غلام احمد خاں آرزو کی صحافتی میراث سے ’’ہندوستان‘‘ کے ڈیجیٹل عہد تک
جاوید جمال الدین
کچھ لوگ اخبار میں کام کرتے ہیں، کچھ لوگ اخبار چلاتے ہیں اور کچھ لوگ خود اخبار کی تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ سرفراز احمد آرزو کا شمار اسی تیسری قسم کے لوگوں میں ہوتا ہے۔ تقریباً نصف صدی پر محیط ان کا صحافتی سفر صرف ایک مدیر یا مالک کی داستان نہیں، بلکہ ممبئی کی اردو صحافت کے بدلتے ہوئے منظرنامے کی ایک زندہ تصویر ہے۔ کاتب کے قلم اور روشنائی سے شروع ہونے والا یہ سفر کمپیوٹر، ڈی ٹی پی، ڈیجیٹل صحافت اور سوشل میڈیا تک پہنچا، اور اس پورے سفر میں سرفراز آرزو نہ صرف موجود رہے بلکہ کئی تبدیلیوں کے محرک بھی بنے۔
ان کی زندگی کو سمجھنے کے لیے ان کے والد غلام احمد خاں آرزو کو یاد کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ سرفراز آرزو کی صحافت کسی اچانک نمودار ہونے والی شخصیت کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی صحافتی روایت کا تسلسل ہے جس کی جڑیں آزادی سے قبل کی اردو صحافت میں پیوست ہیں۔
یہ روایت صحافت کو محض پیشہ نہیں سمجھتی تھی؛ خبر کو ذمہ داری، اداریے کو رائے، قلم کو امانت اور اخبار کو معاشرے کی آواز سمجھتی تھی۔
غلام احمد خاں آرزو: جس گھر میں اخبار سانس لیتا تھا
غلام احمد خاں آرزو کا شمار آزادی سے قبل کے ان اردو صحافیوں میں ہوتا تھا جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں قلم کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا۔ اردو اور فارسی پر ان کی گہری نظر تھی۔ زبان و بیان، عام معلومات، شعر و ادب اور حالات حاضرہ پر ان کی گرفت ایسی تھی کہ ہم عصر صحافی انہیں اپنے لیے ایک چلتی پھرتی لغت قرار دیتے تھے۔
وہ صرف خبر لکھنے والے صحافی نہیں تھے۔ ان کے لیے اداریہ ایک فکری دستاویز ہوتا تھا۔
ممبئی کی اردو صحافت کی تاریخ میں روزنامہ انقلاب کا آغاز ایک اہم واقعہ ہے۔ عبدالحمید انصاری نے ’’الہلال‘‘ سے علیحدگی کے بعد اپنا نیا اخبار جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاج محل پریس، جو گھاس بازار میں منروا سنیما کے قریب واقع تھا، نئے اخبار کی تیاری کا مرکز بنا۔ عابد علی جعفر بھائی اور صالح بھائی عبدالقادر کی مشاورت اور تعاون سے نئے روزنامے کا منصوبہ آگے بڑھا اور 31 دسمبر 1938ء کو ’’انقلاب‘‘ منظرعام پر آیا۔
غلام احمد خاں آرزو اس اخبار کے ابتدائی ادارتی سفر میں اہم کردار ادا کرنے والوں میں تھے۔ 1940ء کی دہائی کے اوائل کے انقلاب کے شمارے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ عبدالحمید انصاری مدیر اعلیٰ اور غلام احمد خاں آرزو مدیر کی حیثیت سے ادارتی ذمہ داریاں ادا کررہے تھے۔
انقلاب کے ابتدائی ادارتی دفتر میں ساحل بلگرامی اور اشفاق نوری جیسے صحافی بھی موجود تھے جو انگریزی، گجراتی اور مراٹھی اخبارات سے خبریں اور مضامین اردو میں منتقل کرتے تھے۔ نئے مترجموں اور کاتبوں کے انتخاب میں بھی آرزو صاحب کی رائے اہم سمجھی جاتی تھی۔
ان کے اداریوں کا انداز بھی اپنے زمانے سے آگے تھا۔ 24 جون 1941ء کے انقلاب میں ان کا اداریہ ’’ہٹلر پاگل ہوگیا ہے!‘‘ شائع ہوا، جس میں دوسری جنگ عظیم کے تناظر میں ہٹلر کے عزائم پر تبصرہ کیا گیا تھا۔
آج جب ہم چند سطروں میں خبر لکھنے کے لیے کمپیوٹر پر انگلیاں چلاتے ہیں تو اس عہد کا تصور بھی مشکل معلوم ہوتا ہے جب ایک اداریہ پنسل سے لکھا جاتا تھا، پھر کاتب اسے حروف میں ڈھالتا تھا، پروف ریڈر اس کی تصحیح کرتا تھا اور بالآخر وہ پریس سے نکل کر قارئین تک پہنچتا تھا۔
محمد عثمان، جو انقلاب کے ابتدائی دور سے وابستہ کاتبوں میں شامل تھے،غلام احمد خان آرزوکے بارے میں بتایا کرتے تھے کہ وہ پنسل سے اداریہ لکھتے اور اداریہ مکمل ہونے تک پنسل کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا باقی رہ جاتا تھا۔
یہ محض ایک واقعہ نہیں؛ ایک پورے صحافتی عہد کی تصویر ہے۔
انقلاب سے ہندوستان تک
غلام احمد خاں آرزو کا اگلا اہم پڑاؤ ہندوستان تھا۔
رئیس احمد جعفری نے شامنامہ ہندوستان شروع کیا تھا۔ جعفری صاحب اپنے دور کے ممتاز صحافی اور ادیب تھے۔ ہندوستان نے ممبئی کی اردو صحافت میں اپنی شناخت قائم کی اور غلام احمد خاں آرزو بھی اس کے ادارتی سفر کا اہم حصہ بنے۔
رئیس احمد جعفری کے پاکستان ہجرت کر جانے کے بعد غلام احمد خاں آرزو نے ہندوستان کی ادارت سنبھالی اور بعدازاں اخبار کی ملکیت اور انتظامی ذمہ داریاں بھی ان کے پاس آگئیں۔
یہیں سے آرزو خاندان اور ہندوستان کا رشتہ مزید مضبوط ہوا۔
ہندوستان صرف ایک اخبار نہیں تھا؛ وہ ایک صحافتی مدرسہ تھا، جہاں نوجوان خبر کی زبان، ترجمے کا سلیقہ، پروف کی اہمیت، اداریے کی نزاکت اور اخبار کے مزاج کو سمجھتے تھے۔
یہ روایت بعد میں سرفراز آرزو نے سنبھالی۔
ایک طالب علم اور اخبار کی دنیا
میری اپنی صحافتی زندگی کا آغاز بھی کچھ اسی طرح ہوا۔
بچپن سے پڑھنے لکھنے کا شوق تھا۔ کتابیں اور اخبارات پڑھنے کی عادت نے مجھے اخبارات کے دفاتر تک پہنچایا۔ ابتدا میں شہری مسائل پر مراسلات لکھتا تھا۔ پھر روزنامہ اردو ٹائمز میں بطور مترجم اور پروف ریڈر عارضی ملازمت ملی۔
میں اس وقت طالب علم تھا۔ بارہویں جماعت میں زیر تعلیم تھا اور صحافت کا شوق آہستہ آہستہ جنون میں بدل رہا تھا۔ اردو ٹائمز میں ٹرینی رپورٹر، سب ایڈیٹر اور پروف ریڈر کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا۔
اسی زمانے میں مرحوم عبدالرحمن صدیقی سے دوستی ہوئی۔ انہوں نے میری ملاقات روزنامہ ہندوستان کے مالک و مدیر سرفراز آرزو سے کرائی۔
سرفرازآرزو نے صبح کے اوقات میں ترجمے کے لیے مجھے پارٹ ٹائم کام کی پیشکش کی۔
اندھا کیا چاہے، دو آنکھیں!
بچپن سے جس اخبار اور کتابی دنیا کا شوق تھا، اس کے دروازے میرے لیے مزید کھل گئے۔ اردو ٹائمز اور ہندوستان دونوں نے صحافت کے ابتدائی اصول سمجھنے میں میری مدد کی۔
یہاں یہ اعتراف بھی ضروری ہے کہ سرفراز آرزو نے اس وقت میری حوصلہ افزائی کی جب میں صحافت کی دنیا میں ابھی قدم رکھ ہی رہا تھا۔
جولائی 1989ء میں روزنامہ انقلاب سے بطور رپورٹر وابستہ ہونے کے بعد میرا ہندوستان سے یہ مختصر عملی تعلق ختم ہوگیا، لیکن سرفراز سے تعلق ختم نہیں ہوا۔
وقت گزر گیا، صحافت کا سفر آگے بڑھتا رہا، مگر وہ ابتدائی دن آج بھی یاد ہیں۔
1978ء: باپ کی جگہ بیٹے نے قلم اٹھایا
1978ء سرفراز آرزو کی زندگی کا فیصلہ کن سال تھا۔
والد غلام احمد خاں آرزو کا انتقال ہوگیا۔ سرفراز اس وقت ابھی کالج کے طالب علم تھے۔ ایک نوجوان کے سامنے اچانک ایک اخبار کی ادارت اور انتظام کی ذمہ داری آگئی۔
یہ آسان کام نہیں تھا۔
اخبار چلانا ایک الگ بات ہے اور ایک ایسے اخبار کی باگ ڈور سنبھالنا جس کے پیچھے ایک صحافتی روایت اور ایک بزرگ صحافی کی شخصیت موجود ہو، بالکل دوسری بات۔
سرفراز آرزو نے اس چیلنج کو قبول کیا۔
سینئر صحافیوں کی رہنمائی حاصل کی، اخبار کے ادارتی مزاج کو سمجھا اور رفتہ رفتہ خود ایک مکمل مدیر کی حیثیت سے ابھرے۔ بعد کے برسوں میں ہندوستان شام سے نکلنے والے اخبار سے صبح کے روزنامے میں تبدیل ہوا۔ آج اسے مغربی ہندوستان کے قدیم اردو اخبارات میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ سرفراز آرزو کی پہلی بڑی کامیابی تھی کہ انہوں نے اپنے والد کی وراثت کو صرف محفوظ نہیں رکھا بلکہ اسے بدلتے وقت کے ساتھ آگے بڑھایا۔
جب اردو اخبار کمپیوٹر سے ڈر رہا تھا
سرفراز آرزو کی صحافتی شخصیت کا ایک پہلو ایسا ہے جس نے انہیں اپنے کئی ہم عصر مدیران سے ممتاز کردیا۔
وہ ٹیکنالوجی سے گھبرانے والے مدیر نہیں تھے۔
1980ء کی دہائی میں کمپیوٹر اخبارات کی دنیا بدل رہا تھا۔ انگریزی اخبارات تیزی سے کمپیوٹرائزڈ ہورہے تھے۔ لیکن اردو کے سامنے ایک بنیادی مسئلہ تھا: اردو رسم الخط۔
کاتب کی جگہ کمپیوٹر کیسے لے؟
حروف کو ڈیجیٹل شکل کیسے دی جائے؟
اردو کی پیچیدہ ساخت کو کمپیوٹر کی زبان میں کیسے منتقل کیا جائے؟
یہ وہ سوالات تھے جن کا جواب اس وقت آسان نہیں تھا۔
سرفراز آرزو نے فیصلہ کیا کہ اگر اردو صحافت کو زندہ رہنا ہے تو اسے ٹیکنالوجی سے فرار نہیں بلکہ اس سے دوستی کرنا ہوگی۔
انہوں نے پروگرامنگ سیکھنے کی کوشش کی، خطاطی کے اپنے تجربے کو تکنیکی ضرورت کے ساتھ ملایا اور اردو کو ڈیجیٹل شکل دینے کے حل کی تلاش شروع کی۔
اس تلاش میں انہیں ملک کے مختلف حصوں کے ماہرین سے رابطہ کرنا پڑا۔ یہ سفر تقریباً پانچ برس تک جاری رہا۔
بالآخر ’’دلکش‘‘ نامی اردو سافٹ ویئر کی تیاری کا راستہ نکلا۔ سافٹ ویئر ماہر راجیو بھاگوت اور ڈیٹا فلو سے رابطے کے بعد اس کوشش کو عملی شکل ملی۔ ہندوستان نے 1989ء کے آس پاس ’’دلکش‘‘ کا استعمال شروع کیا۔
’’دلکش‘‘ محض ایک سافٹ ویئر کا نام نہیں تھا۔
یہ اردو صحافت کے لیے ایک دروازہ تھا۔
اس نے ثابت کیا کہ اردو بھی کمپیوٹر کی زبان بن سکتی ہے اور اردو اخبار بھی تکنیکی دوڑ میں پیچھے رہنے کے لیے مجبور نہیں۔
آج جب ہم موبائل فون پر اردو لکھتے ہیں، واٹس ایپ پر اردو پیغام بھیجتے ہیں یا چند لمحوں میں اخبار کا صفحہ ڈیجیٹل شکل میں تیار کرلیتے ہیں تو اس ابتدائی جدوجہد کی اہمیت شاید پوری طرح محسوس نہیں ہوتی۔
لیکن اُس وقت یہ واقعی ایک انقلاب تھا۔
’’میں ایک زندہ بچ جانے والا ہوں‘‘
صحافت صرف ٹیکنالوجی کی جنگ نہیں۔ بعض اوقات صحافی کو اپنی جان کی جنگ بھی لڑنی پڑتی ہے۔
سرفراز آرزو اس کا عملی تجربہ رکھتے ہیں۔
1992-93ء کے ممبئی فسادات کے دوران وہ موٹر سائیکل پر پولیس کمشنر کی پریس کانفرنس میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔ شہر میں کرفیو تھا۔ محمد علی روڈ کے قریب مانڈوی پوسٹ آفس پر پولیس پکٹ نے انہیں شرپسند سمجھ لیا اور رائفلیں ان کی طرف تان دیں۔
اچانک ایک مقامی شخص کی آواز بلند ہوئی:
’’یہ صحافی ہیں!‘‘
یہ چند الفاظ ان کی زندگی اور موت کے درمیان دیوار بن گئے۔
دوسری مرتبہ اس وقت جان خطرے میں پڑی جب انہوں نے بعض جرائم پیشہ عناصر کے خلاف خبریں شائع کیں۔ دو مسلح افراد دفتر میں داخل ہوئے۔ مقصد واضح تھا۔ لیکن عین وقت پر پستول نے کام نہیں کیا اور ایک بڑا سانحہ ٹل گیا۔
سرفراز آرزو ان دونوں واقعات کو یاد کرتے ہوئے مسکرا کر کہتے ہیں:
’’میں ایک زندہ بچ جانے والا ہوں۔‘‘
یہ جملہ بظاہر ہنسی میں کہا جاتا ہے، لیکن اس کے پیچھے صحافت کی وہ قیمت چھپی ہوئی ہے جس کا اندازہ اخبار کے دفتر میں بیٹھ کر شاید نہیں کیا جاسکتا۔
اخبار صرف خبر نہیں، معاشرے کا آئینہ ہے
سرفراز آرزو کے نزدیک اردو اخبار کا سب سے اہم کام اپنے معاشرے کی آواز بننا ہے۔
اسی لیے ہندوستان نے اردو اسکولوں، طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی مسائل کو مسلسل جگہ دی۔
ان کا خیال ہے کہ اردو اخبار اگر اپنی زبان کے تعلیمی اداروں سے کٹ جائے تو وہ اپنی اگلی نسل کے قارئین سے بھی کٹ جائے گا۔
یہ سوچ محض تجارتی حکمت عملی نہیں بلکہ صحافتی شعور بھی ہے۔
اردو اسکول کا طالب علم آج کا قاری ہے، لیکن وہی کل کا صحافی، استاد، وکیل، افسر، ادیب یا دانشور بھی ہوسکتا ہے۔
سرفراز آرزو اسی لیے اردو اسکولوں کو اخبار کے مستقل اسٹیک ہولڈرز سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول ان اداروں کی سرگرمیوں اور مسائل کو جگہ دینا دراصل اردو کے مستقبل کو جگہ دینا ہے۔
اردو صحافت کے معاشی سوالات
سرفراز آرزو نے اردو صحافت کے معاشی بحران کو بھی بہت قریب سے دیکھا ہے۔
ایک زمانے میں ممبئی کی فلمی صنعت اردو اخبارات کے لیے اشتہارات کا اہم ذریعہ تھی۔ سینما کے پروگرام، فلمی اشتہارات، فلمی صفحات اور فلمی دنیا سے متعلق خبریں اردو اخبارات میں بڑی جگہ پاتی تھیں۔
ملٹی پلیکس کے دور نے یہ منظر بدل دیا۔
اشتہاری صنعت بھی بدل گئی۔
کارپوریٹ دنیا نے اردو اخبارات کو وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ مستحق تھے۔
آج اردو اخبارات سرکاری، نیم سرکاری اداروں اور نسبتاً چھوٹے نجی اشتہارات پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف ایک اخبار کا نہیں، پوری اردو صحافت کا مسئلہ ہے۔
سرکولیشن بھی ایک الگ چیلنج ہے۔ اردو پڑھنے والوں کی تعداد اور اردو اخبار خریدنے والوں کی تعداد میں واضح فرق ہے۔
لیکن سرفراز آرزو نے اس مسئلے کا ایک حل ڈیجیٹل دنیا میں تلاش کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر اخبار کا کاغذ محدود تعداد میں قارئین تک پہنچتا ہے تو ڈیجیٹل اخبار پوری دنیا تک پہنچ سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہندوستان نے پرنٹ کے ساتھ ڈیجیٹل سفر بھی نسبتاً جلد شروع کیا۔ 2022ء میں اردو صحافت کے 200 سال مکمل ہونے کے موقع پر بھی سرفراز آرزو نے پرنٹ اور ڈیجیٹل کے امتزاج، یعنی ’’ہائبرڈ‘‘ مستقبل پر زور دیا تھا۔
اردو کا مستقبل: خوف نہیں، حکمت عملی
اردو صحافت کے مستقبل کے بارے میں سرفراز آرزو کا رویہ مایوس کن نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ نئی نسل کے قارئین کی عادتیں بدل رہی ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ صرف کاغذ پر چھپنے والا اخبار آنے والے دور کی مکمل ضرورت پوری نہیں کرسکتا۔
لیکن ان کا یقین ہے کہ اردو کے پاس ایک وسیع عالمی حلقہ موجود ہے۔
اردو کو صرف ان لوگوں تک محدود نہیں کیا جاسکتا جو اسے روانی سے پڑھتے ہیں۔ دنیا بھر میں ایسے لاکھوں افراد ہیں جو اردو سمجھتے ہیں، اردو سے محبت کرتے ہیں اور اردو ادب و صحافت سے کسی نہ کسی درجے میں وابستہ ہیں۔
اسی لیے ان کے نزدیک اردو صحافت کا مستقبل پرنٹ اور ڈیجیٹل کے امتزاج میں ہے۔
یہ سوچ آج کے میڈیا ماحول میں مزید اہم ہوگئی ہے۔
زبان سے آگے ایک تہذیبی رشتہ
سرفراز آرزو کی اردو سے وابستگی صرف صحافتی نہیں۔
وہ اردو کو ایک تہذیبی رشتے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ان کی صحافت میں مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان ہم آہنگی، جمہوری اقدار اور سماجی انصاف کے موضوعات بھی جگہ پاتے رہے ہیں۔ مختلف مواقع پر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اردو کسی ایک مذہب کی ملکیت نہیں۔
یہی وہ وسیع تصور ہے جس کے تحت اردو صحافت نے آزادی کی تحریک میں بھی اپنا کردار ادا کیا تھا۔ سرفراز آرزو نے 2022ء میں اردو صحافت کے 200 سال مکمل ہونے کے موقع پر بھی اس کی مشترکہ اور کثیر تہذیبی تاریخ کو اجاگر کیا تھا۔
صحافیوں کی فلاح: والد سے بیٹے تک
غلام احمد خاں آرزو صرف مدیر نہیں تھے، صحافیوں کی فلاح کے لیے بھی فکرمند رہتے تھے۔
1967ء میں فاروق احمد چھوٹانی اور دوسرے صحافیوں کے تعاون سے جرنلسٹ بینیفٹ فنڈ کے قیام کی کوشش اسی فکر کا اظہار تھی۔ مقصد تھا کہ اخباروں میں کام کرنے والے صحافیوں اور کارکنوں کے لیے رہائش کا انتظام کیا جائے۔
یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کرسکا، لیکن خیال زندہ رہا۔
سرفراز آرزو نے بھی اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن سمیت مختلف صحافتی پلیٹ فارموں پر صحافیوں کے مسائل اٹھائے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا۔
اس طرح صحافت کو انسانوں سے جوڑنے کی روایت بھی باپ سے بیٹے تک منتقل ہوئی۔
خلافت کمیٹی اور سماجی زندگی
سرفراز آرزو کی سرگرمیاں اخبار کے دفتر تک محدود نہیں رہیں۔ وہ آل انڈیا خلافت کمیٹی سے بھی وابستہ رہے اور تنظیمی ذمہ داریاں سنبھالیں۔آج وہ خلافت کمیٹی کے چیئرمین ہیں اور خلافت کی ازسر نو تعمیر کاآغاز ہوچکاہے،اس 17 ،منزلہ عمارت میں تین منزلیں خلافت ہاؤس اور بی ایڈ کالج کے لیے ہوں گی۔یہ 120 کروڑ کے منصوبہ میں ایک ہارٹ اسپلیشٹ اسپتال کام کرے گااور اس کے 2030 میں مکمل ہونے کا اندازہ ہے۔
ممبئی کی سماجی زندگی میں ان کی موجودگی مختلف مواقع پر محسوس کی جاتی ہے۔ عید میلاد النبی کے جلوس، سماجی اجتماعات، اردو کے پروگرام اور مختلف عوامی مسائل پر ان کی شرکت اس بات کی علامت ہے کہ ان کے نزدیک صحافی کا سماج سے رشتہ دفتر کی چار دیواری سے باہر تک پھیلا ہوا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انہیں صرف ’’مدیر ہندوستان‘‘ کہہ دینا ان کی شخصیت کا مکمل تعارف نہیں۔
وہ صحافی بھی ہیں، منتظم بھی، اردو کے کارکن بھی اور سماجی زندگی میں متحرک شخصیت بھی۔
’’ہندوستان‘‘: ایک اخبار سے زیادہ
کسی اخبار کی عمر صرف اس کے قیام کے سالوں سے نہیں ناپی جاتی۔
اسے اس بات سے ناپا جاتا ہے کہ اس نے کتنی نسلوں کو جوڑا، کتنے صحافی پیدا کیے، کتنے قارئین کے مسائل کی آواز بنے اور بدلتے ہوئے زمانے کے ساتھ کتنی کامیابی سے خود کو ڈھالا۔
اس معیار سے دیکھا جائے تو ہندوستان کی کہانی خاصی اہم ہے۔
غلام احمد خاں آرزو نے اسے صحافتی وقار دیا۔
سرفراز آرزو نے اسے جدید عہد سے جوڑا۔
اور اب تیسری نسل بھی اس سفر میں شریک ہے۔
یہ ایک اخبار کی نہیں، ایک صحافتی خانوادے کی داستان ہے۔
میرے لیے سرفراز آرزو
میں نے اپنی صحافتی زندگی کے ابتدائی دنوں میں بہت سے لوگوں سے سیکھا۔ کچھ نے خبر کا ہنر سکھایا، کچھ نے زبان کی نزاکتیں سمجھائیں اور کچھ نے حوصلہ دیا۔
سرفراز آرزو ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے حوصلہ دیا۔
وہ زمانہ یاد آتا ہے جب میں ابھی طالب علم تھا، اخبار کے دفتر میں داخل ہونے کا مطلب ہی میرے لیے ایک نئی دنیا میں قدم رکھنا تھا۔ اردو ٹائمز میں کام کرنے کے بعد ہندوستان میں صبح کے اوقات میں ترجمہ کرنا میرے لیے ایک بڑا موقع تھا۔
سرفراز صاحب نے اس نوجوان میں کچھ دیکھا ہوگا جو شاید مجھے خود نظر نہیں آتا تھا۔
انہوں نے موقع دیا۔
اور صحافت میں کسی نوجوان کو موقع دینا کبھی معمولی بات نہیں ہوتی۔
آج 36-35 سال کے قریب اپنے صحافتی سفر کے بعد سرفراز آرزو کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے صرف ایک مدیر نظر نہیں آتا۔اور سرفراز آرزو کی نصف صدی کاسفربھی شامل ہے۔
مجھے وہ نوجوان بھی نظر آتا ہے جو 1978ء میں اپنے والد کی وفات کے بعد ایک اخبار کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے پر مجبور ہوا۔
مجھے وہ صحافی بھی نظر آتا ہے جو اردو کو کمپیوٹر تک پہنچانے کے لیے ملک بھر میں بھٹکتا رہا۔
مجھے وہ مدیر بھی دکھائی دیتا ہے جو فسادات کے دوران جان خطرے میں ڈال کر خبر کے پیچھے جاتا رہا۔
اور مجھے وہ شخص بھی نظر آتا ہے جو آج بھی نئے صحافیوں سے ملتا ہے، ان کی بات سنتا ہے اور اردو صحافت کے مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے۔
غلام احمد خاں آرزو کی آخری خواہش
غلام احمد خاں آرزو کی زندگی کا آخری دور بھی ایک عجیب انسانی واقعے سے جڑا ہوا ہے۔
ممبئی کے ناریل واڑی قبرستان، مجگاؤں میں ایک تدفین کے موقع پر قبر سے ہڈیاں نکلتی دیکھ کر انہوں نے جذباتی انداز میں کہا تھا:
’’یہاں تو مر کے بھی چین نہیں ہے۔ موت آئے تو اپنے وطن میں، جہاں قبر میں سکون تو رہے گا۔‘‘
چند ہی عرصے بعد جیسے یہ دعا قبول ہوگئی۔
1978ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں صحافت کے ایک سیمینار میں شرکت کے بعد وہ اپنے آبائی وطن رام پور گئے اور 23 اپریل 1978ء کو وہیں انتقال ہوا۔ انہیں اپنے آبائی گھر کے سامنے مسجد کے صحن میں سپرد خاک کیا گیا۔
ایک صحافی جو ساری زندگی شہر کی آواز بنتا رہا، آخرکار اپنے وطن کی مٹی میں جا سویا۔
اور اسی سال اس کے بیٹے نے اس کی صحافتی ذمہ داری سنبھال لی۔
یہ شاید اس داستان کا سب سے خوبصورت اور سب سے کرب ناک باب ہے۔
باپ کی قبر پر مٹی پڑی اور بیٹے کے ہاتھ میں اخبار آگیا۔
صحافت کی شمع
غلام احمد خاں آرزو نے آزادی سے پہلے اردو صحافت کی مشکل راہوں میں قلم اٹھایا۔
انہوں نے انقلاب کے ادارتی صفحات کو اپنی تحریر سے روشن کیا، ہندوستان کے سفر میں اپنا حصہ ڈالا اور نوجوان صحافیوں کی تربیت کی۔
سرفراز آرزو نے اسی شمع کو نئے زمانے میں منتقل کیا۔
انہوں نے کاتب کے قلم سے کمپیوٹر کی اسکرین تک کا سفر طے کیا۔
’’دلکش‘‘ کے ذریعے اردو صحافت کو ڈیجیٹل دنیا سے جوڑنے کی کوشش کی۔
فسادات میں جان خطرے میں ڈالی۔
جرائم پیشہ عناصر کے دباؤ کا سامنا کیا۔
صحافیوں کی فلاح کے لیے آواز اٹھائی۔
اردو کے حقوق کی بات کی۔
اور آج بھی ہندوستان کو زندہ رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔
یہی کسی صحافی کی اصل کامیابی ہے۔
سالگرہ: مبارکباد سے آگے ایک خراج
سرفراز احمد آرزو کی سالگرہ پر انہیں مبارکباد دینا یقیناً ضروری ہے، لیکن میرے خیال میں یہ موقع صرف رسمی مبارکباد کا نہیں بلکہ اردو صحافت کی ایک پوری روایت کو یاد کرنے کا بھی ہے۔
وہ روایت جس میں غلام احمد خاں آرزو جیسے صحافی پنسل سے اداریہ لکھتے تھے۔
وہ روایت جس میں کاتب محمد عثمان جیسے لوگ ایک ایک حرف کو کاغذ پر اتارتے تھے۔
وہ روایت جس میں عبدالحمید انصاری اور رئیس احمد جعفری جیسے مدیر اخبار کو مشن سمجھتے تھے۔
اور وہ روایت جس میں سرفراز آرزو نے اردو کو کمپیوٹر کے دور میں داخل کرنے کی کوشش کی۔
یہی صحافت کا سفر ہے۔
یہی ’’انقلاب‘‘ سے ’’ہندوستان‘‘ تک کا سفر بھی ہے۔
اور شاید یہی اردو صحافت کی اصل طاقت ہے کہ ہر نسل اپنے سے اگلی نسل کو قلم تھما دیتی ہے۔
سرفراز آرزو کو سالگرہ کی دلی مبارکباد دیتے ہوئے میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، عافیت، طویل عمر اور مزید حوصلہ عطا فرمائے۔ وہ اسی طرح اردو صحافت کی خدمت کرتے رہیں، نوجوان صحافیوں کی رہنمائی کرتے رہیں اور ’’ہندوستان‘‘ کی شمع کو نئی نسل تک پہنچاتے رہیں۔
غلام احمد خاں آرزو سے سرفراز آرزو تک اور سرفراز سے نظیف آرزو تک—یہ صرف ایک خاندان کی صحافتی کہانی نہیں؛ یہ ممبئی کی اردو صحافت کے ایک روشن تسلسل کی داستان ہے۔جوتیسری نسل تک پہنچ چکی ہے۔
اور اس داستان کا ایک باب آج بھی لکھا جارہا ہے۔
