از: صفی اللہ محمد الانصاری
مدیر مسؤول، مجلہ القلم، نیپال
_________________________
موجودہ دور کو اگر انفرادیت، خود غرضی، مادیت اور ذاتی ترجیحات کا دور کہا جائے تو شاید بے جا نہ ہوگا۔ ہر شخص اپنی دنیا میں مست و مگن، اپنی مصروفیات میں الجھا ہوا اور اپنی ترجیحات کے حصار میں محدود نظر آتا ہے۔ اجتماعی فکر، ملی ذمہ داری اور تنظیمی شعور جیسی اعلیٰ قدریں رفتہ رفتہ کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔ خصوصاً جمعیتوں اور تنظیموں کی صورتِ حال پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت طشت از بام ہو جاتی ہے کہ بیشتر مقامات پر فعالیت کا چراغ مدھم پڑ چکا ہے، دعوتی اور اجتماعی سرگرمیاں محدود ہو گئی ہیں، ذمہ داریوں کا احساس کمزور پڑ گیا ہے۔ نیز شفافیت، جواب دہی اور باہمی تعاون جیسے بنیادی اصول بھی تشویش ناک حد تک نظر انداز ہونے لگے ہیں۔
ایسے ماحول میں اگر کوئی شخص کسی جماعتی یا تنظیمی ذمہ داری کو محض ایک عہدہ سمجھنے کے بجائے اسے امانت، خدمت اور جواب دہی کا فریضہ تصور کرتے ہوئے اخلاص، فعالیت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادا کرے تو یقیناً وہ شخص قدر و ستائش کا مستحق ہے۔ عہدہ حاصل کرنا نسبتاً آسان ہے، لیکن اس کے تقاضوں کو پورا کرنا، وقت دینا، لوگوں کو جوڑنا، رفقائے کار کو ساتھ لے کر چلنا، اجتماعی کاموں کو آگے بڑھانا اور اپنی ذمہ داری کے تئیں ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال دینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
ہماری نظر میں ایسے ہی فعال، ذمہ دار اور مخلص افراد میں فضیلۃ الشیخ مولانا وصی اللہ عبدالحکیم مدنی حفظہ اللہ ناظم اعلیٰ ضلعی جمعیت اہلِ حدیث سدھارتھ نگر، اتر پردیش اور ان کے رفقاء کار خصوصاً امیر محترم مولانا محمد ابراہیم مدنی اور ناظمِ اعلیٰ کے نائبین و معاونین مولانا عبدالرب سلفی، مولانا سعود اختر سلفی اور مولانا رفیع احمد ندوی حفظہم اللہ کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے، جو کہ اپنی ذمہ داریوں کو نہایت سنجیدگی، فعالیت اور شعور کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ جہاں تک ہمارا مشاہدہ اور احساس ہے ضلعی جمعیت کی اس باڈی نے اپنی ذمہ داریوں کو محض نام و نمود یا رسمی منصب نہیں بنایا، بلکہ اسے خدمت اور امانت سمجھتے ہوئے دعوتی، تعلیمی، رفاہی اور دیگر جماعتی امور کو زندہ رکھنے، افراد کو جوڑنے اور جمعیت کے مقاصد و مشن کو آگے بڑھانے کی عملی کوشش کی ہے۔
اسی احساسِ ذمہ داری اور اجتماعی فکر کی ایک خوب صورت مثال مسابقۂ حفظِ قرآنِ کریم ہے جو ضلعی جمعیت اہلِ حدیث سدھارتھ نگر کے زیرِ اہتمام 14 نومبر 2026ء کو مرکز آفاق لتحفیظ القرآن الکریم، مہدیّا، سدھارتھ نگر میں منعقد ہونے جا رہا ہے جس میں فائزین طلبہ و حفاظ کرام کو قیمتی انعامات و اعزازات اور سرٹیفکیٹ سے نوازا جائے گا اور دیگر شرکاء کو تشجیعی انعامات سے نوازا جائے گا۔ ان شاءاللہ
قرآنِ کریم اللہ رب العالمین کا آخری کلام اور انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت اور نور کا سرچشمہ ہے۔ اس کی تلاوت، حفظ، فہم اور عمل انسان کی دنیا و آخرت دونوں کو سنوارنے کا ذریعہ ہے۔ کتاب و سنت میں قرآنِ کریم سے وابستگی اور اس کی تعلیم و تعلم کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ(سورۃ الحجر: 9)
"بے شک ہم ہی نے یہ ذکر (قرآن) نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں”۔
یہ آیت قرآنِ کریم کی حفاظت کی سب سے بنیادی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے۔ اس حفاظت کے ظاہری اسباب میں صحابۂ کرام کا قرآن کو اپنے سینوں میں محفوظ کرنا، تابعین کا اسے حفظ کرنا، قراء و حفاظ کا اسے نسل در نسل منتقل کرنا اور مصاحف میں اسے محفوظ کرنا شامل ہے-
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ (صحیح البخاری/ 5027 )
"تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے”۔
یہ حدیث قرآن سے تعلق رکھنے والوں کے لیے نہایت عظیم بشارت ہے۔ قرآن سیکھنے میں اس کی صحیح قراءت، حفظ، تلاوت، معانی اور احکام وغیرہ شامل ہیں اور اسے دوسروں تک پہنچانا بھی اس فضیلت میں داخل ہے۔
لہٰذا قرآن کے ساتھ نئی نسل کا تعلق مضبوط کرنا، بچوں کے سینوں کو کلامِ الٰہی سے آباد کرنا اور ان کے اندر مسابقات کے ذریعہ حفظِ قرآن کا شوق پیدا کرنا ایک عظیم دینی خدمت اور نہایت مبارک ذمہ داری ہے۔
یہ حقیقت کسی سے مخفی نہیں کہ آج کے ماڈرن، مغربی اور مادیت پرستانہ ماحول میں دین سے دوری اور دینی اقدار سے بے اعتنائی میں روز افزوں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ بعض حلقوں میں بچوں کو شرعی علوم اور حفظِ قرآن جیسے عظیم سرمایے سے محروم رکھنے کا رجحان پیدا ہو رہا ہے اور قرآن سے وابستگی کو قدامت پسندی یا دقیانوسیت سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایسے ماحول میں حفظِ قرآن کا مسابقہ درحقیقت ایک بامقصد اور مثبت دعوت ہے۔ یہ نئی نسل کے سینوں کو قرآنِ کریم سے آباد کرنے، حفظِ قرآن کے ذوق کو فروغ دینے، حفاظ و طلبہ کی تکریم و حوصلہ افزائی کرنے اور معاشرے میں کتاب اللہ کے ساتھ محبت، تعلق اور عملی وابستگی پیدا کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
لہٰذا ضلعی جمعیت اہلِ حدیث سدھارتھ نگر کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والا یہ مسابقۂ حفظِ قرآنِ کریم ہر اعتبار سے ہماری بھرپور تائید، حوصلہ افزائی اور تعاون کا مستحق ہے۔
مدارس کے ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ اس میں خصوصی دلچسپی لیں اور اپنے یہاں زیر تعلیم طلبہ کو اس مسابقہ میں شرکت کے لیے نہ صرف آمادہ کریں بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کریں۔ امید ہے کہ مدارس کے ذمہ داران اور طلبہ کے والدین اس جانب خصوصی توجہ فرمائیں گے۔رجسٹریشن کی آخری تاریخ:17 اکتوبر 2026ء ہے۔
اسی طرح اربابِ ثروت اور اہلِ خیر حضرات سے خصوصی گزارش ہے کہ وہ اس پروگرام کی کامیابی میں اپنا گراں قدر تعاون پیش فرمائیں اور اس خیر کے کام میں اپنا حصہ شامل کریں۔
ہم شیخِ محترم مولانا محمد ابراہیم مدنی، مولانا وصی اللہ عبدالحکیم مدنی، ان کے نائبین مولانا عبدالرب سلفی، مولانا سعود اختر سلفی اور مولانا رفیع احمد ندوی اور تمام ذمہ داران و رفقائے کار کو اس مبارک قرآنی کاوش پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مسابقۂ حفظِ قرآنِ کریم کو ظاہری و معنوی ہر اعتبار سے کامیاب بنائے، اس کے منتظمین، معاونین، سرپرستان اور تمام شرکاء کی کوششوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، حفاظِ کرام اور طلبہ کے علم و عمل میں برکت دے، اور اس مسابقہ کو نسل نو کے دلوں کو قرآنِ کریم کی محبت، نور اور ہدایت سے منور کرنے کا مؤثر ذریعہ بنائے۔
