محمد یوسف رحیم بیدری،بیدر،کرناٹک.
1-مطالبہ
روزانہ ایک ہی مطالبہ تھاکہ دولت بڑھے، خوشحال رہیں تاکہ دنیا ہماری عزت کرسکے. انھیں انکی نیت کے مطابق ملتا رہا مگر افسوس یہ ہے کہ انھوں نے دنیا سے آگے بڑھ کر آخرت میں ملنے والی عزت اور اعزاز کے بارے میں نہیں سوچا. اگر وہ سوچتے تو وہ بھی مل جاتا. ہائے رے بدبختی
2-عشق
دونوں آپس میں عشق کرتے تھے. پھر حالات دگرگوں ہوگئے تو عشق کا بھوت دماغ سے اتر گیا.دل وہیں اٹکا رہا مگر دماغ نے غیر سے مصالحت کرتے ہوئے زندگی کی گاڑی کو آگے بڑھانے میں اہم رول ادا کیا
3-روشنی
میں نے کہا ”روشنی سونے والے پر بھی اثر کرتی ہے” رؤف لالہ نے طنزیہ انداز میں کہا ”اجی مولوی صاحب! روشنی عصر ہی نہیں مغرب، عشاء اور فجر بھی کرتی ہے”
ظالم نے بات تو سہی کہی چونکہ اس نے طنزاً یہ بات کہی تھی، اس لئے مجھے اس کی بات کو نظر انداز کرکے آگے بڑھنا پڑا
4-گینگ
باس سے ہٹ کر چلنا جان جوکھم میں ڈالنا تھا. ایک دن اس نے باس ہی کا کام تمام کرڈالا اور ساتھیوں سے کہا ”تم سب آج سے آزاد ہو، جیسی چاہے زندگی کرلو لیکن اس بدترین غلامی کو پوری طرح چھوڑ دو” سنا ہے کہ اس شہر میں پچھلے سات سال سے کوئی باس نہیں ہے اور نہ ہی کوئی گینگ ہے
5-کارنامہ
اس کی زندگی میں کارنامہ کیلئے کوئی جگہ نہیں تھی اور وہ بھی اس بات کا قائل تھا. اور جب کبھی اسکی زندگی کے کارنامے کے بابت پوچھا جاتا تو وہ کارنامے کے بجائے ”سائیکل نامہ” پیش کردیتا جو ملک کے موقر ماہنامہ ”آجکل” کی کسی اشاعت میں شائع ہوا تھا.
