حافظ صفی الرحمن صفی فرقانوی

پپرا مرغہوا اٹوا بازار سدھارتھنگر

 

تمہارےجانے سے دل میں ملال آیا ہے

جئیں گے کیسے ترے بن سوال آیا ہے

غموں میں ڈوبے ہیں مینا وسرسیا اٹوا

یہاں جو آیا ہے غم سے نڈھال آیا ہے

ہمیں قرآن و سنن کا سبق سکھایا تو

ترے خلوص کا دل میں جمال آیا ہے

ہر ایک دل میں جلایا ہے دیپ الفت کا

تمہاری کاوشوں کا یہ کمال آیا ہے

رکھیں گے یاد نصیحت تلامذہ سارے

ہاں شفقتوں کا بھی دل میں خیال آیا ہے

تری جدائی سے غمگین شہر اٹوا یوں

ہر ایک دل میں غموں کا ابال آیا ہے

ہو جامعہ دارالتوحید پیارا گھر اپنا

ہر ایک سمت خوشی پر زوال آیا ہے

ہاں تیرے جانےسے دل میں ہے ایک الجھن سی

با حال تھا جو نگر اب بے حال آیا ہے

اے مولا صبر دے تو ان کےاہل خانہ کو

رہا ہے سلسلہ رخصت کا سال آیا ہے

دعائیں کرتا ہےتجھ سے ترا صفی یارب

انھیں سکون دےدل میں خیال آیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے