لکھنؤ(پریس ریلیز): ڈاکٹر عمار رضوی، سابق کارگزار وزیر اعلیٰ اترپردیش، کی ہمشیرہ سیدہ بانو رضوی کا بروز دوشنبہ مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ وہ لکھنؤ کے میکس سپر اسپیشلٹی ہسپتال میں زیرِ علاج تھیں۔
مرحومہ گورنمنٹ گرلز انٹرمیڈیٹ کالج، محمودآباد میں بحیثیت لیکچرر خدمات انجام دینے کے بعد سبکدوش ہوئی تھیں۔ وہ نہایت منکسرالمزاج، غریب پرور اور بلند اخلاق کی حامل خاتون تھیں۔ پابندِ صوم و صلوٰۃ ہونے کے ساتھ ساتھ محبِ اہلِ بیت تھیں۔ وہ وقفِ حسینیہ سید علی حسن رمال مرحوم کی مینیجنگ متولی کے فرائض بھی نہایت ذمہ داری اور خلوص کے ساتھ انجام دے رہی تھیں۔
سیدہ بانو رضوی کے انتقال کی خبر سے عزیز و اقارب میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔ ڈاکٹر عمار رضوی نے کہا کہ مرحومہ کی موجودگی سے گھر میں بڑی رونق رہتی تھی۔ ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اس کی تلافی مشکل ہے۔
مرحومہ کی تدفین 22 ستمبر 2026، بروز سہ شنبہ، صبح 11 بجے کربلا، محمودآباد میں عمل میں آئے گی۔پسماندگان میں ان کے فرزند یاسر رضوی شامل ہیں۔
