رضا ابرار ندوی

کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار اس کے نوجوانوں پر ہوتا ہے، اور نوجوانوں کی اصل طاقت ان کی تعلیم، محنت اور قابلیت ہوتی ہے۔ اگر یہی نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں مایوس ہو جائیں، اگر انہیں یہ محسوس ہونے لگے کہ ان کی برسوں کی محنت چند بدعنوان لوگوں کی سازشوں کی نذر ہو سکتی ہے، تو یہ صرف ایک فرد یا ایک خاندان کا نقصان نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل کے لیے ایک خطرناک اشارہ ہے۔
آج ملک میں پیپر لیک کا مسئلہ محض ایک امتحان کی خرابی نہیں رہا، بلکہ یہ نوجوانوں کے اعتماد، تعلیمی نظام کی وقعت اور ریاستی ذمہ داری کا امتحان بن چکا ہے۔ لاکھوں طلبہ دن رات ایک کرکے، اپنی خواہشات قربان کرکے، اپنے والدین کی امیدوں کو سینے سے لگائے امتحانات کی تیاری کرتے ہیں۔ بہت سے نوجوان ایسے ہوتے ہیں جو مالی مشکلات کے باوجود کتابیں خریدتے ہیں، کوچنگ کرتے ہیں، گھنٹوں لائبریریوں میں بیٹھتے ہیں اور اپنی جوانی کا قیمتی وقت صرف اس امید پر گزارتے ہیں کہ ایک دن ان کی محنت انہیں ایک باعزت مقام تک پہنچائے گی۔
لیکن جب امتحان سے پہلے ہی سوالیہ پرچہ لیک ہو جائے، جب چند لوگ پیسے یا اثر و رسوخ کے بل پر کامیابی خرید لیں، تو سب سے زیادہ نقصان اس نوجوان کو ہوتا ہے جس نے اپنی کامیابی کے لیے صرف محنت پر بھروسہ کیا تھا۔ اس لمحے صرف ایک امتحان ہی مشکوک نہیں ہوتا، بلکہ نوجوان کے دل میں انصاف، میرٹ اور نظام پر اعتماد بھی متزلزل ہو جاتا ہے۔
اسی پس منظر میں اگر کوئی سماجی کارکن یا عوامی شخصیت بھوک ہڑتال جیسا پُرامن راستہ اختیار کرتی ہے تو اس احتجاج کو صرف ایک فرد کی ضد یا سیاسی سرگرمی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ بھوک ہڑتال ایک ایسا طریقۂ احتجاج ہے جس میں انسان اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر حکمرانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا مقصد تصادم پیدا کرنا نہیں بلکہ حکمرانوں کو یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ معاملہ معمولی نہیں بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل سے وابستہ ہے۔
حکومت سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایسے احتجاج کو سنجیدگی سے لے۔ ایک ذمہ دار حکومت کی شان یہ نہیں کہ وہ صرف خاموش رہے یا وقت گزرنے کا انتظار کرے، بلکہ اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ احتجاج کرنے والوں سے بات کرے، ان کے مطالبات کا جائزہ لے اور عوام کو یہ یقین دلائے کہ ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
پیپر لیک صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں بلکہ یہ نظام کی نگرانی، شفافیت اور جوابدہی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ اگر بار بار امتحانات منسوخ ہوں، نوجوان سڑکوں پر احتجاج کریں اور ہر چند ماہ بعد کوئی نیا پیپر لیک سامنے آ جائے تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اصلاحات کی ضرورت صرف وقتی نہیں بلکہ بنیادی سطح پر ہے۔
آج ملک کے کروڑوں نوجوان ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں کہ آخر ان کی محنت کی حفاظت کون کرے گا؟ اگر وہ برسوں کی تیاری کے بعد بھی اس خوف میں مبتلا رہیں کہ کہیں امتحان ہی منسوخ نہ ہو جائے یا پرچہ پہلے سے فروخت نہ ہو چکا ہو، تو پھر محنت کرنے کا جذبہ کیسے باقی رہے گا؟
اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت صرف یقین دہانیاں نہ دے بلکہ ایسے مؤثر اقدامات کرے جن سے پیپر لیک کا مستقل خاتمہ ممکن ہو۔ امتحانی نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے محفوظ بنایا جائے، ذمہ دار اداروں کی جوابدہی یقینی بنائی جائے اور ایسے قوانین نافذ کیے جائیں جو اس جرم کو ناقابلِ برداشت بنا دیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر کسی وزیر، افسر یا کسی بھی اعلیٰ عہدے پر فائز شخص کی غفلت، لاپروائی یا شمولیت ثابت ہو تو اس کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ قانون کی طاقت اسی وقت محسوس ہوتی ہے جب وہ کمزور اور طاقتور دونوں پر یکساں نافذ ہو۔ اگر بااثر افراد بھی اپنے عہدوں سے محروم ہوں، ان کے خلاف مقدمات قائم ہوں اور انہیں قانون کے مطابق سزا ملے تو یہ پورے نظام کے لیے ایک مضبوط پیغام ہوگا کہ عوام کے مستقبل سے کھیلنے کی کسی کو اجازت نہیں۔
ایسی مثالیں قائم کرنا اس لیے بھی ضروری ہیں تاکہ آئندہ جو بھی شخص کسی وزارت، امتحانی ادارے یا انتظامی منصب پر فائز ہو، وہ اپنے اختیارات کو ذمہ داری سمجھے، استحقاق نہیں۔ اسے معلوم ہو کہ اگر اس کی غفلت سے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل متاثر ہوا تو اس کی کرسی بھی محفوظ نہیں رہے گی۔ یہی احساس احتساب کسی بھی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف حکومت کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا بھی ہے۔ والدین، اساتذہ، دانشور، میڈیا اور سماجی تنظیمیں سب اس ذمہ داری میں برابر کی شریک ہیں کہ وہ نوجوانوں کی آواز کو دبنے نہ دیں۔ جس معاشرے میں طلبہ کے مسائل کو نظر انداز کر دیا جائے، وہاں ترقی کا خواب بھی ادھورا رہ جاتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نوجوانوں کو صرف صبر کا درس نہ دیں بلکہ انہیں انصاف بھی دیں۔ ان کی محنت کو عزت دیں، ان کے خوابوں کی حفاظت کریں اور انہیں یقین دلائیں کہ اس ملک میں کامیابی صرف قابلیت، دیانت داری اور مسلسل محنت کی بنیاد پر حاصل ہوگی، نہ کہ سفارش، رشوت یا بدعنوانی کے ذریعے۔
میں بس اتنا حکومت، انتظامیہ اور تمام ذمہ دار اداروں سے یہی اپیل کروں گا کہ نوجوانوں کی اس خاموش چیخ کو سنیں۔ بھوک ہڑتال پر بیٹھے افراد کی صحت اور جان کی حفاظت کریں، ان سے بامعنی مذاکرات کریں اور ایسا مضبوط نظام قائم کریں جو آنے والی نسلوں کو یہ اعتماد دے کہ ان کے خواب محفوظ ہیں، ان کی محنت محفوظ ہے اور ان کا مستقبل کسی پیپر لیک یا بدعنوانی کی نذر نہیں ہوگا۔
کیونکہ جب نوجوانوں کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے تو قوم مضبوط ہوتی ہے، اور جب نوجوانوں کے خواب ٹوٹتے ہیں تو صرف ایک فرد نہیں بلکہ پوری قوم اپنا مستقبل کھونے لگتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے