محمد ارقم سندیلوی
دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ

 مولانا عمیس احمد ندوی
مولانا عمیس احمد ندوی

ندوۃ العلماء کا دائرۂ کار محض زبان و ادب تک محدود نہیں، بلکہ اس عظیم ادارے نے قرآنِ کریم کی صحیح تفہیم، حدیثِ نبوی ﷺ کی حکیمانہ تشریح، تفقہ فی الدین اور زبان و ادب کی لطافتوں کو اس حسنِ امتزاج کے ساتھ یکجا کیا ہے کہ علم و حکمت اور فکر و بیان کا ایک دل آویز سنگم وجود میں آتا ہے۔ اس ادارے نے ہمیشہ اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھا کہ اگر علوم و معارف کے بے بہا خزانے موجود ہوں، لیکن انہیں پیش کرنے کے لیے مؤثر اسلوب، دل نشیں تعبیر، شیریں زبان اور دلکش طرز اظہار نہ ہو ، تو ان علوم کی تاثیر محدود رہ جاتی ہے اور ان کی افادیت اپنی حقیقی وسعت تک نہیں پہنچ پاتی۔
اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ ندوۃ العلماء نے برصغیر کی دینی فکر کو نئی جہت عطا کی، زبان و ادب کو تازہ زندگی بخشی، فکر و فن کو نئی پرواز دی، قرآنِ حکیم کے مطالعے میں براہِ راست فہمِ قرآن کا ذوق پیدا کیا، اور حدیثِ نبوی ﷺ کے ایسے معتدل، محققانہ اور منصفانہ فہم کو فروغ دیا جس میں معیار صرف قوتِ دلیل ہے، نہ کہ مسلکی تعصب۔ یہی وہ اسلوب ہے جو اختلاف کو نزاع کے بجائے وسعتِ نظر میں بدل دیتا ہے، ائمۂ امت کے مقام و مرتبہ کا پورا لحاظ رکھتا ہے، اور علمی دیانت، اعتدال اور احترامِ سلف کی فضا قائم کرتا ہے۔ یہی نبوی مزاج ہے، یہی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی علمی وراثت ہے، اور یہی ندوۃ العلماء کی امتیازی شناخت بھی۔اسی بنا پر ندوۃ العلماء نے ہمیشہ اعتدال، وسطیت، اتحادِ امت، قدیم و جدید کے حسین امتزاج اور عصرِ حاضر میں اسلام کی صحیح اور مؤثر ترجمانی کو اپنا شعار بنایا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا بے پایاں شکر ہے کہ اس نے مجھے اس مبارک ادارے میں علم حاصل کرنے کی سعادت بخشی، جہاں جلیل القدر اساتذہ کی صحبتیں، عظیم الشان کتب خانے، پاکیزہ علمی ماحول اور فکر انگیز مجالس ہر طالبِ علم کی علمی و اخلاقی تعمیر میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ندوۃ العلماء کے احسانات کیف و کم کے احاطہ سے باہر ہیں،آج یہاں میری تعلیم کا تیسرا سال ہے۔ اس مختصر عرصے میں متعدد اکابر، ماہر اور صاحبِ تحقیق اساتذہ سے اکتسابِ فیض کا شرف حاصل ہوا۔ ہر ایک اپنی جگہ علم و فضل کا روشن مینار ہے، اگرچہ اپنی کوتاہی پر ہمیشہ افسوس ہوتا ہے کہ ان کے علوم سے کماحقہٗ استفادہ نہ کر سکا۔
انہی جلیل القدر اساتذہ میں ایک درخشاں اور قابلِ احترام نام استادِ محترم مولانا عمیس احمد ندوی دامت برکاتہم کا ہے، امسال جن کے حلقۂ درس میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا، اور جن کی علمی عظمت، تحقیقی بصیرت اور نبوی ذوق نے دل و دماغ پر گہرے اور دیرپا نقوش ثبت کیے۔
امسال آپ سے جامع ترمذی جیسی حدیث کی فنی اور اہم کتاب پڑھنے کی سعادت نصیب ہورہی ہے،۔ گزشتہ سال اسی کتاب کو مشہور محقق اور صاحبِ قلم مولانا فیصل احمد بھٹکلی صاحب سے پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی تھی، جن کے منفرد اسلوبِ تدریس پر چند سطور لکھنے کا موقع بھی ملا۔ اس سال مولانا عمیس احمد صاحب کے دروس سے استفادہ کرتے ہوئے اندازہ ہوا کہ ہر صاحبِ علم کی اپنی ایک الگ شناخت اور اپنی ایک مستقل علمی شان ہوتی ہے، اور مولانا کا اسلوب بھی اپنی انفرادیت، پختگی اور اثر آفرینی کے اعتبار سے نمایاں ہے۔
آپ کی سب سے نمایاں خصوصیت وضوحِ بیان ہے۔ آپ گفتگو فرماتے ہیں تو ہر جملہ اپنے اندر دلیل کی روشنی، فکر کی پختگی اور اظہار کی سلاست لیے ہوتا ہے۔ عبارت میں نہ تصنع ہوتا ہے، نہ تکلف، نہ غیر ضروری طوالت، نہ پیچیدہ اسلوب۔ بلکہ ایسی شگفتگی، ایسی روانی اور ایسی فکری شفافیت ہوتی ہے کہ دقیق سے دقیق علمی بحث بھی ہم جیسے ایک متوسط طالبِ علم کے لیے بھی قابلِ فہم بن جاتی ہے۔
مولانا عمیس احمد ندوی دامت برکاتہم کے دروس میں شریک ہو کر بارہا یہ احساس ہوتا ہے کہ علمِ حدیث محض روایات کے نقل و بیان کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مستقل ذوق، ایک خاص مزاج اور ایک زندہ علمی روایت ہے، جس کی حفاظت صرف کتابوں سے نہیں بلکہ اہلِ علم کے سینوں سے ہوتی ہے۔ مولانا اسی روایت کے امین دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے یہاں تحقیق ہے، مگر تحقیق میں اعتدال کا پہلو عیاں رہتا ہے۔ استدلال ہے، مگر استدلال میں انکسار کا عنصر شامل رہتا ہے۔ اختلاف ہے، مگر اختلاف میں انتہائی درجہ ادب غالب رہتا ہے۔ اسی طرح قوتِ رائے ہے، مگر اس کے ساتھ وسعتِ ظرف بھی کارفرما ہوتا ہے۔
علمِ حدیث میں مولانا کا امتیاز صرف روایتِ حدیث تک محدود نہیں، بلکہ روایت کے ساتھ درایت، متن کے ساتھ فہم، اسناد کے ساتھ اصول، اور فقہ کے ساتھ اعتدال کو اس خوبی سے جمع کرتے ہیں کہ حدیث محض ایک علمی متن نہیں رہتی بلکہ ایک زندہ پیغام بن کر سامنے آتی ہے۔ آپ حدیث کے الفاظ ہی نہیں پڑھاتے، بلکہ ان کے پس منظر، حکمت، فقہی جہات اور عملی روح کو بھی نمایاں فرماتے ہیں۔ اختلافی مسائل میں دلائل کا ایسا منصفانہ تجزیہ پیش کرتے ہیں کہ طالبِ علم کے اندر تحقیق، انصاف، توازن اور وسعتِ نظر کی صفات پروان چڑھنے لگتی ہیں۔
آپ کی مجلسِ درس کسی شخصیت، فقہی مکتب یا مسلک کی غیر ضروری ترجمانی کا مرکز نہیں، بلکہ دلیل کی حکمرانی کا نمونہ ہوتی ہے۔ جس رائے کو اصولِ حدیث، قواعدِ استدلال اور علمی تحقیق کی روشنی میں زیادہ راجح پاتے ہیں، پوری دیانت کے ساتھ اسی کو اختیار فرماتے ہیں، خواہ وہ امام ابو حنیفہؒ کی ہو یا کسی دوسرے امام کی۔ خود مولانا بھی متعدد مواقع پر واضح فرماتے ہیں کہ ان کا مقصود کسی مسلک کی وکالت نہیں، بلکہ حق کی تلاش اور دلیل کی اتباع ہے۔
اگر امام ترمذیؒ یا کسی دوسرے محدث و فقیہ کے کسی قول پر گفتگو کی ضرورت پیش آئے تو نہایت مؤدبانہ، متوازن اور تحقیقی انداز اختیار فرماتے ہیں۔ نہ اسلوب میں جارحیت ہوتی ہے، نہ بے جا تاویلات، نہ لاحاصل مناظرانہ مباحث، بلکہ ہر بات وقار، احترام اور مضبوط علمی استدلال کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔
رواۃِ حدیث پر گفتگو ہو تو اختصار میں جامعیت اور جامعیت میں تحقیق کی شان نمایاں ہوتی ہے۔ متون اور اسناد کے دقیق اشکالات و اضطرابات کو اس مہارت، اور سہولت کے ساتھ واضح فرماتے ہیں کہ مشکل سے مشکل مباحث بھی آسان محسوس ہونے لگتے ہیں۔ خصوصاً جامع ترمذی جیسے دقیق ذخیرۂ حدیث کو جس حسنِ ترتیب، فکری گہرائی اور تدریسی مہارت کے ساتھ پڑھاتے ہیں، وہ اہلِ علم کے لیے بھی باعثِ تحسین ہے۔
درس کے دوران آپ وقتاً فوقتاً احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں اصلاح و تربیت بھی فرماتے رہتے ہیں۔ نام و نمود، شہرت طلبی، بے مقصد گفتگو اور غیر ذمہ دارانہ اظہارِ رائے سے ہمیشہ اجتناب کی تلقین کرتے ہیں۔ اس دور میں جبکہ تحقیق کی جگہ سطحیت اور مطالعے کی جگہ سرسری تبصروں نے لے لی ہے، مولانا بارہا اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ تحقیق کے بغیر نہ قلم اٹھانا چاہیے اور نہ زبان کھولنی چاہیے۔ یہ الفاظ صرف ناصحانہ الفاظ ہی نہیں رہتے بلکہ انکی عملی تصویر بھی مولانا کی شخصیت سے نمایاں رہتی ہے۔ کہنا چاہیے کہ ان الفاظ کا تعلق صرف قول سے نہیں بلکہ عمل سے بھی رہتا ہے۔
اسی مناسبت سے اکثر یہ جامع حدیث ذکر فرماتے ہیں:مَنْ صَمَتَ نَجَاحقیقت یہ ہے کہ مولانا عمیس احمد ندوی دامت برکاتہم کو دیکھ کر بارہا یہ احساس تازہ ہوتا ہے کہ وہ صرف حدیث کے مدرس نہیں، بلکہ مزاجِ حدیث کے امین ہیں۔ وہ صرف الفاظِ حدیث کی تعلیم نہیں دیتے، بلکہ حدیث کی روح، اس کا فہم، اس کے آداب اور اس کے اخلاق بھی منتقل کرتے ہیں۔ ان کی پوری شخصیت علم و تحقیق، حلم و وقار، اعتدال و انصاف، اخلاص و للہیت اور حسنِ عمل کا ایک حسین مرقع دکھائی دیتی ہے۔ ان کے دروس میں شرکت محض علمی استفادہ نہیں، بلکہ ایک ایسے ذوق کی تربیت ہے جو طالبِ علم کو تحقیق کے ساتھ تواضع، علم کے ساتھ عمل، اور اختلاف کے ساتھ حسنِ ادب بھی سکھاتا ہے۔ آج جبکہ شدت سے اختلاف کے آداب سیکھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اور لوگوں کا عموماً یہ مزاج بنتا جارہا ہے کہ لمحہ بھر میں اختلاف مخالفت کی صورت کرلیتا ہے اور پھر وہ نہ جانے کتنے کبائر ق صغائر کے ارتکاب کا ذریعہ بنتا ہے۔ اللہ محفوظ رکھے،یہ چند سطور کسی شخصیت کا مکمل تعارف نہیں، بلکہ ایک طالبِ علم کے قلب پر ثبت ہونے والے چند نقوش کی سرسری جھلک ہیں۔ اہلِ علم کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ انہی لوگوں کو ہوتا ہے جو ان کی صحبت سے فیض یاب ہوئے ہوں، اور حقیقت یہ ہے کہ ایسی شخصیات کا احاطہ قلم سے زیادہ دل کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ استادِ محترم مولانا عمیس احمد ندوی دامت برکاتہم کے علم و فضل اور عمر وعمل میں روز افزوں برکت عطا فرمائے، ان کے درس و تدریس کو امت کے لیے نافع بنائے، اور ہم جیسے طالبانِ علم کو ان کے علوم، اخلاق اور اعتدالِ فکر سے وافر حصہ عطا فرمائے۔ آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے