اعداد: محمد وسيم راعين
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، حِينَ قَالَ رَسُولُ اللهِ – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا عَدْوَي، وَلَا صَفَرَ، وَلَا هَامَةَ”، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا بَالُ الابِلِ، تَكُونُ فِي الرَّمْلِ؛ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ، فَيَجِيءُ الْبَعِيرُ الأَجْرَبُ، فَيَدْخُلُ فِيهَا، فَيُجْرِبُهَا كُلَّهَا؟ قَالَ: "فَمَنْ أَعْدَى الأوَّلَ؟ ").(متفق علیه)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کوئی بیماری کسی کو خود سے نہیں لگ جاتی ہے ، ماہ صفر کی نحوست اور مقتول کی کھوپڑی سے الو کا نکلنا سب بے اصل ہیں تو ایک اعرابی (بدو) نے کہا : تو پھر اونٹوں کا یہ حال کیوں ہو تا ہے کہ وہ صحرا میں ایسے پھر رہے ہوتے ہیں جیسے ہرن (صحت مند چاق چوبند) ، پھر ایک خارش زدہ اونٹ آتا ہے ، ان میں شامل ہو تا ہے ، اور ان سب کو خارش لگا دیتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا :” پہلے اونٹ کو کس نے بیماری لگا ئی تھی "۔؟
ہر وہ چیز جو انسان کو اس کے ارادہ اور کسی کام سے روکے وہ بدشگونی ہے۔ بد فالی اور بدشگونی کا مرض بہت ہی قدیم ہے- جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کے لوگ مختلف قسم کی بدشگونی کے شکار تھے اسی طرح ان سے قدیم قومیں بھی مختلف قسم کی توہمات میں مبتلاتھیں۔ حد تو یہ ہے کہ مختلف انبیاء کی قوموں نے انہیں منحوس گردانا ۔
بدفالی وبد شگونی کی انتہاء نہیں ہے ۔انسان مختلف چیزوں سے بدشگونی لیتا ہے۔جبکہ ایک پکا سچا موحد کا یہ عقیدہ ہے کہ نفع ونقصان کا مالک اللہ کی ذات ہے۔ زمانہ بذات خود مؤثر نہیں ہے۔ انسان کی خوشی وغمی کا تعلق زمانہ سے نہیں ہے اور نہ ہی اس پہ اس کا کوئی اثر ہے ۔وقت اور مہینہ منحوس نہیں ہے ۔
صفر کا مہینہ اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے اس مہینہ کے سلسلہ میں مختلف قسم کی بد عقیدگی لوگوں میں رائج ہے ۔ اس ماہ کو خیر وبرکت سے خالی، منحوس اور مصیبتوں کے نزول کا مہینہ سمجھتے ہیں۔ شریعت میں کسی مہینہ اور کسی دن کے خیر وبرکت سے خالی ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے – لہذا یہ سب قدیم جاہلیت کے آثار ہیں جو مختلف زمانے میں رونما ہوتے رہتے ہیں۔
"لا عدوی "جاہلیت میں لوگوں کا تصور تھا کہ بیماری بذات خود لگ جاتی ہے۔ جیسے کہ اگر ایک اونٹ کو خارش کی بیماری ہو تو اور وہ دوسرے کے پاس آئے تو دوسرا اونٹ بھی خارش زدہ ہوجاتا ہے لیکن اسلام نے اسے باطل قرار دیا کہ جب تک اللہ کی مرضی نہ ہو اس وقت تک کسی کو کوئی بیماری نہیں لگتی ہے ۔ ہاں ایسا ہوسکتا ہےکہ بسا اوقات اللہ کی مشیئت سے صحت مند کا بیمار کے پاس بیٹھنے سے بیماری کے پھیلنے کا امکان ہو اسی لئے حدیث میں کوڑھ کی بیماری والے سے بھاگنے کا حکم دیا گیا ہے اسی طرح طاعون سے متأثر علاقہ میں جانے کی ممانعت آئی ہے اور بیمار کو صحت مند کے پاس آنے کی بھی ممانعت احادیث میں موجود ہے لیکن اگر ایمان ویقین مضبوط ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
"ولا صفر” کی تشریح میں شراح حدیث نے مختلف اقوال ذکر کئے ہیں جیساکہ اہل عرب کا عقیدہ تھا کہ انسان اور جانور کے پیٹ میں سانپ جیسا ایک کیڑا ہوتا ہے جسے صفر کہتے ہیں اور متعدی ہونے کے اعتبار سے یہ خارش سے بھی زیادہ پھیلنے والا ہے تو اسلام نے اسے باطل قرار دیا ۔
صفر کی ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ جاہلیت میں جو مہینہ کی تقدیم وتأخیر میں ہیر پھیر کیا کرتے تھے وہ مراد ہے یعنی محرم کے بجائے صفر کے مہینے کو حرمت والا قرار دیتے تھے تو ان کے اس عمل کو شریعت نے باطل قرار دیا ہے ۔
تیسری تفسیر میں صفر سے مراد صفر کا مہینہ ہے کہ اس مہینہ کو منحوس اور برکت سے خالی تصور کرتے تھے اس کی نفی مقصود ہے ۔
"ولا ھامۃ” رات کے پرندوں میں سے ایک الو ہے۔ عرب کی بد عقیدگی میں سے ہے کہ اس سے بد شگونی لیتے ہوئے یہ سمجھتے تھے کہ جب وہ کسی کے گھر پہ آجائے تو یہ موت کی علامت ہے۔
یا ان کا عقیدہ تھا کہ میت کی ہڈی یا اس کی روح پرندہ کی شکل اختیار کرکے اڑتی رہتی ہے تو شریعت نے ان کی اس بد عقید گی کی بھی تردید کردی ۔
یا یہ کہا جاتا ہےکہ عرب والوں کا زعم تھا کہ اگر کسی مقتول کا بدلہ نہ لیا جائے تو وہ پرندہ کی شکل اختیار کرکے گھومتا رہتا ہے اور کہتا رہتا ہےکہ مجھے پلاؤ یعنی میرا بدلہ لو۔
” کالظباء "( ہرن کے مانند ) اونٹ کے بدن کی صفائی اور بیماری وغیرہ سے محفوظ ہونے میں ہرن سے تشبیہ دی گئی ہے ۔
کس نے پہلے اونٹ کو کھجلی لگایا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں عقلی دلیل کا سہارا لیا ہےکہ اگر بات ایسی ہے جیساکہ تمہارا کہنا ہے تو پہلے اونٹ کس سے خارش زدہ ہوا ہے اگر دوسرے اونٹ کا نام لیں گے تو اس سے تسلسل لازم آئے گا اور اگر یہ کہیں گے کہ کسی اور وجہ سے وہ خارش والا ہوا ہے تو وہ کیا وجہ ہے اس کا بیان لازم آئے گا اور اگر یہ کہیں کہ جس نے پہلے اونٹ میں بیماری لگایا ہے اسی نے دوسرے میں لگایا ہے تو مدعا ثابت ہوگیا کہ جس ذات نے پہلے اونٹ کو اس بیماری میں مبتلاکیا ہے وہ دوسرے کو اور دیگر کو بھی کھجلی لگانے پہ قادر ہے ۔
فوائد:
· اس حدیث سے جاہلیت کے مختلف عقیدے کی تردید ہوتی ہے ۔
· اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مرض بذات خود دوسرے کو نہیں لگ جاتا ہے۔
· یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان کے پاس کسی قسم کا اشکال ہوتو اسے اہل علم سے حل کرلینا چاہئے۔
· اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ افہام وتفہیم کے لئے عقلی دلیل کا سہارا لینا چاہئے۔
اللہ سبحانہ وتعالی ہمیں ہر قسم کی بدعقیدگی سے محفوظ رکھے آمین۔
