از: محمد ہاشم القاسمی
(خادم دارالعلوم پاڑا، ضلع پرولیا، مغربی بنگال)
فلسفۂ تعلیم اور معلم کا مقام
انسانی تاریخ کے ہر موڑ پر تہذیبوں کا عروج و زوال علم اور تربیت کے نظام سے وابستہ رہا ہے۔ تعلیم محض حروف شناسی یا معاشی ضرورت پورا کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ روح کی بیداری، ذہن کی وسعت اور اخلاقی بنیادوں پر انسانی وجود کی تعمیر کا نام ہے۔ اس سارے عمل کا مرکز و محور معلم ہے۔ معلم انسانی فکر کی بنجر زمین کو سیراب کر کے اسے ایک باثمر گلشن میں بدلنے والا مالی ہے۔
فلسفۂ تعلیم میں استاد کی حیثیت ایک مجرد مفکر کی نہیں بلکہ ایک عملی رہبر کی ہوتی ہے۔ دنیا کے عظیم مفکرین نے استاد کے کردار کو ہمیشہ معاشرتی اصلاح کی اساس قرار دیا ہے۔
مہاتما گاندھی کا نظریہ: گاندھی جی کی نظر میں معلم محض معلومات منتقل کرنے والا نہیں ہوتا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ: "اساتذہ کے اندر بہت سی خوبیوں کا ہونا بے حد ضروری ہے، مگر سب سے بڑھ کر ان کا اچھے اخلاق و کردار کا حامل ہونا چاہیے تاکہ وہ سماج میں اچھائیاں اور پاکیزگی پیدا کر سکیں۔”
ڈاکٹر محمد مسعود عالم قاسمی نے استاد اور طالب علم کے باہمی تعلق کی نفسیاتی گہرائی کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: "اساتذہ طلباء کے لیے آئینہ ہوتے ہیں۔ طلباء محض کلاس کے لیکچر، منہ کے الفاظ اور بلیک بورڈ کی تحریر کو ہی نہیں پڑھتے، بلکہ اساتذہ کی نقل و حرکت، عادات و اطوار اور رویہ و رجحانات کا بھی گہرا اثر لیتے ہیں۔ اس لیے اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے اپنا بھی جائزہ لیں، جن مقاصد اور اقدار کو وہ بچوں میں منتقل کرنا چاہتے ہیں، پہلے ان کو اپنے وجود میں تلاش کریں تبھی وہ مخلص اور سچے اساتذہ کا کردار ادا کر سکتے ہیں اور سماج کو اپنی صلاحیت سے فائدہ پہنچا سکتے ہیں؛ بچوں میں اسی چیز کا انعکاس ہوگا جو اساتذہ میں موجود ہوگی۔”
تاریخ شاہد ہے کہ جب تک معلم نے خود شناسی اور خدا شناسی کا نمونہ پیش کیا، اس کے شاگردوں نے دنیا کی امامت و قیادت کی اور معاشروں کو عدل و انصاف سے بھر دیا۔ یومِ اساتذہ کا تاریخی پس منظر اور ارتقاء
معلم کی عظمت اور اس کے معاشرتی کردار کے اعتراف میں دنیا بھر میں مخصوص ایام منائے جاتے ہیں۔ ہندوستان اور عالمی سطح پر ان ایام کا پس منظر علمی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔
ہندوستان میں ہر سال 5 ستمبر کو "یومِ اساتذہ” منایا جاتا ہے۔ اس روایت کی بنیاد ملک کے دوسرے صدر جمہوریہ، ممتاز فلسفی اور عظیم مدبر ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کی یومِ پیدائش ہے۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن 5 ستمبر 1888ء کو مدراس کے قریب تھیروتانی (آندھرا پردیش اور تمل ناڈو کی سرحد) کے ایک تیلگو برہمن خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سروپلی ویرا سوامی اور والدہ سیتاما تھیں۔ ان کے والد فلسفے کے طالب علم تھے اور ان کے کتب خانے نے نوخیز رادھا کرشنن کو مطالعے کا شوق بخشا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم تروتانی کے بورڈ ہائی اسکول سے حاصل کی اور بعد ازاں فلسفے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے تقریباً 40 سال درس و تدریس کے لیے وقف کیے۔ وہ کلکتہ یونیورسٹی اور برطانیہ کی معروف آکسفورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔
ان کی علمی قابلیت اور تصنیفی خدمات کے اعتراف میں ہندوستان کی آزادی کے بعد انہیں ملک کے سب سے بڑے شہری اعزاز بھارت رتن سے نوازا گیا۔ 1962ء میں جب وہ صدر جمہوریہ کے منصب پر فائز ہوئے، تو ان کے تلامذہ نے ان کی سالگرہ منانے کی خواہش ظاہر کی۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن نے جواب دیا کہ: "میری سالگرہ کو منانے کے بجائے اگر 5 ستمبر کا دن پورے ملک کے اساتذہ کی خدمات کے اعتراف کے لیے وقف کر دیا جائے، تو یہ میرے لیے سب سے بڑا اعزاز ہوگا۔”
اسی کے بعد سے پورے ملک میں 5 ستمبر کو یومِ اساتذہ منانے کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
جبکہ عالمی سطح پر یونیسکو (UNESCO) اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے تحت ہر سال 5 اکتوبر کو عالمی یومِ اساتذہ (World Teachers’ Day) منایا جاتا ہے۔ اس کا آغاز 1994ء میں ہوا تاکہ 1966ء کے اس بین الاقوامی معاہدے کی یاد تازہ رکھی جا سکے جس میں اساتذہ کے بنیادی حقوق، فرائض، روزگار کے تحفظ اور پیشہ ورانہ آزادی کے اصول طے کیے گئے تھے۔
اسلامی تعلیمات اور معلم کی حیثیت:
اسلام سراپا علم، حکمت اور بصیرت کا دین ہے۔ اسلام نے معلم کو جو تقدس، مقام اور بلندی عطا فرمائی ہے، اس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے مذہبی یا فلسفیانہ نظام میں نہیں ملتی۔
قرآنِ مجید میں باری تعالیٰ نے اپنی ذات کو کائنات کا پہلا اور حقیقی معلم قرار دیا۔ سورۃ الرحمٰن کی ابتدائی آیات میں صفتِ تخلیق پر صفتِ تعلیم کو مقدم رکھ کر علم و تدریس کی غیر معمولی اہمیت کو واضح کیا گیا:
اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَہُ الْبَیَانَ (الرحمن: 1-4)
مفسرین کے مطابق انسان کی مادی خلقت سے قبل اس کی روحانی غذا یعنی قرآن کی تعلیم کا ذکر کرنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ علم ہی انسان کی اصل عظمت ہے۔ اسی طرح سورۃ البقرہ میں فرمایا گیا:
وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَیُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ (البقرۃ: 282)
سرکارِ دو عالم ﷺ بحیثیت معلمِ انسانیت:
اللہ رب العزت نے انبیاء و رسل کے سلسلے کا مقصد ہی نوعِ انسانی کی تعلیم و تربیت قرار دیا۔ سرورِ کائنات، فخرِ موجودات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بعثت کے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْأُمِّیّٖنَ رَسُوْلاً مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ آیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ (الجمعۃ: 2)
اس آیتِ کریمہ میں بعثت کے تین بنیادی ستون بیان کیے گئے ہیں:
تلاوتِ آیات
تزکیۂ نفس
تعلیمِ کتاب و حکمت
حضورِ اکرم ﷺ نے ان مقاصد کو اپنی زبانِ مبارک سے یوں سمیٹ کر بیان فرمایا:
إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا (ابن ماجہ: 1/265، رقم الحدیث: 225) "مجھے معلم بنا کر ہی مبعوث کیا گیا ہے۔”
اسلام استاد کے احترام کو کسی ایک مخصوص دن کا پابند نہیں کرتا بلکہ پوری زندگی ان کی اطاعت، توقیر اور قدردانی کا حکم دیتا ہے۔ یونانی فاتح سکندرِ اعظم نے بھی اسی ابدی سچائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا: "میں زمین پر اترنے اور زندگی پانے کے لیے اپنے والدین کا شکر گزار ہوں، مگر ایک باعزت اور شاندار زندگی گزارنے کے لیے اپنے استاد کا احسان مند ہوں۔”
معلم کی ذمہ داری صرف کتابی معلومات منتقل کرنے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک معمار کی طرح شخصیت کے ہر پہلو کو تراشتا ہے۔ تدریسی عمل کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ استاد خود کتنی جامع اور متوازن خصوصیات کا حامل ہے۔
پروفیسر انعام اللہ خاں شیروانی نے اساتذہ کے اوصاف کا نہایت جامع تجزیہ کرتے ہوئے انہیں دو بنیادی حصوں میں تقسیم کیا ہے: (۱)عام اوصاف (شخصیتی و اخلاقی کمالات):
اس میں استاد کا اعلیٰ سیرت و کردار، احساسِ ذمہ داری، فرض شناسی، بے لوث لگن، مردم شناسی، معاملہ فہمی، بروقت قوتِ فیصلہ، خوش اخلاقی، بردباری، صبر و استقلال، ایثار اور طلبہ کے تئیں گہری ہمدردی شامل ہیں۔ اگر استاد باکردار اور صابر نہ ہو تو وہ طلبہ کے لیے رول ماڈل نہیں بن سکتا۔(۲)خاص اوصاف (پیشہ ورانہ و علمی مہارتیں):
اس سے مراد استاد کی علمی لیاقت، زبان و بیان پر مکمل دسترس، تدریسی تجربہ و مہارت، کتب بینی اور مطالعہ و مشاہدہ کی عادت، اطفال کی نفسیات سے گہری واقفیت، متاثر کن اندازِ بیان اور وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو اپ ڈیٹ رکھنے کا ذوق ہے۔
تعلیم و تربیت کا عمل دراصل بچے کی پیدائش اور گھریلو ماحول سے شروع ہوتا ہے جہاں والدین ابتدائی نقوش ثبت کرتے ہیں۔ تاہم جب بچہ 6 سال سے 14 سال کے مرحلے میں داخل ہوتا ہے تو یہ اس کی زندگی کا سب سے حساس، نازک اور فیصلہ کن دور ہوتا ہے:
اس عمر میں بچوں کا حافظہ غیر معمولی تیز ہوتا ہے اور ان کے اندر تلاش و جستجو کا مادہ عروج پر ہوتا ہے۔
وہ اپنے ماحول اور خصوصاً اساتذہ کے حرکات و سکنات، بول چال اور رویوں کو تیزی سے جذب کرتے ہیں۔
اگر اس مرحلے پر ان کی مناسب فکری و اخلاقی نگرانی نہ کی جائے تو وہ غلط راستوں پر بھٹک سکتے ہیں۔
استاد کا اولین کام بچے کے دل میں حصولِ علم کی سچی پیاس جگانا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ بچے کا روحانی مربی اور ناصح بھی ہوتا ہے۔ ایک باضمیر معلم اپنے شاگرد کو ایسا شعور بخشتا ہے جس سے وہ حق و باطل، اچھے اور برے میں تمیز کر سکے، حالات کے نت نئے چیلنجز کا مردانہ وار مقابلہ کر سکے اور خود شناس و خدا شناس بن کر دونوں جہانوں میں سرخرو ہو سکے۔
تاریخی طور پر تعلیمی ادارے انسان سازی کے مقدس مراکز ہوا کرتے تھے، جہاں سے صاحبِ کردار، دیانت دار اور انسانیت کے درد سے سرشار رجالِ کار تیار ہو کر نکلتے تھے۔ مگر موجودہ عہد میں مادہ پرستی کے طوفان نے نظامِ تعلیم کے پورے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
مولانا ندیم الواجدی رحمتہ علیہ اس زوال کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: "اسکولوں اور کالجوں کا حال بڑا خراب ہے۔ اب تعلیم خدمت سے زیادہ تجارت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ایک مہذب معاشرے میں تجارت بھی اعلیٰ قدروں سے مبرا نہیں ہوتی، لیکن کالجوں میں تعلیم و تعلم کی صورت میں جو تجارت آج کل مروج ہے وہ ہر طرح کی قید و بندش سے آزاد ہے۔ طلبہ اور اساتذہ دونوں پر مادیت غالب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تعلیمی ادارے اب تعلیم میں کم اور دوسری چیزوں میں زیادہ مشغول ہیں۔ مار دھاڑ، قتل و غارت گری، ہلڑ بازی، ہنگامہ آرائی، ریگنگ، تعلیمی مقاطعہ اور گھیراؤ یہ سب وہ عنوانات ہیں جو ہماری تعلیم گاہوں کی پیشانی پر جلی قلم سے لکھے جا رہے ہیں۔ کبھی ان اداروں میں تہذیب سکھلائی جاتی تھی، اب بے شرمی کا سبق دیا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کی بڑی ذمہ داری ان اساتذہ پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے اپنے منصب کے تقاضوں کو پسِ پشت ڈال دیا اور خود بھی ان تجارت گاہوں کا حصہ بن گئے۔”
اس اخلاقی گراوٹ کا سب سے بھیانک اور لرزہ خیز پہلو وہ ہے جب تعلیمی اداروں میں معصوم ذہنوں کے اندر مذہب، ذات پات اور لسانی بنیادوں پر منافرت اور تعصب کے بیج بوئے جاتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں ریاست اتر پردیش (مظفر نگر) کے ایک اسکول کا دل دہلا دینے والا واقعہ منظرِ عام پر آیا، جہاں ایک نام نہاد ٹیچر نے تعصب کی انتہا کرتے ہوئے کلاس کے دیگر معصوم بچوں سے ایک اقلیتی طالب علم کو باری باری تھپڑ لگوائے اور توہین آمیز کلمات کہے۔
یہ واقعہ محض ایک استاد کی انفرادی پستی نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کے ضمیر پر ایک گہرا طمانچہ ہے۔ جب وہ ہستی جس کو معاشرے میں روحانی والدین کا درجہ حاصل تھا، خود بچوں کے درمیان نفرت اور تقسیم کی دیواریں کھڑی کرنے لگے، تو پھر ایک مہذب، باوقار اور پرامن معاشرے کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟
موجودہ دور کے اس گھمبیر تعلیمی و اخلاقی بحران کے تناظر میں یہ سوال شدت سے پیدا ہوتا ہے کہ کیا 5 ستمبر کا دن صرف چند روایتی تقریبات، سوشل میڈیا کے رسمی تہنیتی پیغامات اور گلدستے تقسیم کرنے تک محدود رہنا چاہیے؟ ہرگز نہیں!
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس دن کو "یومِ محاسبہ و خود احتسابی” کے طور پر منائیں۔ ہر استاد کو اپنے گریبان میں جھانک کر یہ سوال کرنا ہوگا کہ کیا وہ اس مقدس پیشے کے ساتھ انصاف کر رہا ہے؟ کیا اس کی توجہ صرف تنخواہ اور گھنٹوں کی تکمیل پر ہے یا وہ واقعتاً طلبہ کی فکری اور اخلاقی تعمیر میں اپنا خونِ جگر صرف کر رہا ہے؟
درسگاہوں کو سیاست، تعصب اور فرقہ واریت سے مکمل طور پر پاک رکھنا ہوگا۔ استاد کا کوئی مذہب، ذات یا زبان بچوں کے درمیان تفریق کا سبب نہیں بننی چاہیے؛ استاد کے سامنے صرف "انسان” اور "طالب علم” ہونا چاہیے۔
تعلیمی اداروں کے منتظمین اور اساتذہ کو تعلیم کو خالص تجارتی شے بنانے سے گریز کرنا چاہیے اور اس کے تقدس اور تربیتی پہلو کو بحال کرنا چاہیے۔
والدین کو بھی چاہیے کہ وہ استاد کے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرنے میں کردار ادا کریں اور بچوں کے سامنے استاد کے ادب و احترام کی عملی مثال قائم کریں۔
اگر ہم نے اب بھی اپنے تعلیمی رویوں کا حقیقت پسندانہ محاسبہ نہ کیا تو ڈگریاں حاصل کرنے والی مادہ پرست نسلیں تو کثرت سے پیدا ہو جائیں گی، مگر وہ دل، اخلاق، تہذیب اور انسانیت کی بنیادی قدروں سے یکسر خالی ہوں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ یومِ اساتذہ پر جشن سے زیادہ اپنے منصب اور ذمہ داریوں کے تئیں خود احتسابی کا چراغ روشن کیا جائے۔ ***
