رضا ابرار ندوی

حضرت مولانا سلمان نسیم ندوی حفظہ اللہ
حضرت مولانا سلمان نسیم ندوی حفظہ اللہ

علم و دانش کی دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض کتابوں کے اوراق تک محدود نہیں رہتیں بلکہ اپنے کردار، فکر، تدریس اور دعوتِ دین کے ذریعے ایک عہد کی نمائندگی کرتی ہیں۔ وہ جہاں بھی قدم رکھتی ہیں وہاں علم کی خوشبو، اخلاص کی مہک اور فکر کی تازگی بکھیر دیتی ہیں۔ ایسی ہی باوقار، باعمل اور ہمہ جہت شخصیت کا نام حضرت مولانا سلمان نسیم ندوی دامت برکاتہم العالیہ ہے، جو اپنی علمی گہرائی، فکری بصیرت، بے لوث خدمات اور غیر معمولی تدریسی صلاحیتوں کے باعث اہلِ علم و دانش میں ممتاز مقام رکھتے ہیں۔
حضرت مولانا ان اہلِ علم میں سے ہیں جو فکرِ نبوی ﷺ کو اپنی زندگی کا محور و مرکز سمجھتے ہیں۔ ان کی دعوت، تدریس، تصنیف اور اصلاح کا ہر پہلو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ان کا مقصود کسی فرد یا جماعت کی عظمت کا پرچار نہیں بلکہ سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی کو عام کرنا ہے۔ وہ شخصیت پرستی کے بجائے اصول پرستی اور دلیل پسندی کے داعی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مجلس میں بیٹھنے والا انسان کسی شخصیت کا اسیر نہیں بلکہ قرآن و سنت کا طالب بن کر اٹھتا ہے۔
حضرت مولانا کی شخصیت "قدیم صالح، جدید نافع” کی عملی تفسیر دکھائی دیتی ہے۔ وہ ایک طرف اکابرِ امت کے علمی ورثے سے مضبوط تعلق رکھتے ہیں تو دوسری طرف عصرِ حاضر کے تقاضوں، نئے فکری سوالات اور بدلتے ہوئے حالات سے بھی مکمل آگاہی رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک روایت اور جدت میں کوئی تصادم نہیں، بلکہ صحیح رہنمائی کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ اسی لیے ان کے افکار میں اعتدال، وسعت اور حکمت نمایاں نظر آتی ہے۔
خطابت کے میدان میں بھی حضرت مولانا کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ وہ بےباک مقرر ہیں، لیکن ان کی بےباکی میں شائستگی، حکمت اور خیرخواہی شامل ہوتی ہے۔ وہ حق بات کہنے میں کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوتے، مگر ان کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ اختلاف بھی احترام کے دائرے میں رہتا ہے۔ ان کی گفتگو میں جذبات کے ساتھ دلائل، اور دلائل کے ساتھ اخلاص کی تاثیر شامل ہوتی ہے۔
تدریس حضرت مولانا کی شخصیت کا ایک نہایت درخشاں پہلو ہے۔ جب وہ تفسیرِ قرآن یا عربی ادب کا درس دیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے جیسے پیچیدہ ترین مباحث کو گھول کر سامعین کو پلایا جا رہا ہو۔ ان کی زبان سادہ، اسلوب دلنشیں اور انداز نہایت سہل ہوتا ہے۔ وہ دقیق علمی نکات کو ایسی آسان مثالوں سے واضح کرتے ہیں کہ طلبہ مشکل ترین موضوعات کو بھی خوش اسلوبی سے سمجھ لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دروس محض علمی نشستیں نہیں بلکہ فہم و بصیرت کی تربیت گاہ بن جاتے ہیں۔
حضرت مولانا کی علمی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔ آپ درجنوں کتابوں کے مؤلف و مرتب ہیں۔ ان کی تصانیف میں تحقیق کا وقار، اسلوب کی سلاست اور فکر کی پختگی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے مختلف دینی، علمی اور ادبی موضوعات پر گراں قدر سرمایہ چھوڑا ہے، جس سے اہلِ علم اور طلبہ یکساں طور پر استفادہ کرتے ہیں۔
صرف تصنیف و تدریس ہی نہیں بلکہ حضرت مولانا نے مختلف علمی، دینی اور سماجی اداروں کی رہنمائی بھی فرمائی ہے۔ وہ کئی اداروں کے مخلص مشیر ہیں اور اپنی حکمت، تجربے اور اخلاص سے ان اداروں کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی مشاورت میں ذاتی مفاد نہیں بلکہ دین، ملت اور معاشرے کی بھلائی مقدم ہوتی ہے۔
حضرت مولانا کی ایک نمایاں خوبی افراد سازی ہے۔ وہ صرف کتابیں نہیں لکھتے، بلکہ انسان بھی تیار کرتے ہیں۔ ان کی صحبت میں رہنے والے طلبہ اور اہلِ علم صرف معلومات حاصل نہیں کرتے بلکہ کردار، اخلاص، وسعتِ نظر اور علمی دیانت کی دولت بھی سمیٹتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے شاگرد مختلف میدانوں میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔
حضرت مولانا کو دارالعلوم ندوۃ العلماء جیسے عظیم علمی ادارے میں تدریس کا شرف حاصل ہے۔ اس ادارے کی علمی روایت، فکری اعتدال اور دعوتی مزاج کو آگے بڑھانے میں ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ وہ طلبہ کو صرف نصاب نہیں پڑھاتے بلکہ انہیں زندگی کے مقصد، علم کی ذمہ داری اور امت کی خدمت کا شعور بھی عطا کرتے ہیں۔
حضرت مولانا ان اہلِ علم میں سے ہیں جو مختلف نہج پر کام کرنے والوں سے حسنِ تعلق رکھتے ہیں۔ وہ اختلاف کو دشمنی نہیں بناتے بلکہ خیر کے ہر کام کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ان کی وسعتِ قلبی، رواداری اور اعتدال انہیں مختلف طبقات میں یکساں طور پر محترم بناتا ہے۔
ان کی زندگی حرکت، عمل اور جدوجہد کا دوسرا نام ہے۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی علمی، دعوتی یا اصلاحی سرگرمی میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں جمود نہیں بلکہ تازگی، عزم اور مسلسل محنت کا رنگ نمایاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ایک متحرک اور فعال عالمِ دین کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔
بلاشبہ حضرت مولانا سلمان نسیم ندوی دامت برکاتہم العالیہ عصرِ حاضر کی ان قابلِ قدر شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے علم کو عمل سے، فکر کو کردار سے اور دعوت کو اخلاص سے جوڑ کر ایک روشن مثال قائم کی ہے۔حضرت سے ہمارا تعلق محض ایک استاذ، عالمِ دین یا مربی کا نہیں، بلکہ وہ ہمارے بڑے بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی شفقت، بے لوث محبت، خیرخواہی اور حوصلہ افزائی ہمیشہ ہمارے لیے سرمایۂ حیات رہی ہے۔ انہوں نے ہر موقع پر بڑے بھائی کی طرح رہنمائی فرمائی، حوصلہ بڑھایا اور علمی و فکری سفر میں قدم قدم پر دستگیری کی۔ ان کی شخصیت میں شفقتِ بزرگ، اخلاصِ دوست اور محبتِ برادر یکجا نظر آتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان سے وابستگی ہمارے لیے باعثِ فخر اور اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم و عمل میں مزید برکت عطا فرمائے، ان کے فیوض کو عام فرمائے اور امتِ مسلمہ کو ان کی علمی و فکری رہنمائی سے طویل عرصے تک مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے