مسلم قائدین کا یہ اجلاس بھی نشستن،گفتن اور خوردن تک محدود ہوکر نہ رہ جائے
عبدالغفارصدیقی
مسلمانان ہند ان دنوں جن حالات سے دوچار ہیں، ان سے کم و بیش ہر ذی شعور انسان واقف ہے۔ موجودہ زعفرانی اقتدار نے مسلمانوں کا جینا دوبھر کردیا ہے۔دستور ہند میں دیے گئے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔ داڑھی بڑھانے، ٹوپی پہننے، ان شاء اللہ اور ماشاء اللہ کہنے پر بھی قدغن لگائی جارہی ہے۔ریاستوں کی طرف سے ایوانوں میں اکثریت کا سہارے یونیفارم سول کوڈ زبردستی نافذ کیا جارہا ہے۔جس کا مقصد صرف مسلمانوں کو پریشان کرنا ہے۔ مدارس کو پہلے صرف بدنام کیا جاتا تھا، اب ان کو نہ صرف بند کیا جارہا ہے بلکہ غیر منصفانہ طور پر منہدم کیا جارہا ہے۔ سال میں کئی مواقع ایسے آتے ہیں جب گوشت کی دوکانوں پر پابندی لگادی جاتی ہے، حالانکہ بیف ایکسپورٹ جاری رہتا ہے، اور ہمارے وزیر اعظم غیر ملکوں میں فخر سے کہتے ہیں کہ ہندوستان دنیا کا دوسرا سب سے بڑا بیف ایکسپورٹر ہے۔ اقلیتی تعلیمی اداروں پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کرکے انھیں اکثریت میں ضم کیا جارہا ہے۔مساجد کا انہدام معمول کی بات بن گئی ہے۔مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو منہدم کرنے کا حکم جاری ہوچکا ہے۔ ان سب کارروایوں سے وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے تشخص اور اپنی مذہبی شناخت سے دست بردار ہو جائیں۔ اپنے حقوق کے مطالبہ کا راگ الاپنا چھوڑ دیں۔ ملت کے یہ حالات کسی ایک ریاست میں نہیں ہیں، بلکہ پورے ملک میں ہیں۔ حکومت خواہ کسی پارٹی کی ہو،ہر ریاست میں مسلمانوں عدم تحفظ کا شکار اور دستور میں دی گئی آزادی سے محروم کیے جارہے ہیں۔
مسلمانوں کو درپیش یہ مسائل کوئی ایک دو دن کی پیدا وار نہیں ہیں۔ زوال کے اس مرحلہ تک مسلمانوں کو پہنچنے میں کئی صدیاں لگی ہیں۔ البتہ آزادی کے بعد اس زوال میں تیزی آئی ہے۔ مسلمانوں کی اس بدترین صورت حال کے ذمہ دار مسلمانوں کے دشمن تو ہیں ہی، خود مسلمانوں کی قیادت بھی کم ذمہ دار نہیں ہے۔آج جب مسلمانوں کی قیادت ایک بار پھر مجتمع ہورہی ہے، تو جی چاہتا ہے کہ ان کے سامنے اپنے دل کے احساسات پیش کروں۔ایسا نہیں ہے کہ وہ ان باتوں سے ناواقف ہیں، وہ سب جانتے ہیں۔ بسااوقات تجاہل عارفانہ سے کام لیے لیتے ہیں۔
مسلمانان ہند کے رہنماؤں اور قائدین کا یہ اجلاس کوئی نیا نہیں ہے۔ آزاد ہندوستان میں ایسے اجلاس متعدد مرتبہ ہوچکے ہیں۔درجنوں بار قائدین ملت سر جوڑ کر بیٹھ چکے ہیں۔کئی متحدہ پلیٹ فارم بناچکے ہیں اور ان کے اجلا س بھی پابندی سے کرتے رہتے ہیں۔مسلم مجلس مشاورت،مسلم پرسنل لابورڈ اور ملی کونسل اس کی مثالیں ہیں۔یہ ادارے بھارتی مسلمانوں کے کل جماعتی اتحاد کے مظاہر ہیں۔ مسلم مجلس مشاور کا قیام مسلمانان ہند کی سیاسی بے وزنی دور کرنے اور سیاست میں مناسب نمائندگی قائم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تشکیل کا مقصد مسلمانوں کے عائلی قوانین کا تحفظ تھا۔ملی کونسل بھی ملی مسائل کے حل کے لیے قائم کی گئی تھی۔ کیا یہ ادارے اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہیں؟ اس کا جواب ہمارے رہنماؤں کو دینا چاہئے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کے ذمہ داران اپنی کامیابیوں کا پرچم لہراتے ہیں،کامیابیوں کی داستان پر مشتمل ضخیم رپورٹیں پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ زمینی حقائق کچھ اور ہی کہتے ہیں۔ مشاورت تقسیم ہوچکی ہے، کونسل تقسیم کے بعد اگرچہ متحد ہوچکی ہے، لیکن اپنی معنویت کھوچکی ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ تقریباًبے اثر ہوکر رہ گیا ہے۔
اس اجلاس کے بیشتر شرکاء الحمد للہ کسی نہ کسی تنظیم، جماعت یا ادارہ کے نمائندے ہیں۔ ان تنظیموں، جماعتوں اور اداروں کے اپنے اپنے سالانہ منصوبے اور بجٹ ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کا بجٹ ہرسال اپنی منزل کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ مگر بیشتر منصوبے اپنے آغاز کو ترستے ہیں۔ کروڑوں کے بجٹ کا بڑا حصہ دفتر کے رکھ رکھاؤ، ملازمین کی تنخواہوں، ذمہ داران کے ہوائی اسفار، شوریٰ اور مجالس انتظامی کے اجلاس، اور ضیافت پر خرچ ہوجاتا ہے۔ عوام کے حصے میں دعاؤں کا پٹارہ آتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر مجھے بتائیے کہ مسلمانان ہند کی غربت و جہالت میں روز بروز اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ دینی تعلیمی اداروں پر اربوں روپے ہرسال خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود بھی مسلمانوں کی اکثریت دین کی بنیادی باتوں سے کیوں ناواقف ہے؟ صرف وہ نہیں جو مسجد نہیں جاتے، بلکہ وہ بھی جو پانچ وقت فارغین مدارس کی اقتداء کرتے ہیں، صرف وہ نہیں جو دینی جماعتوں سے دور ہیں، بلکہ وہ بھی جو دینی جماعتوں کے حاشیہ بردار ہیں۔ آخر کون ہے اس صورت حال کا ذمہ دار؟ کیا مسلم عوام ذمہ دار ہے؟ جیسا کہ ہمارے رہنماء دعویٰ کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ عوام تو آج بھی آپ کو پلکوں پر بیٹھاتی اور پالکیوں پر اُٹھاتی ہے، وہ تو آج بھی آپ کے قدموں میں بیٹھنے کو باعث سعادت اورآپ سے مصافحہ کو جنت کا سرٹیفکیٹ سمجھتی ہے، آپ کے دیدار کو باعث اجر گردانتی ہے، آپ کو جانشین رسول کا درجہ دیتی ہے،آپ کی عقیدت و محبت میں باہم دست بہ گریباں تک ہو جاتی ہے۔ جناب اعلیٰ !عوام نے آپ کو پیسہ دینے میں بخل نہیں کیا، عزت دینے میں کوتاہی نہیں کی، پیچھے چلنے اور نعرہ لگانے سے غفلت نہیں برتی،آپ ایک کو بلاتے ہیں تو چار چلے آتے ہیں، آپ کی دعاؤں تک میں لاکھوں کی بھیڑ اکٹھا ہوتی ہے،پھر آپ نے عوام کو راہ راست دکھانے،ان کو صحیح بات پہنچانے،ان کے مسائل کو حل کرنے میں کوتاہی کیوں کی؟یہ صرف غفلت ہے یا جان بوجھ کر ایسا کیا گیا ہے؟ اس کا جواب تنظیم اور اداروں کے ذمہ داران کو دینا چاہئے۔
اس وقت ایک نیا ایشو زیر بحث ہے۔ وہ ہے مسلم پسماندہ محاذ کا ایشو،ممکن ہے کہ اس کی پشت پر دشمنان اسلام ہوں،مگر کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے کہ اس سوچ اور فکر کو قائم رکھنے، پروان چڑھانے میں مسلم قائدین اور صاحبان جبہ و دستار کا اہم کردار ہے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اسلام نے ہر مسلمان کو مساوی درجہ دیا اور ایمان کی بنیاد پر بھائی بھائی بنایا۔ واعتصموا بحبل اللہ ولاتفرقوا (اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور فرقہ فرقہ نہ ہو جاؤ) کی تاکید کی، قرآن نے امت واحدہ کا تصور دیا،اللہ نے متنبہ کیا کہ اگر تم اختلاف کروگے تو تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ کیا آپ دین اسلام کی ان تعلیمات سے واقف نہیں ہیں؟،کیا آپ قرآن مجید کی اُن آیات کی تلاوت نہیں فرماتے؟جن میں مسلمانوں کو متحد رہنے کی تعلیم دی گئی ہے؟ پھر آپ نے الگ الگ شناختیں کیوں قائم رکھی ہیں، مختلف جماعتوں اور مسالک کی بنیاد پر قائم یہ مختلف شناختیں اگر صرف تعارف کی حد تک ہوتیں تب بھی غنیمت تھا،مگر آپ نے اسے کفر و اسلام،ایمان و نفاق کی حد تک تقسیم کرلیا ہے۔ کیا آپ کی صفوں میں وہ لوگ نہیں بیٹھے ہیں جن کے مسلمان ہونے پر بھی آپ میں سے کتنوں کو شک ہے۔ان کے پیچھے آپ نماز نہیں پڑھ سکتے، ان کے یہاں اپنے بچوں کی شادی نہیں کرسکتے۔حالانکہ اجلاس کے سارے شرکاء کو منتظمین نے اسی لیے مدعو کیا ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ مگر آپ انھیں مسلمان نہیں سمجھتے۔ اپنے معتقدین کو یہی بتاتے ہیں کہ فلاں فرقہ اہل سنت والجماعت میں شامل ہے اور فلاں نہیں ہے؟ سچ بتائیے کیا واقعی آپ کا یہ عمل اللہ و رسول کی تعلیمات کے مطابق ہے؟
اسلام تو نسلی و نسبی تفاخر کو مٹانے آیا تھا۔اس نے ہاشمی و غیر ہاشمی میں کوئی فرق نہیں کیا تھا۔زبان نبوت ؐنے اعلان کیا تھا کہ عربی کو عجمی پر اور کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ نبی امیؐ نے ایک عربی النسل خاتون کو حبش کے بلالؓ کے ساتھ نکاح کی ترغیب دی تھی، حضرت زید بن حارثہ ؓجو آزاد کردہ غلام تھے ان کا نکاح اپنی پھوپھی زاد بہن سے کیا تھا۔ اسامہ بن زید ؓ کی سپہ سالاری میں جو فوجی لشکر روانہ ہوا تھا س میں اکابر صحابہ شریک تھے۔قرآن و احادیث، رسولؐ اور اصحاب رسولؐ کی زندگی اس پر گواہ ہے کہ انھوں نے خاندان،نسل،وطن اور نسب کی بنیاد کوئی فرق نہیں رکھا۔ انھوں نے قیادت کے مناصب پر بھی صالحیت، صلاحیت، ایمان اور تقویٰ کی بنیاد پر افراد کو منتخب کیا۔ نکاح میں دین و اخلاق کو بنیاد بنایا۔ پھر آپ کہاں سے اشراف و اراذل کی تقسیم لے کر آئے ہیں۔مسلم اداروں کے بیشتر مناصب پر اشرافیہ کا غلبہ کیوں نظر آتا ہے؟جو دین انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دینے آیا تھا،جس نے اخوت و مساوات کی اعلیٰ نظیریں قائم کی تھیں، افسوس آپ نے اسی دین کے نام پر خود کو مقدس اور اشرف گردان لیا اور دوسروں کو کم تر اور ارذل سمجھ لیا۔آج مسلم پسماندہ محاذ کا جو شگوفہ کھل رہا ہے،وہ صدیوں کی اسی تقسیم کا نتیجہ ہے۔اگر سب کو ساتھ لے کر چلا گیا ہوتا، ہر کلمہ گو کو مساوی حقوق اور مساوی مواقع دیے جاتے تو یہ نوبت نہ آتی۔آپ غیر اشرف سے نذرانے وصول کریں،ان کی زکوٰۃ آپ کے اداروں کے لیے جائز ہو،وہ آپ کی دری بچھائیں،آپ کی دست بوسی اور قدم بوسی کریں،آپ کے مرنے کے بعد بھی عرس منائیں مگر آپ ان کو اپنے مساوی نہیں سمجھیں گے۔کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے اس رویہ سے اسلام کے فروغ کو کتنا نقصان ہوا ہے؟ کبھی فرصت ملے تو جائزہ لیجیے گا۔
اس بات کا بھی جائزہ لیجیے کہ آپ اسلام کے نمائندے ہیں، یا مسلک کے، آپ کی جماعتوں کا مقصد اسلام کا فروغ و تحفظ ہے یا مسلک کا فروغ و تحفظ۔آپ کے تعلیمی اداروں میں اسلام پڑھایا جاتا ہے یا مسلک؟برا نہ مانئے،آپ میں سے بیشتر اسلام نہیں مسلک کے نمائندے ہیں،مسلک کا تحفظ آپ کی جدو جہد کا محور ہے، مسلک کی تعلیم آپ کے مدارس کا نصاب ہے۔اسی مسلک بازی نے آپ کو ایک دوسرے سے نبرد آزما کر رکھا ہے۔ کیا آپ یہ بتانے کی زحمت فرمائیں گے،آپ کے مسالک کا قیام قرآن و حدیث کی کس نص کے مطابق ہے؟آپ کے مسلک کی فضیلت میں اللہ و رسول کے کون کون سے ارشادات موجود ہیں؟ آپ کو ان سوالوں پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔
اے قائدین قوم و ملت!خدا کے لیے اپناا پنا جائزہ لیجیے، غلطیاں سب سے ہوسکتی ہیں۔ آج مسلمانان ہند تعصب و نفرت کی جس آگ میں جلائے جارہے ہیں،اس کی آنچ اب آپ کے دامن تک بھی پہنچنے والی ہے۔اگر آپ مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر غور کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں تو مسلک کے خول سے نکل کر صرف ایمان و اسلام کی بنیاد پر سوچئے۔ورنہ یہ اجلاس بھی تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔
