ڈاکٹر عبید الرحمن ندوی
استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

علامہ اقبال ؒ
علامہ اقبال ؒ

فکر اقبال کو سمجھنے کے لئے اقبال کی شخصیت کے وہ پانچ تخلیقی عناصر مثلا(1) ایمان و یقین (2) قُرآن مجید(3) عرفان نفس اور خودی(4) آہ سحر گاہی (5) مولانا جلال الدین رومی کی” مثنوی معنوی” کا مطالعہ ضروری ہے۔یہی وہ پانچ عناصر ہیں جنہوں نے اقبال کو راسخ العقیدہ ،مضبوط ایمان ،فکر سلیم، اور بلند مقام ومرتبہ عطا کیا اور اقبال کو ” اقبال” بنایا نیز اقبال کی شخصیت سازی میں ان کی پرورش کیسے ہوئی، تعلیم کہاں ہوئی اور کس ماحول میں ہوئی اس کو بھی جاننا ضروری ہے-
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اقبال نے اپنے "تصور شاہین” میں فکر اسلامی کی روح کو بہت حسین پیرائے میں بیان کیا ہے-اقبال نے اپنے ایک خط میں” تصور شاہین ” کو صاف لفظوں میں اس طرح بیان کیا ہے-"شاہین کی تشبیہ محض شاعرانہ تشبیہ نہیں ہے بلکہ اس پرندے میں اسلامی فکر کی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں- جیسے کہ (1)خوددار اور غیرت مند ہے کہ اوروں کے ہاتھ کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا-(2) بے تعلق ہے کہ آشیانہ نہیں بناتا-(3) بلند پرواز ہے-(4) خلوت نشین ہے-(5) تیز نگاہ ہے-
کہنے کی ضرورت نہیں کہ اقبال کا فکری محور دراصل قرآن کریم اور سیرت محمد رسول الله صلی الله عليہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے۔ اسلام ان کی رگ وپے میں رچ بس گیا تھا- وہ کہتے ہیں۔
شوق میری لے میں ہے شوق میری نے میں ہے
نغمہ اللہ ہو میرے رگ و پے میں ہے-
اقبال کی شاعری کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے (1) ایک اقبال کی ابتدائی شاعری کو وطنی شاعری کہا جا سکتا ہے۔ (2) دوسری قومی شاعری اور (3) تیسری خالص اسلامی شاعری کہی جا سکتی ہے-بلا مبالغہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ”فکر اقبال جہاں نور قرآں سے روشن تھی وہیں انکا قلب عشق رسول کے سوز میں شعلہ تپاں تھا ،اقبال کے افکار کی بالیدگی اور توانائی میں روح قرآن کا جس قدر حصہ ہے اسی قدر عشق رسول کی آنچ نے اس میں روشنی،گرمی اور جلا بخش دی ہے- یہ حب رسول ہی کا فیض تھا جس نے اس کی حیات کو پرسوز و تابناک اور آتشناک بنا دیا تھا-"( اقبال – شخصیت اور پیام،ص،23)
ادبیات اقبال "میں بعض ایسی کتابیں بھی ضرور ہیں، جو صیح معنوں میں فکر اقبال کی ترجمان کہی جا سکتی ہیں اور ان میں ڈاکٹر یوسف حسین کی "روح اقبال” فکر اقبال کی سب سے بہتر ترجمانی کہی جاسکتی ہے لیکن "ادبیات اقبال” کے اس "عجوبہ روزگار “ مجموعہ افکار سے فکر اقبال کے حقیقی گہر ہائے آبدار کے بحر بیکراں سے بھی موتیوں کو تلاش کرنا ہے، جو ہر کس و ناکس کا کام نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اقبال کی شخصیت اور اس کے فکری پس منظر کا جائزہ لیا جائے اور کلام اقبال سے حقیقی فکر تلاش کی جائے ۔
اقبال کی فکر ایک ایسی روشن شاہراہ ہے جس پر زندگی کے قافلے گذرے ہیں اور یہ وہ شاہراہ حیات ہے جس پر اقبال کے "مرد مومن” کے قدموں کے نشانات آج بھی اُبھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جس میں روشنی ہے ، چمک ہے، اور جگمگاہٹ ہے۔ اقبال نے یہ کبھی نہیں کہا کہ اُن کی فکر کوئی نئی فکر ہے ، اُن کا فلسفہ کوئی نیا فلسفہ ہے، انہوں نے زندگی کے لئے کسی نئے راستے کا انکشاف ” کیا ہے بلکہ اُن کا کلام اس بات کی شہادت ہے کہ حقیقی زندگی وہی ہے جو "فیضان سماوی” سے بہرہ اندوز ہو اور یہ وہی زندگی ہے جو ایک قادر مطلق، علیم و خبیر، دانا و بینا خالق و مالک ہستی کی بنائی ہوئی زندگی ہے جو اسلام کا ضابطہ حیات ہے ۔( ایضا،ص،21)
اس میں کوئی شک نہیں کہ اقبال کی فکر قرآن کی فکر بن گئی تھی – اس کی بین اور زندہ مثال ان کے کلام کا آخری مجموعہ” ارغمان حجاز” ہے- اقبال کا "مرد مومن” حقیقت میں قرآنی نظریہ کا ” انسان کامل ” ہے-
علامہ اقبال نے پروفیسر آل احمد سرور کے نام ایک خط میں لکھا ہے "میرے سامنے فاشزم اور کیمونزم یا زمانہ حال کے اور "ازم” کوئی حقیقت نہیں رکھتے- میرے عقائد کی رو سے صرف اسلام ہی ایک حقیقت ہے جو بنی نوع انساں کے لئے ہر نقطہ نگاہ سے موجب نجات ہو سکتی ہے”
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ فکر اقبال کو نوجوان نسلوں کے سامنے پيش کیا جائے اور اس سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے نوجوان نسلوں کو بے راہ روی اور اسلام مخالف راستے سے نکال کر صراط مستقیم کی طرف گامزن کیا جائے یہ وقت کی اہم ضرورت ہے-مقام افسوس یہ ہے کہ آج نئی نسل پڑھی لکھی ضرور ہے لیکن وہ قرآن کریم سے، سیرت رسول سے اور اسلامی اقدار سے کوسوں دور ہیں-
آج ہمارے گھروں میں قرآن مجید ضرور ہے لیکن ہم اس عظیم کتاب کو تعویذ، گنڈہ اور صرف برکت حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں جبکہ یہ کتاب ہدایت ہے- اسی کتاب عظیم کے ذریعے دنیا میں انقلاب آیا- بلاشبہ اقبال کی ساری فکر انگیزی قرآن مجید کے چشمہ صافی سے ماخوذ ہے – چنانچہ اس مظہر کو نوجوان نسلوں کے درمیان عام کرنا وقت کی اول ترین ضرورت ہے-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے