی راہ ہموار ہو جاتی۔
​ان نازک حالات میں ہمارے اکابرین علماء اور اللہ کے مخلص بندوں نے سوچا کہ اگر حکومت ان مضامین کو سرکاری نصاب سے نکال چکی ہے، تو ہم مایوس نہیں ہوں گے۔ ہم کسی سرکاری امداد کے بغیر، عوام کے تعاون اور امدادِ باہمی (چندے) کی بنیاد پر پرائیویٹ سطح پر ان پانچ مضامین کی حفاظت کریں گے۔ اسی ایمانی جذبے کے تحت دارالعلوم دیوبند، مظاہر علوم سہارنپور، شاہی مراد آباد اور ہاٹ ہزاری (بنگلہ دیش) جیسے مدارس کی بنیاد پڑی۔
​یہ تعلیمی تقسیم مدارس نے نہیں کی، بلکہ یہ انگریز کی مجبوری اور سازش کا نتیجہ تھی، جس کے جواب میں مدارس نے دینِ اسلام کی بقا کا بیڑا اٹھایا۔
​وہ تحریک جو چار پانچ پرائیویٹ مدارس سے شروع ہوئی تھی، اپنے اکابرین کے اخلاص اور ایثار کی بدولت آج پورے جنوبی ایشیا میں ایک لاکھ سے زائد مدارس کا ایسا جال بن چکی ہے، جس سے کروڑوں افراد سیراب ہو چکے ہیں۔ آج دنیا اگر مدارس پر تنقید کرتی ہے، تو وہ ان کے خلوص کو نہیں دیکھتی۔ اگر کسی سرکاری افسر کی مراعات اور تنخواہ کا موازنہ مسجد کے امام، مدرسے کے معلم یا دارالافتاء کے مفتی کے قلیل مشاہرے سے کیا جائے، تو زمین و آسمان کا فرق نظر آئے گا۔ لیکن یہ ہمارے علماء کی قناعت، ایثار اور جذبۂ ایمانی ہے ، جو انہیں اپنے اکابرین سے ورثے میں ملا ہے، جس کی بدولت وہ آج بھی قوم و ملت کی دینی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دن رات سرگرمِ عمل ہیں۔ ملا نظام الدین سہالویؒ نے 75 برس کی عمر میں، 9 جمادی الاولیٰ 1161ھ (مطابق مئی 1748ء) کو اس دارِ فانی سے کوچ کیا۔ "فاضل قدوۂ دین و دنیا” آپ کی تاریخِ وفات ہے۔
​آپ کی تصانیف علم کا سمندر ہیں، جن میں شرح مسلم الثبوت (صبح صادق)، حاشیہ صدرا، حاشیہ شمس بازغہ، حاشیہ بر حاشیہ قدیمہ، شرح تحریر الاصول، حاشیہ شرح عضدیہ، مناقب رازقیہ (فارسی)، اور شرح مبارزیہ شامل ہیں۔ اگرچہ یہ کتب نہایت دقیق اور علمی شاہکار ہیں، مگر سچ یہ ہے کہ ملا نظام الدین سہالوی کی اصل شہرت ان کی کتب سے زیادہ ان کے مرتب کردہ "درسِ نظامی” کی بدولت ہے۔ درسِ نظامی کے مدارس اسلامیہ کسی بھی ملک بالخصوص برصغیر (بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش) کے مذہبی، ثقافتی اور سماجی تانے بانے میں ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی ضرورت اور اہمیت صرف مذہبی دائرے تک محدود نہیں ہے، بلکہ ملکی سالمیت، امن اور عوامی فلاح و بہبود سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔
​ملک اور معاشرے کے لیے ان مدارس کی ضرورت کے چند اہم ترین اسباب درج ذیل ہیں: 1.
​مدارس اسلامیہ ملک کے ان غریب، یتیم اور پسماندہ طبقات تک تعلیم پہنچاتے ہیں جہاں تک عموماً سرکاری یا مہنگے پرائیویٹ اسکولوں کی رسائی نہیں ہوتی۔ یہ مدارس نہ صرف مفت تعلیم دیتے ہیں، بلکہ لاکھوں طلبہ کے لیے قیام و طعام (رہائش اور کھانا) اور طبی سہولیات کا انتظام بھی بالکل مفت کرتے ہیں۔ یہ ریاست کے تعلیمی اور سماجی بوجھ کو بہت حد تک کم کرتا ہے۔ 2. ایک پرامن ملک کے لیے صرف ڈگری ہولڈرز کی نہیں، بلکہ باکردار شہریوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ درسِ نظامی کا نصاب طلبہ میں: امانت داری، سچائی اور والدین کا احترام پیدا کرتا ہے۔ بڑوں کا ادب، چھوٹوں پر شفقت اور پڑوسیوں کے حقوق کی پاسداری سکھاتا ہے۔ جرائم، نشہ آوری اور بے راہ روی سے روک کر معاشرے کو ایک پرامن ماحول فراہم کرتا ہے۔3. کسی بھی ملک کے مسلمانوں کے لیے اپنی مذہبی اقدار، تاریخ اور سائنسی و ادبی ورثے سے جڑے رہنا ضروری ہے۔ یہ مدارس قرآن، حدیث، فقہ اور عربی و فارسی زبان و ادب کو زندہ رکھ کر نئی نسل کا رشتہ اپنے ماضی سے جوڑے رکھتے ہیں۔ اگر یہ مدارس نہ ہوں تو نئی نسل اپنی اصل پہچان کھو سکتی ہے۔ ​4. مدارس کے فضلاء (فارغ التحصیل طلبہ) معاشرے میں مختلف اہم ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں جو کسی بھی ملک کے سماجی نظام کو چلانے کے لیے ناگزیر ہیں:
​مذہبی رہنمائی: مساجد میں امامت، خطابت اور نکاح و جنازہ جیسے اہم فرائض انجام دینا۔ خیراتی کام: سیلاب، زلزلہ یا کسی بھی ناگہانی آفت کے وقت مدارس کے اساتذہ اور طلبہ صفِ اول میں کھڑے ہو کر بلا تفریقِ مذہب و ملت عوامی خدمت کرتے ہیں۔
​خاندانی تنازعات کا حل: دار الافتاء اور مقامی پنچائتوں کے ذریعے خاندانی اور مالی تنازعات کو عدالتوں میں جائے بغیر باہمی رضامندی سے حل کرانا، جس سے سرکاری عدالتوں کا بوجھ کم ہوتا ہے۔ 5. حب الوطنی اور امن و آشتی کا فروغ
​اسلامی مدارس کا بنیادی پیغام امن، محبت اور رواداری ہے۔ درسِ نظامی میں وطن سے محبت اور ملکی قوانین کی پاسداری کو ایمان کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ ادارے اپنے طلبہ کو انتہا پسندی اور ملک دشمن سرگرمیوں سے دور رکھ کر ملک کی اندرونی سلامتی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
​خلاصہ:
مدارسِ اسلامیہ کسی بھی ملک کے لیے ایسے "فری تعلیمی اور فلاحی مراکز” ہیں جو حکومت سے ایک روپیہ لیے بغیر ملک کو بااخلاق، امن پسند اور وفادار شہری فراہم کرتے ہیں۔ آج کے دور میں جہاں دنیا مادی ترقی کی طرف بھاگ رہی ہے، وہاں ان مدارس کی ضرورت معاشرے میں روحانیت اور انسانیت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ ہےموجودہ دور (موجودہ دہائی اور دورِ حاضر کے حالات) کے تناظر میں، جہاں ٹیکنالوجی، بدلی ہوئی معیشت اور نئے سماجی چیلنجز سامنے آئے ہیں، مدارسِ اسلامیہ کی ضرورت اور ان کا کردار مزید حساس اور اہم ہو گیا ہے۔
​موجودہ حالات کے تقاضوں کے مطابق مدارس کی ضرورت کے چند جدید اور اہم پہلو درج ذیل ہیں: 1 آج سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے دور میں نوجوان نسل کو شدید فکری انتشار، الحاد (Atheism)، اور تشکیک (Skepticism) کا سامنا ہے۔ مغربی تہذیب اور مادہ پرستانہ نظریات مسلم نوجوانوں کے عقائد پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ایسے میں: درسِ نظامی کے فضلاء اپنے روایتی اور عقلی علوم کے ذریعے ان جدید فکری فتنوں کا سائنسی اور منطقی جواب فراہم کرتے ہیں۔
​وہ نوجوانوں کو ذہنی خلفشار سے نکال کر صراطِ مستقیم پر قائم رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ 2. موجودہ حالات میں جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، ڈیجیٹل میڈیا اور آن لائن تجارت (E-commerce) تیزی سے پھیل رہے ہیں، وہاں روز نئے شرعی اور اخلاقی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ مثلاً: ڈیجیٹل کرنسی (کرپٹو)، سائبر کرائمز، اور آن لائن کاروبار کے شرعی احکامات۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ ایسے باصلاحیت علماء موجود ہوں جو جدید ٹیکنالوجی کو بھی سمجھتے ہوں اور شریعت پر بھی گہری نظر رکھتے ہوں، تاکہ وہ امت کی درست تکنیکی و شرعی رہنمائی کر سکیں۔ 3. موجودہ دور میں بعض عناصر کی طرف سے نفرت اور اسلاموفوبیا (Islamophobia) کو فروغ دے کر معاشرتی امن کو بگاڑنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ ایسے نازک حالات میں مدارس کا کردار اس لیے ضروری ہے کہ:
​وہ اپنے طلبہ کو دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ حسنِ سلوک، رواداری اور ملکی یکجہتی کا درس دیتے ہیں۔مدارس غلط فہمیوں کو دور کر کے ملک کے مختلف طبقات کے درمیان امن کا پل بنتے ہیں۔ 4. موجودہ حالات کا ایک بڑا تقاضا یہ ہے کہ علماء وقت کی زبان میں بات کریں۔ آج کے بہت سے مدارس نے اپنے نصاب میں کمپیوٹر، انگریزی زبان، اور بنیادی سائنس و ریاضی کو شامل کیا ہے۔ اس سے ایسے علماء تیار ہو رہے ہیں جو نہ صرف مسجد و محراب کو سنبھالتے ہیں، بلکہ ملک کے انتظامی، تعلیمی اور صحافتی میدانوں میں بھی مثبت کردار ادا کرنے کے قابل ہو رہے ہیں۔ 5. آج کا انسان مادی طور پر جتنا ترقی کر رہا ہے، ذہنی اور روحانی طور پر اتنا ہی تنہائی، ڈپریشن اور بے سکونی کا شکار ہے۔ خاندانی نظام ٹوٹ رہے ہیں اور مادی دوڑ نے انسان کو مشین بنا دیا ہے۔
​مدارسِ اسلامیہ خانقاہی اور روحانی تربیت کے ذریعے انسان کو قناعت، شکر اور ذہنی سکون کی دولت سے مالا مال کرتے ہیں، جو موجودہ دور کے بے چین معاشرے کے لیے ایک شفا خانے کی مانند ہے۔موجودہ وقت کا سب سے بڑا سچ:
آج ملک کو ایسے شہریوں کی ضرورت ہے جو ٹیکنالوجی کے لحاظ سے جدید ہوں، لیکن اخلاق کے لحاظ سے امین اور مخلص ہوں۔ مدارسِ اسلامیہ مسلم معاشرے کو وہ "اخلاقی بنیاد” فراہم کرتے ہیں جس کے بغیر کوئی بھی مادی ترقی ملک کو تباہی سے نہیں بچا سکتی۔***

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے