یہ کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے:ارو ندکمارارلی سابق MLC

بیدر۔ 7/جولائی (محمدیوسف رحیم بیدری): جب الیکشن کمیشن میپنگ کر چکا ہے،تو پھر اس میں کسی بھی قسم کاگول مال کرنا ممکن نہیں ہے۔ اینومریشن فارم میں جو میپنگ ہوچکی ہے فوٹولگاکر الیکشن کمیشن نے دے دیاہے تو اس میں کس طرح ہیراپھیری کرسکتے ہیں؟یہ سوال جناب اروندکمارارلی سابق ایم ایل سی بید رنے ایک پریس نوٹ میں کیا ہے۔ انھوں نے آگے بتایاکہ SIR کا فارم بھرنا آسان کام نہیں ہے۔ گریجویٹ کے لیے بھی اسے بھرنا مشکل ہورہاہے۔ قانون اور الیکشن کمیشن کے مطابق کمیونٹی ہالز اور مساجد میں ناخواندہ لوگوں کی مدد کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بی جے پی اور جے ڈی ایس لیڈروں کو کمیشن سے جو کہناہے کہنے دیں لیکن اسے گھناؤنے جرم کے طور پر پیش کرکے خوف پیدا کرنا درست نہیں۔

اروندکمارارلی نے سختی کے ساتھ کہاکہ مرکزی وزراء پرہلاد جوشی، کمار سوامی، شوبھا کرندلاجے اور سابق مرکزی وزیر بھگونت کھوبا کے بے بنیاد اور تشویشناک بیانات کی میں سخت مذمت کرتا ہوں۔ بی جے پی لیڈروں نے الیکشن کمیشن میں پہلے ہی شکایت درج کرائی ہے،جس کسی کا بنگلہ دیش اور پاکستان سے تعلق پایاگیاہے اس کی ایک مثال تو وہ دیتے۔ خواہ مخواہ کے دئے جارہے یہ بیانات دراصل عوام کو الجھانے کیلئے ہیں۔ عوام میں دشمنی پیدا کرنا بند کریں اور عوام کی مدد کوآگے آئیں۔ ریاست کے لوگوں کو بی جے پی کی چالوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیمپوں میں اجتماعی طور پر اینومریشن فارم بھر سکتے ہیں، کیوں کہ جب آپ کچھ نہیں جانتے ہیں تو دوسروں سے مدد لینے میں حرج نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے