محمد جمال اجمل دوپھڑیا
تیرے جانے سے اے اسماعیل ہے رنج و الم
بچہ بچہ رنج میں ڈوبا ہوا، ہے سب کو غم
سرسیا ، اٹوا و مینا اور سارا گلستاں
رو رہی ہے یہ زمیں اور رو رہا ہے آسماں
آپ کے شاگردوں کی ہے اک بڑی لمبی قطار
آپ کی رحلت کو سن کر سب کی آنکھیں اشکبار
جامعہ توحید کے دیوار و در پہ اک ہراس
کوٸل و قمری ، عنادل کے بھی چہرے ہیں اداس
تشنگان علم دیں جو فیض تجھ سے پاۓ ہیں
آپ کے جاتے ہی ان پر غم کے بادل چھاۓ ہیں
یاد آۓ گا تمہارا مسکرا کر بولنا
اپنے شاگردوں کو ہنس کر غلطیوں پر ڈانٹنا
صبر کی توفیق دے مولی جو بھی رنجور ہیں
بیٹیاں ، بیٹے ، و گھر والے جو غم سے چور ہیں
لغزشوں کو معاف کر جنت عطا کر یا خدا
قبر کو پر نور کر اجمل کی ہے دل سے دعا
