لکھنؤ، 23 جولائی: راشٹریہ سماجک کاریہ کرتا سنگٹھن کے کنوینر محمد آفاق نے دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ اور نوجوانوں پر مبینہ لاٹھی چارج اور بغیر وردی میں موجود افراد کے کردار کی غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے بھارت کی معزز صدرِ جمہوریہ کو ایک تفصیلی یادداشت ارسال کی ہے۔یادداشت میں کہا گیا ہے کہ اگر اپنے مطالبات کو پْرامن اور جمہوری انداز میں پیش کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں پر بلاجواز طاقت کا استعمال کیا گیا ہے تو یہ جمہوری اقدار، آئینِ ہند کی طرف سے عطا کردہ اظہارِ رائے کی آزادی اور پْرامن اجتماع کے حق کے منافی تصور کیا جا سکتا ہے۔محمد آفاق نے اپنی یادداشت میں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ مختلف ذرائع ابلاغ، ویڈیوز اور عوامی طور پر دستیاب بصری شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جائے وقوعہ پر بعض افراد پولیس کی وردی کے بغیر مظاہرین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے نظر آئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان حقائق کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے یہ واضح کیا جائے کہ یہ افراد کون تھے، انہیں کس اختیار کے تحت کارروائی کا حق حاصل تھا اور ان کی قانونی حیثیت کیا تھی۔یادداشت میں صدرِ جمہوریہ سے درخواست کی گئی ہے کہ پورے واقعے کی آزادانہ اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں، موقع پر موجود تمام متعلقہ افراد کی شناخت واضح کی جائے، دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کو محفوظ رکھتے ہوئے مکمل تحقیقات کرائی جائیں، اور اگر کسی افسر یا دیگر فرد کی جانب سے قانون یا مقررہ ضابطہ کار کی خلاف ورزی پائی جائے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔راشٹریہ سماجک کاریہ کرتا سنگٹھن نے کہا ہے کہ صرف غیر جانبدارانہ تحقیقات ہی سچائی کو سامنے لا سکتی ہیں اور اس سے جمہوری اداروں اور قانون کی حکمرانی پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔اس موقع پر محمد آفاق (قومی کنوینر، راشٹریہ سماجک کاریہ کرتا سنگٹھن)، شہزاد قریشی (سماجی کارکن)، پی سی کریل (راشٹریہ بھاگیداری آندولن)، حاجی محمد فہیم صدیقی (سماجی کارکن)، عثمان انصاری (قومی کنوینر، آل انڈیا قومی مجلس اتحاد)، جہاں آرا (صدر، ویمن مسلم پرسنل لا بورڈ)، محمد سلمان (سماجی کارکن)، زاہدہ بہن (سماجی کارکن)، رضوان قریشی (سماجی کارکن)، الماس قریشی (سماجی کارکن)، حلیمہ (سماجی کارکن) اور شمیم وارثی (سماجی کارکن) موجود رہے۔
مذکورہ اطلاع راشٹریہ سماجک کاریہ کرتا سنگٹھن کے کنوینر محمد آفاق نے پریس ریلیز کے ذریعہ دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے