( نیپال کے سیلاب کے تناظر میں )

 حافظ صفی الرحمن فرقانوی

خادم مدرسہ رئیس العلوم پرسیا

جامع مسجد سلیمان اٹوا بازار میں فضیلة الشیخ شاہد جنید اقبال مدنی حفظہ اللہ کا ایمان افروز خطاب۔

اٹوا بازار ضلع سدھارتھ نگر اتر پردیش جامع مسجد سلیمان سرکاری اسپتال کے سامنے اٹوا بازار میں جمعہ کے موقع پر فضیلة الشیخ شاہد جنید اقبال مدنی حفظہ اللہ امام و خطیب جامع مسجد سلیمان نے نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے تناظر میں نہایت اہم فکر انگیز اور ایمان افروز خطاب فرمایا۔

خطیب صاحب نے اپنے خطاب کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام سے کرتے ہوئے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے ہمیں صحت و عافیت ایمان و اسلام اور اپنے گھر میں جمع ہوکر نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہمیں اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اپنے گھروں کو بھی نماز سے آباد کرنا چاہیے

فضیلة الشیخ شاہد جنید اقبال مدنی حفظہ اللہ نے نمازیوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ پانچوں وقت کی نماز کی پابندی کی جائے باپ خود نماز کا اہتمام کرے اور اپنے بچوں کو بھی نماز کا عادی بنائے ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کو بھی نماز کی پابندی کرنی چاہیے کیونکہ نماز مسلمان کی زندگی کا بنیادی فریضہ ہے

انہوں نے فرمایا کہ انسان کو وقتاً فوقتاً اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے کہ میری نماز کیسی ہے میرا عقیدہ کیسا ہے میرے معاملات کیسے ہیں میں اپنے والدین اہل خانہ پڑوسیوں اور معاشرے کے ساتھ کیسا برتاؤ کر رہا ہوں۔

نیپال کا تباہ کن سیلاب انسان کے لیے بڑا سبق

خطیب صاحب نے نیپال میں آنے والے حالیہ تباہ کن سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نیپال میں اس قدرتی آفت نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے مکانات سڑکیں کاروباری مراکز بنیادی ڈھانچہ اور دیگر املاک شدید متاثر ہوئی ہیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگ جاں بحق اور لاپتہ ہوئے ہیں تازہ اطلاعات کے مطابق ہزاروں مکانات دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے اور امدادی و تلاش کا کام مسلسل جاری ہے۔

فضیلة الشیخ شاہد جنید اقبال مدنی حفظہ اللہ نے کہا کہ نیپال کے اس سیلاب کا منظر ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ انسان اپنی طاقت دولت اور ترقی کے باوجود اللہ تعالیٰ کے سامنے کتنا بے بس ہے چند لمحوں میں وہ چیزیں جن پر انسان کو بڑا ناز ہوتا ہے پانی مٹی اور ملبے کی نذر ہوجاتی ہیں

انہوں نے قرآن کریم کی آیت تلاوت فرمائی

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ

 میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ (الذاریات 56)

خطیب صاحب نے فرمایا کہ دنیا انسان کے لیے ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں بلکہ آزمائش کی جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کبھی انسان کو خوشحالی دے کر آزماتا ہے اور کبھی مصیبت کے ذریعے۔

آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں

فضیلة الشیخ شاہد جنید اقبال مدنی حفظہ اللہ نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی

وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ

 اور ہم ضرور تمہیں کسی قدر خوف بھوک مالوں جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔ (البقرۃ 155)

انہوں نے فرمایا کہ بیماری غربت کاروباری نقصان فصل کی تباہی بارش سیلاب زلزلہ اور دیگر حالات انسان کے لیے آزمائش بن سکتے ہیں ایسے مواقع پر مسلمان کو گھبراہٹ کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔

قرآن کریم نے صبر کرنے والوں کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا

الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

 وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ (البقرۃ 156)

تقدیر پر ایمان مسلمان کے عقیدے کا حصہ ہے

خطیب صاحب نے کہا کہ مسلمان کا عقیدہ ہے کہ دنیا میں پیش آنے والی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے علم اور تقدیر کے مطابق ہے ہمیں اچھی اور بری تقدیر پر ایمان رکھنا چاہیے۔

انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے تقدیر کے متعلق واضح طور پر بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوقات کی تقدیریں لکھ دی تھیں۔

البتہ انہوں نے ایک اہم بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ کسی خاص قدرتی آفت کے بارے میں بغیر شرعی دلیل کے قطعی طور پر یہ کہنا درست نہیں کہ یہ فلاں لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ہی ہے مصیبت آزمائش بھی ہوسکتی ہے تنبیہ بھی گناہوں کا کفارہ بھی اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بھی ہمیں دوسروں پر فیصلہ لگانے کے بجائے اپنے لیے اس میں نصیحت اور عبرت حاصل کرنی چاہیے۔

مصیبت میں مومن کا رویہ کیا ہونا چاہیے

فضیلة الشیخ شاہد جنید اقبال مدنی حفظہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کی مشہور حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا

عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ

 مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے اس کا ہر معاملہ اس کے لیے خیر ہے۔

اگر اسے خوشی ملتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے یہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے یہ بھی اس کے لیے خیر ہے۔ (صحیح مسلم 2999)

خطیب صاحب نے کہا کہ نیپال کے سیلاب جیسے واقعات ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے توبہ کرنے استغفار کرنے اور اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی دعوت دیتے ہیں۔

دنیا کی طاقت اللہ کے سامنے بے بس ہے

خطیب صاحب نے فرمایا کہ انسان اپنی طاقت دولت ٹیکنالوجی اور ترقی پر جتنا چاہے فخر کرلے لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے انسان بے بس ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ

 اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسی اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔ (الزمر 67)

انہوں نے کہا کہ نیپال کا سیلاب انسان کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ ہمیں اپنی طاقت اور دولت پر غرور نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنے رب کے سامنے جھکنا چاہیے۔

موت ایک اٹل حقیقت ہے

خطیب صاحب نے موت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے قرآن کریم کی آیت تلاوت کی

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ

 ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ (آل عمران 185)

فضیلة الشیخ شاہد جنید اقبال مدنی حفظہ اللہ نے فرمایا کہ نیپال کے اس حادثے میں ہونے والی اموات ہمیں اپنی موت یاد دلاتی ہیں انسان کو معلوم نہیں کہ اس کی زندگی کا آخری لمحہ کب آجائے اس لیے موت سے پہلے موت کی تیاری ضروری ہے۔

مصیبت زدہ انسانوں کی مدد کرنا اسلامی تعلیم ہے

خطیب صاحب نے کہا کہ اسلام انسانیت کے ساتھ ہمدردی عدل اور حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے جو لوگ مصیبت میں مبتلا ہیں ان کی مدد کرنا ان کے لیے دعا کرنا اور حسب استطاعت ان کا تعاون کرنا نیکی کا کام ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى

 نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ (المائدہ 2)

شاہد جنید اقبال مدنی حفظہ اللہ نے واضح کیا کہ مصیبت زدہ انسان کی مدد کرنا انسانیت اور نیکی دونوں کا تقاضا ہے خواہ متاثرہ شخص کسی بھی قوم یا مذہب سے تعلق رکھتا ہو.

قرآن کریم فرماتا ہے:

أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ

 کہ تم ان کے ساتھ نیکی اور انصاف کرو۔ (الممتحنہ 8)

اسلام حسن سلوک اور صلہ رحمی کا درس دیتا ہے

خطیب صاحب نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کی والدہ مسلمان نہیں تھیں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کیا میں اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کروں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

نَعَمْ صِلِي أُمَّكِ

 ہاں اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو

فضیلة الشیخ شاہد جنید اقبال مدنی حفظہ اللہ نے فرمایا کہ اسلام ہمیں رشتہ داروں پڑوسیوں ضرورت مندوں اور مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔

مہمان نوازی اور حسن اخلاق

انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان بھی بیان کیا

مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ

 جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے

خطیب صاحب نے کہا کہ مسلمان کی پہچان صرف عبادات سے نہیں بلکہ اس کے اخلاق معاملات ہمدردی اور حسن سلوک سے بھی ہوتی ہے۔

سیلاب میں فوت ہونے والے مسلمان کے لیے شہادت کی امید

خطیب صاحب نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے شہداء کی مختلف قسموں کا ذکر فرمایا جن میں ڈوب کر مرنے والا بھی شامل ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا

الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِيقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ

 شہید پانچ ہیں طاعون سے مرنے والا پیٹ کی بیماری سے مرنے والا ڈوب کر مرنے والا ملبے تلے دب کر مرنے والا اور اللہ کی راہ میں شہید ہونے والا۔

انہوں نے وضاحت فرمائی کہ اگر کوئی مسلمان سیلاب میں ڈوب کر فوت ہوا ہو تو اس کے لیے شہادت کی امید کی جاتی ہے البتہ کسی معین شخص کے بارے میں قطعی فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔

تکلیفیں مومن کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں

خطیب صاحب نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ مسلمان کو پہنچنے والی مختلف تکلیفیں اس کے گناہوں کے کفارے کا سبب بنتی ہیں یہاں تک کہ کانٹا چبھنے کی تکلیف بھی

لہٰذا مصیبت کے وقت مسلمان کو صبر کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھنی چاہیے اور مایوسی سے بچنا چاہیے

 

نیپال کے سانحے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

خطیب صاحب نے اپنے خطاب کے اختتامی حصے میں فرمایا کہ نیپال کے سیلاب نے ہمیں کئی اہم سبق دیے ہیں

ہمیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر ایمان رکھنا چاہیے

ہمیں مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے

ہمیں اپنے گناہوں سے توبہ اور استغفار کرنا چاہیے

ہمیں پانچوں وقت کی نماز کی پابندی کرنی چاہیے

ہمیں اپنے گھروں کو قرآن نماز اور ذکر سے آباد کرنا چاہیے۔ہمیں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا چاہیے۔

مصیبت کے وقت صبر کرنا چاہیے

اپنی طاقت، دولت اور حیثیت پر غرور نہیں کرنا چاہیے اور جو لوگ کسی مصیبت میں مبتلا ہوں ان کی حسب استطاعت مدد کرنی چاہیے۔

فضیلة الشیخ شاہد جنید اقبال مدنی حفظہ اللہ نے آخر میں نیپال کے سیلاب سے متاثرہ تمام لوگوں کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمام مصیبت زدگان کی مشکلات آسان فرمائے زخمیوں کو صحت عطا فرمائے لاپتہ افراد کو اپنے اہل خانہ تک بحفاظت پہنچائے اور امدادی کاموں میں مصروف تمام افراد کی مدد فرمائے۔

انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ہمیں اپنی قدرت سے عبرت حاصل کرنے والا نماز قائم کرنے والا قرآن سے جڑنے والا اپنے گناہوں سے توبہ کرنے والا اور مصیبت زدہ انسانوں کے کام آنے والا بنائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کی حقیقت سمجھنے اپنی اصلاح کرنے اور آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے