عبد المقیت

محمد علی جوہر یونیورسٹی
محمد علی جوہر یونیورسٹی

ریاست اترپردیش کے ضلع رامپور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی ایک بار پھر قومی سیاست، عدالتی مباحث اور تعلیمی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ حال ہی میں رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کی جانب سے یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو مبینہ طور پر بغیر منظور شدہ نقشے کے تعمیر شدہ قرار دیتے ہوئے انہیں منہدم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کی گئی، اس لیے کارروائی ناگزیر ہے جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک قانونی تنازعہ نہیں بلکہ اس نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ہندوستان میں تعلیمی ادارے سیاسی کشمکش سے آزاد رہ پائیں گے؟ کیا کسی ادارے کی قانونی خامیوں کی سزا وہاں تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں طلبہ کو ملنی چاہیے؟ اور کیا ایسے معاملات میں ریاست کی ذمہ داری صرف قانون نافذ کرنا ہے یا تعلیم کے تسلسل کو یقینی بنانا بھی ہے؟
قارئین! 8 سال کے طویل محنت و مشقت و انتھک کوششوں کے بعد اعظم خان نے جو قوم و ملت کے لئے خواب دیکھا تھا وہ شرمندہ تعبیر ہوا لیکن یہ یونیورسٹی اپنے شروعاتی دنوں سے ہی پس و پیش و لوگوں کے بحث کا حصہ رہی۔ جن میں نہ صرف حکومت بلکہ مختلف جماعتوں و تنظیموں نے اپنے نظریات و خیالات کے بھینٹ چڑھایا۔ جس کی وجہ سے یونیورسٹی اکثر اخبارات کے سرخیوں میں رہی۔ ماضی میں انھیں وجوہات کے مدنظر اترپردیش کی موجودہ حکومت نے سیاسی رنجش و آپسی اختلافات کے بنیاد پر یونیورسٹی کی زمین پر فرضی اور غیر قانونی و جبرن قبضہ کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ اس طرح کی یونیورسٹی کو بند کر دینا بہتر ہے جو غیر قانونی طریقے سے چلائی جا رہی ہے۔
یہ سب آخر کیوں؟ محض اس لئے کہ یونیورسٹی آزادی کے متوالے، جنگ آزادی میں جان کی قربانی دینے والے مولانا محمد علی جوہر کے نام سے منسوب ہے؟ یا اس لئے کہ یہ اقلیتوں کی یونیورسٹی ہے؟ یا پھر یہ کہ اس کے بانی محمد اعظم خان ہیں؟ نہیں جوہر یونیورسٹی! شاید یہ تیرے مسلم ہونے کی سزا ہے؟
اگر ایسا ہے تو پھر کیا ہمارے وزیر اعظم نے ماضی کے دنوں میں جو کہا تھا کہ میں اپنے مسلمان بچوں کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں سائنس و ٹیکنالوجی دیکھنا چاہتا ہوں، یہ حکومت ان کے باتوں کی کھلی طور پر توہین کر رہی ہے یا نہیں؟ یا پھر ہندوستان کا اقلیتی طبقہ یہ سمجھے کہ وزیراعظم کے الفاظ صرف جملہ ہوتے ہیں، جو محض چند لمحوں کے لئے لبھانے کے لئے ہوتے ہیں؟ کیا اترپردیش سرکار کی نظروں میں وزیراعظم کے قول کی کوئی اہمیت نہیں؟ اور تو اور اترپردیش سرکار بروقت اپنے حکومت کے نشے و طاقت کے زور پر یہ سب ناپاک عزائم انجام دے رہی ہے جو کہ نہایت ہی تفتیش ناک ہے۔
برسوں کی محنت سے وجود میں آنے والا یہ ادارہ آج انجینئرنگ، میڈیکل، قانون، زراعت، سائنس، کامرس، اسلامیات، سماجیات اور دیگر شعبوں میں ہزاروں طلبہ کو تعلیم فراہم کر رہا ہے۔ اس کے قیام کا مقصد مغربی اترپردیش میں معیاری اعلیٰ تعلیم کی فراہمی اور خاص طور پر محروم طبقات کو تعلیمی مواقع فراہم کرنا تھا۔ تاہم یونیورسٹی کا سفر ابتدا ہی سے تنازعات سے گھرا رہا۔ کبھی زمین کے حصول پر سوال اٹھے، کبھی تعمیرات پر اعتراض ہوا، کبھی انتظامی بے ضابطگیوں کے الزامات لگے اور کبھی خود اعظم خان مختلف مقدمات میں قانونی کارروائیوں کا سامنا کرتے رہے۔ ان تمام تنازعات نے یونیورسٹی کو ہمیشہ سیاسی مباحث کا حصہ بنائے رکھا۔
حالیہ معاملے میں رامپور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صرف چند عمارتوں کے نقشے منظور شدہ تھے جبکہ باقی 38 عمارتیں قانونی منظوری کے بغیر تعمیر کی گئیں، اس لیے انہدامی کارروائی قانون کے مطابق ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یقیناً قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا کیونکہ کسی بھی ادارے کو ضابطوں سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اسی کے ساتھ ایک دوسرا سوال بھی اہم ہے کہ کیا ایسے معاملات میں ایسا حل تلاش نہیں کیا جا سکتا جس سے قانون کی عمل داری بھی برقرار رہے اور طلبہ کا مستقبل بھی محفوظ رہے؟
سماج وادی پارٹی نے اس کارروائی کو سیاسی انتقام سے تعبیر کیا ہے۔ پارٹی کے صدر اکھلیش یادو متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ اعظم خان کے خلاف کارروائیاں محض قانونی نہیں بلکہ سیاسی محرکات بھی رکھتی ہیں۔ دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی رہنما آکاش سکسینہ اور حکومتی حلقے مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ حکومت صرف قانون پر عمل کر رہی ہے اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کسی ایک فرد یا ادارے تک محدود نہیں۔
یہ اختلاف اپنی جگہ، مگر اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ خاموش کردار وہ ہزاروں طلبہ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی سال اس ادارے کے سپرد کیے ہیں۔ ان کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر عمارتیں منہدم ہوتی ہیں تو ان کی تعلیم، امتحانات، ڈگریاں اور مستقبل کا کیا ہوگا؟
ہندوستان کی آئینی روح تعلیم کے فروغ، مساوی مواقع اور اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے کا حق دیتی ہے۔ اسی لیے جب بھی کسی بڑے تعلیمی ادارے پر ایسی کارروائی ہوتی ہے تو بحث صرف اینٹ اور پتھر تک محدود نہیں رہتی بلکہ آئینی حقوق، تعلیمی پالیسی اور ریاستی ذمہ داریوں تک پہنچ جاتی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں ملک کے مختلف سیاسی رہنماؤں نے بھی تعلیم کو قومی ترقی کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے کئی رہنما بارہا یہ مؤقف رکھتے رہے ہیں کہ اختلافات خواہ کتنے ہی شدید کیوں نہ ہوں، تعلیمی اداروں کو سیاسی کشمکش کا میدان نہیں بننا چاہیے۔ دوسری جانب حکومت مسلسل اس بات پر زور دیتی ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کسی بھی ادارے کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ یہی دو بیانیے آج جوہر یونیورسٹی کے معاملے میں بھی آمنے سامنے نظر آتے ہیں۔
اس تنازعہ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اگر واقعی تعمیرات غیر قانونی تھیں تو متعلقہ اداروں نے برسوں تک خاموشی کیوں اختیار کیے رکھی؟ کیا منظوری کے مرحلے میں انتظامیہ کی کوئی ذمہ داری نہیں بنتی؟ اگر ایک وسیع و عریض کیمپس کئی برسوں تک قائم رہا، ہزاروں طلبہ زیر تعلیم رہے، مختلف سرکاری ادارے اس سے وابستہ رہے، تو پھر اچانک انہدامی کارروائی کا فیصلہ کئی نئے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان سوالات کا جواب صرف عدالت یا حکومت ہی نہیں بلکہ متعلقہ اداروں کو بھی دینا ہوگا۔
ہندوستان اس وقت دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی رکھنے والا ملک ہے۔ نئی قومی تعلیمی پالیسی، عالمی درجہ بندی، تحقیقی معیار اور "وکست بھارت” جیسے اہداف اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب تعلیمی اداروں میں استحکام ہو۔ اگر ہر چند سال بعد کسی نہ کسی ادارے پر سیاسی یا قانونی بحران منڈلاتا رہے تو اس کا سب سے بڑا نقصان تعلیم کے شعبے کو ہی ہوگا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ عدالتیں قانون کے مطابق فیصلہ کریں، حکومت قانونی تقاضے پورے کرے اور یونیورسٹی انتظامیہ بھی اگر کسی مرحلے پر کوتاہی کی مرتکب ہوئی ہے تو اس کی اصلاح کرے۔ لیکن ان تمام اقدامات کے درمیان ایک اصول کبھی نظر انداز نہیں ہونا چاہیے اور وہ ہے طلبہ کے تعلیمی حقوق کا تحفظ۔
جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ اداروں کے استحکام، قانون کی بالادستی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا نام بھی ہے۔ تعلیمی ادارے کسی بھی قوم کی فکری بنیاد ہوتے ہیں۔ ان پر اٹھنے والا ہر سوال دراصل قوم کے مستقبل پر اٹھنے والا سوال ہوتا ہے۔
جوہر یونیورسٹی کا مقدمہ عدالتوں میں جاری رہے گا، سیاسی جماعتیں اپنے اپنے دلائل دیتی رہیں گی، حکومت اپنا مؤقف پیش کرے گی اور اپوزیشن اپنا احتجاج درج کرائے گی۔ مگر تاریخ آخرکار اسی سوال کا جواب تلاش کرے گی کہ اس پورے تنازعہ میں سب سے زیادہ نقصان کس کا ہوا؟ اگر جواب "طلبہ” ہے، تو پھر ہم سب کو بحیثیت معاشرہ اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
تعلیم کسی بھی جمہوری معاشرے کی سب سے مضبوط بنیاد ہے۔ قانون کا احترام ضروری ہے مگر اسی قدر ضروری یہ بھی ہے کہ قانون کا نفاذ اس انداز میں ہو جس سے ایک پوری نسل کے خواب ملبے تلے دفن نہ ہوں۔ یہی وہ توازن ہے جس پر ایک بالغ جمہوریت کی کامیابی کا انحصار ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے