ممبئی میں ایک دہائی کے دوران سو سے زیادہ مراٹھی میڈیم اسکول ختم؛ ریاست میں چار برسوں میں 624 اسکولوں کی کمی—زبان کے تحفظ کے نعروں اور تعلیمی حقیقت کے درمیان بڑھتا ہوا تضاد
جاوید جمال الدین
مراٹھی زبان کے تحفظ اور فروغ کی بات مہاراشٹر کی سیاست میں نئی نہیں ہے۔ کبھی مراٹھی کو روزگار اور سرکاری معاملات سے جوڑنے کی مہم چلتی ہے، کبھی ممبئی میں آٹو رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے مراٹھی جاننے کی شرط پر زور دیا جاتا ہے اور کبھی مراٹھی شناخت کو سیاسی بحث کا مرکز بنا دیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں بالی ووڈ اداکار سنجے دت کے ایک جملے نے بھی اسی بحث کو دوبارہ زندہ کردیا۔ تھانے میں دہی ہانڈی کے ایک پروگرام میں انہوں نے مذاقاً کہا کہ یروڈا جیل میں چھ برس رہنے کے باوجود وہ مراٹھی نہیں سیکھ سکے۔ اس پر اعتراض ہوا تو انہوں نے وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک سے بات کرکے وضاحت کی، معذرت کی اور کہا کہ وہ مراٹھی جانتے اور بولتے ہیں اور ان کا خاندان ممبئی اور مہاراشٹر سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
یہ واقعہ اپنی جگہ معمولی یا ایک اداکار کے مذاق کا معاملہ ہوسکتا ہے، لیکن اس نے ایک بڑے سوال کو پھر سامنے لا کھڑا کیا ہے: اگر مراٹھی واقعی مہاراشٹر کی شناخت، ثقافت اور روزمرہ زندگی کی بنیادی زبان ہے تو اس کی سب سے مضبوط بنیاد یعنی مراٹھی میڈیم اسکول مسلسل کیوں کم ہورہے ہیں؟ ایک طرف حکومت اور سیاسی جماعتیں مراٹھی بولنے پر زور دے رہی ہیں، دوسری طرف والدین خود اپنے بچوں کو مراٹھی میڈیم سے دور لے جارہے ہیں۔ کیا صرف ڈرائیوروں، دکانداروں یا دوسرے شعبوں کے کارکنوں سے مراٹھی سیکھنے کا مطالبہ کرکے زبان کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے، جبکہ مراٹھی معاشرے کا ایک بڑا حصہ اپنے بچوں کے لیے انگریزی میڈیم کو ترجیح دے رہا ہے؟
دستیاب اعداد و شمار اس تضاد کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ ممبئی میں 2019-20 کے دوران مراٹھی میڈیم کے تقریباً 461 اسکول تھے، جو 2024-25 تک کم ہوکر 421 رہ گئے۔ یعنی صرف چند برسوں میں 40 اسکول کم ہوگئے۔ طلبہ کی تعداد میں کمی اس سے بھی زیادہ تشویش ناک ہے۔ ایک وقت میں مراٹھی میڈیم اسکولوں میں ایک لاکھ 35 ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم تھے، لیکن بعد کے اعداد و شمار میں یہ تعداد تقریباً 85 ہزار 469 تک پہنچ گئی۔ یعنی تقریباً 50 ہزار طلبہ کا فرق پیدا ہوگیا۔
ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اسکولوں کی صورت حال بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔ 2014-15 میں بی ایم سی کے مراٹھی میڈیم اسکولوں کی تعداد تقریباً 368 تھی، جو بعد کے برسوں میں کم ہوکر 262 کے آس پاس رہ گئی۔ جنوبی ممبئی سمیت مختلف علاقوں میں کئی مراٹھی اسکول بند ہوچکے ہیں یا طلبہ کی انتہائی کم تعداد کے ساتھ محض نام باقی ہے۔ دادَر کے نبار گروجی ودیالیہ کا حوالہ بھی اس بحران کی تصویر پیش کرتا ہے، جہاں چھٹی سے دسویں جماعت تک طلبہ کی تعداد انتہائی کم رہ گئی تھی اور اسکول کو اس وقت تک جاری رکھنے کی کوشش کی جارہی تھی جب تک آخری طالب علم دسویں جماعت مکمل نہ کرلے۔
مرکزی سطح پر دستیاب اعداد و شمار میں بھی ممبئی کے مراٹھی میڈیم اسکولوں کی تعداد میں کمی کا ذکر سامنے آیا ہے۔ 2019-20 میں جہاں ایسے اسکولوں کی تعداد تقریباً 380 بتائی گئی، وہیں 2023-24 میں یہ تعداد 340 کے قریب رہ گئی۔ طلبہ کی تعداد بھی تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار سے گھٹ کر 98 ہزار کے آس پاس پہنچ گئی۔ ریاستی سطح پر بھی صورت حال مختلف نہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں سینکڑوں مراٹھی میڈیم اسکولوں کے کم ہونے یا بند ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ اسی دوران سیکڑوں نئے انگریزی میڈیم اسکول قائم ہوئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق چار برسوں میں مراٹھی میڈیم کے 624 اسکول کم ہوئے جبکہ 426 نئے انگریزی میڈیم اسکول شامل ہوئے۔
یہ محض اعداد نہیں ہیں۔ ہر بند ہونے والا اسکول ایک عمارت سے زیادہ معنی رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ایک محلہ، ایک استاد، کئی نسلوں کی یادیں اور زبان سے جڑا ایک سماجی ماحول بھی کمزور ہوتا ہے۔ اسکول زبان کی صرف تدریس گاہ نہیں ہوتا بلکہ زبان کے استعمال، تہذیب، ادب اور سماجی رشتوں کو زندہ رکھنے کا بنیادی ادارہ بھی ہوتا ہے۔ اگر مراٹھی میڈیم اسکول مسلسل کم ہوتے رہے تو محض سرکاری دفاتر یا ٹرانسپورٹ کے شعبے میں مراٹھی کے استعمال سے زبان کا مستقبل محفوظ نہیں کیا جاسکے گا۔
اصل سوال یہ ہے کہ والدین مراٹھی میڈیم سے کیوں دور ہورہے ہیں؟ اس کا جواب صرف یہ نہیں ہوسکتا کہ والدین اپنی مادری زبان کو پسند نہیں کرتے۔ حقیقت زیادہ پیچیدہ ہے۔ متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بہت سے والدین سمجھتے ہیں کہ انگریزی میڈیم سے ان کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم، روزگار، ٹیکنالوجی، کارپوریٹ شعبے اور عالمی مواقع تک رسائی آسان ہوگی۔ آج والدین کے سامنے مسابقت کا ایسا ماحول ہے جہاں زبان کا انتخاب اکثر جذبات نہیں بلکہ مستقبل کے معاشی امکانات کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔
اس صورت حال میں حکومت اگر مراٹھی میڈیم اسکولوں کو مضبوط بنانا چاہتی ہے تو اسے پہلے یہ اعتماد پیدا کرنا ہوگا کہ مراٹھی میڈیم میں پڑھنے والا بچہ بھی جدید تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، میڈیکل، انجینئرنگ، مینجمنٹ اور عالمی سطح کے مواقع حاصل کرسکتا ہے۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ مراٹھی ہماری زبان اور ہماری شناخت ہے۔ والدین یہ بھی پوچھیں گے کہ میرے بچے کی تعلیم، روزگار اور مستقبل کی ضمانت کہاں ہے؟
یہاں مراٹھی میڈیم اسکولوں کے معیار کا سوال بھی اہم ہے۔ بہت سے سرکاری اسکولوں میں عمارت، بنیادی سہولیات، اساتذہ کی دستیابی، جدید تدریسی وسائل اور اسکول کے ماحول کے حوالے سے مسائل رہے ہیں۔ دوسری طرف کئی نجی انگریزی میڈیم اسکول خوبصورت عمارت، ایئرکنڈیشنڈ کلاس روم، جدید سائنس لیبارٹری، کمپیوٹر سہولیات، اسمارٹ کلاس اور بہتر تشہیر کے ذریعے والدین کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ والدین جب دونوں اسکولوں کا موازنہ کرتے ہیں تو وہ صرف زبان نہیں دیکھتے بلکہ پورا تعلیمی ماحول دیکھتے ہیں۔
یہ بھی درست ہے کہ مراٹھی میڈیم کے تمام اسکول پسماندہ نہیں ہیں۔ کئی سرکاری اسکولوں میں اٹل ٹنکرنگ لیب، روبوٹکس، کمپیوٹر اور دیگر جدید سہولیات موجود ہیں۔ بعض مراٹھی میڈیم اسکولوں کا دسویں جماعت کا نتیجہ بھی قابل ذکر رہا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کامیابیوں کو بڑے پیمانے پر والدین تک پہنچانے کی مؤثر کوشش کم نظر آتی ہے۔ اگر ایک اچھا مراٹھی میڈیم اسکول خاموشی سے کام کرتا رہے اور اس کے مقابلے میں ایک نجی اسکول مسلسل اپنی تشہیر کرتا رہے تو والدین کا جھکاؤ فطری طور پر دوسری طرف ہوسکتا ہے۔
مراٹھی زبان کے تحفظ کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتوں کو اس بنیادی سوال کا جواب دینا ہوگا کہ مراٹھی اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے انہوں نے عملی طور پر کیا کیا؟ یہ سوال صرف اقتدار میں موجود جماعت سے نہیں بلکہ اپوزیشن اور ان تمام سیاسی قوتوں سے بھی ہے جو مراٹھی شناخت کو اپنی سیاست کا اہم حصہ قرار دیتی ہیں۔ اگر مراٹھی واقعی سیاسی اور ثقافتی شناخت کا مرکز ہے تو اس شناخت کا پہلا مورچہ اسکول ہونا چاہیے، نہ کہ صرف سڑک پر زبان کے استعمال کا مطالبہ۔
حال ہی میں آٹو رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے مراٹھی جاننے کے معاملے پر بھی بحث ہوئی۔ وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے مراٹھی کے استعمال اور ڈرائیوروں کے زبان سیکھنے پر زور دیا، جبکہ وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے فوری سخت کارروائی کے بجائے ڈرائیوروں کو مراٹھی سیکھنے کے لیے ایک سال کی مہلت دینے کی بات کی۔
مقامی زبان سیکھنے کی ترغیب میں کوئی برائی نہیں۔ کسی بھی ریاست میں وہاں کی زبان جاننا سماجی رابطے اور روزمرہ زندگی کے لیے فائدہ مند ہے۔ لیکن زبان کے فروغ اور زبان کے نام پر خوف پیدا کرنے کے درمیان ایک واضح لکیر ہونی چاہیے۔ ابو عاصم اعظمی جیسے رہنماؤں کا بھی موقف رہا ہے کہ مقامی زبان سیکھنے میں کوئی قباحت نہیں، لیکن تشدد، دھمکی یا دباؤ کے ذریعے زبان مسلط کرنا قابل قبول نہیں۔ یہ اصول صرف مراٹھی کے لیے نہیں بلکہ ہر زبان کے لیے ہونا چاہیے۔
مراٹھی کے مسئلے کو صرف غیر مراٹھی بولنے والوں کے خلاف شکایت بنا دینا بھی حقیقت سے فرار ہوگا۔ اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ مراٹھی معاشرے کے اندر خود مراٹھی زبان کا مقام کیا رہ گیا ہے؟ اگر مراٹھی گھرانے اپنے بچوں کو بڑے پیمانے پر انگریزی میڈیم اسکولوں میں بھیج رہے ہیں، اگر مراٹھی پڑھنے والے طلبہ کی تعداد کم ہورہی ہے، اگر کئی مراٹھی اسکول طلبہ کی کمی سے دوچار ہیں، تو اس کے لیے صرف غیر مراٹھی آبادی کو ذمہ دار قرار دینا مسئلے کو غلط سمت میں لے جائے گا۔
زبان صرف سرکاری حکم سے زندہ نہیں رہتی۔ زبان گھر میں بولی جاتی ہے، اسکول میں پڑھی جاتی ہے، کتاب میں زندہ رہتی ہے، تھیٹر کے اسٹیج پر سنائی دیتی ہے، فلموں اور ٹیلی ویژن میں استعمال ہوتی ہے، بازار اور محلے میں برتی جاتی ہے اور نئی نسل کی تخلیقی زندگی کا حصہ بنتی ہے۔ مراٹھی کو اسی مکمل دائرے میں مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
مراٹھی ادب کی تاریخ ہندوستانی زبانوں کے ادب میں انتہائی اہم مقام رکھتی ہے۔ سنت روایت سے لے کر جدید مراٹھی ناول، افسانہ، شاعری، ڈراما اور تنقید تک ایک وسیع ادبی سرمایہ موجود ہے۔ مراٹھی کے عظیم ادیبوں اور شاعروں نے سماجی اصلاح، ذات پات، غربت، عورت، مزدور، شہری زندگی اور انسانی رشتوں جیسے موضوعات پر گہرا کام کیا۔ یہ ادب صرف مراٹھی بولنے والوں کا سرمایہ نہیں بلکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی میراث کا حصہ ہے۔
اسی طرح مراٹھی اسٹیج نے بھی زبان کو زندہ رکھنے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ مراٹھی تھیٹر کی روایت نے نہ صرف بہترین ڈرامہ نگار اور اداکار پیدا کیے بلکہ سماجی اور سیاسی سوالات کو عوام تک پہنچانے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی فراہم کیا۔ ممبئی اور مہاراشٹر کے تھیٹروں میں آج بھی مراٹھی ڈرامے پیش ہوتے ہیں، لیکن نئی نسل کو اس ادبی اور تھیٹر روایت سے جوڑنے کے لیے مزید منظم کوشش کی ضرورت ہے۔
یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے: کیا مراٹھی ادب اور تھیٹر کی مقبولیت کو اسکول کی تعلیم سے جوڑا جاسکتا ہے؟ کیوں نہ مراٹھی میڈیم اسکولوں میں جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ مراٹھی ادب، تھیٹر، فلم، صحافت اور تخلیقی تحریر کو بھی نئی شکل میں متعارف کرایا جائے؟ بچوں کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ مراٹھی صرف امتحان کا مضمون نہیں بلکہ تخلیق، روزگار، اظہار اور شناخت کی زبان بھی ہوسکتی ہے۔
زبان کے تحفظ کا مطلب یہ نہیں کہ دوسری زبانوں سے دشمنی کی جائے۔ مہاراشٹر میں اردو، ہندی، گجراتی، تمل، تیلگو، کنڑ، ملیالم اور دیگر زبانیں بولنے والے لوگ دہائیوں سے رہتے آئے ہیں۔ ممبئی کی اصل طاقت ہی اس کی کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی شناخت ہے۔ مراٹھی کو مضبوط کرنے کا بہترین راستہ دوسری زبانوں کو کمزور کرنا نہیں بلکہ مراٹھی کو اتنا مضبوط، جدید اور باوقار بنانا ہے کہ لوگ اسے سیکھنا اپنے لیے فائدہ سمجھیں۔
اس مقصد کے لیے حکومت کو مراٹھی میڈیم اسکولوں کا جامع آڈٹ کرنا چاہیے۔ کہاں طلبہ کم ہوئے، کہاں اساتذہ کی کمی ہے، کہاں عمارت خراب ہے، کہاں والدین اسکول تبدیل کررہے ہیں اور کہاں اسکول کامیاب ہے، اس کا باقاعدہ مطالعہ ہونا چاہیے۔ کامیاب مراٹھی اسکولوں کے ماڈل کو دوسرے اسکولوں تک پہنچایا جائے۔ اساتذہ کی خالی اسامیاں جلد پُر کی جائیں، جدید لیب اور ڈیجیٹل سہولیات فراہم کی جائیں اور مراٹھی میڈیم کے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے راستوں کی واضح معلومات فراہم کی جائیں۔
ساتھ ہی حکومت کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ صرف مراٹھی میڈیم ہی کیوں؟ مراٹھی کو انگریزی میڈیم اسکولوں میں بھی مضبوط مضمون کے طور پر پڑھانے کی پالیسی بنائی جاسکتی ہے۔ اگر ایک بچہ انگریزی میڈیم میں پڑھ رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے مراٹھی سے محروم کردیا جائے۔ اسے اچھی مراٹھی پڑھائی، لکھی اور بولی جائے تو زبان کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے۔
مراٹھی زبان کے فروغ کی سب سے مؤثر مہم شاید وہ ہوگی جس میں کسی کو دھمکایا نہ جائے بلکہ مراٹھی کی کشش پیدا کی جائے۔ مراٹھی ادب کی نئی کتابیں بچوں تک پہنچائی جائیں، اچھے مراٹھی ڈرامے اسکولوں تک لائے جائیں، فلم اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر معیاری مراٹھی مواد تیار کیا جائے، مراٹھی میں سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کا مواد آسان زبان میں دستیاب ہو اور نوجوانوں کو یہ بتایا جائے کہ مادری یا علاقائی زبان میں تعلیم حاصل کرنا جدید دنیا سے کٹ جانا نہیں ہے۔
یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مراٹھی معاشرہ خود اپنی زبان کے ساتھ کس قدر سنجیدہ ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں سے گھر میں مراٹھی کم بولیں، مراٹھی کتابیں نہ خریدیں، مراٹھی اخبار اور رسائل نہ پڑھیں اور بچوں کو مراٹھی ادب و تھیٹر سے دور رکھیں تو صرف سیاسی تقریریں زبان کو زندہ نہیں رکھ سکتیں۔ زبان کے تحفظ کی پہلی ذمہ داری اس کے بولنے والوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔
سنجے دت کے واقعے کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ کسی اداکار کا مذاق یا کسی شخص کی ایک غلط فہمی زبان کے مستقبل کا مسئلہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہم مراٹھی کو ایسی زبان بنا رہے ہیں جسے لوگ محبت، ضرورت اور فخر کے ساتھ سیکھیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر زبان کے لیے سختی کی ضرورت کم ہوجائے گی۔ اور اگر جواب نہیں ہے تو محض سیاسی نعروں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
مراٹھی کے نام پر سیاست کرنے والوں کے سامنے آج ایک تاریخی موقع ہے۔ وہ زبان کو شناخت کی کشمکش سے نکال کر تعلیم، ادب، تھیٹر، روزگار، ٹیکنالوجی اور جدید شہری زندگی سے جوڑ سکتے ہیں۔ انہیں یہ طے کرنا ہوگا کہ مراٹھی کا مستقبل صرف سائن بورڈ، سرکاری حکم یا سیاسی جلسے میں ہے یا اسکول کے کلاس روم، گھر کی گفتگو، کتاب، تھیٹر اور نئی نسل کے خوابوں میں بھی۔
آخرکار زبان کسی حکم سے نہیں، استعمال سے زندہ رہتی ہے۔ مراٹھی کو اگر واقعی مہاراشٹر کی زندگی کی زبان بنائے رکھنا ہے تو اس کے اسکول بچانے ہوں گے، اساتذہ مضبوط کرنے ہوں گے، ادب کو نئی نسل تک پہنچانا ہوگا، مراٹھی تھیٹر کو نئے سامعین دینا ہوں گے، جدید علوم کا خزانہ مراٹھی میں پیدا کرنا ہوگا اور سب سے بڑھ کر مراٹھی معاشرے کے اندر اپنی زبان کے بارے میں اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔
آج سوال یہ نہیں کہ ایک آٹو ڈرائیور مراٹھی جانتا ہے یا نہیں۔ اس سے کہیں بڑا سوال یہ ہے کہ کل مراٹھی میڈیم اسکول میں کتنے بچے ہوں گے، مراٹھی میں کتنی کتابیں پڑھی جائیں گی، کتنے نوجوان مراٹھی میں تخلیق کریں گے اور کتنے گھر اپنے بچوں کے مستقبل کے ساتھ مراٹھی زبان کو بھی جوڑیں گے۔ اگر ان سوالوں کا جواب تلاش نہ کیا گیا تو مراٹھی کے تحفظ کے بلند دعوے اور زمین پر بند ہوتے مراٹھی اسکولوں کے درمیان کا تضاد مزید گہرا ہوتا جائے گا۔
