✍️ شاعر: انصر نیپالی

 

ہم حرم کی پاسبانی کے لیے تیار ہیں

جذبۂ شوقِ شہادت سے جگر بیدار ہیں

ہم بلادِ امن کی حرمت پہ مر مٹ جائیں گے

ہر طرح سے دشمنوں پر آج بھی یلغار ہیں

کس نے کی ہے عظمت حرمین کی پامالیاں؟

دشمنوں کی چال پر اب ضربِ کاری وار ہیں

چاہتاں ہے” رافضی” ارضِ حرم کا اقتدار

اس کی ہر مذموم سازش مغربی افکار ہیں

رافضیت ہے مسلمانوں کے حق میں پر خطر

اس لیے ہم "حوثیوں ” سے برسرِ پیکار ہیں

یا الٰہی! تو ملک "سلمان "کو توفیق دے

امتِ اسلام کے معمار ہیں سالار ہیں

سچ "محمد” تیری پالیسی بڑی ہے معتبر

قوتِ ایمان سے دشمن پہ شعلہ بار ہیں

آؤ انصر! ہم مٹا دیں رافضیت کا وجود

دینِ حق کی سربلندی کے لیے تیار ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے