کاوش قلم: عبدالقیوم ہمدم علی نگری
یہی آرزو ہے میری وہ عوام تک نہ پہنچے
نظروں میں ان کی آکر وہ خام تک نہ پہنچے
لالچ ہے ایک دھوکا جھوٹی ہے سب محبت
ہو جائے بس سویرا وہ شام تک نہ پہنچے
محفوظ بھی رہے وہ عصمت سے پاک دامن
اللہ سے دعاء ہے اس گام تک نہ پہنچے
آنکھوں میں بھی حیا ہو دل میں ہو ڈر خدا کا
اللہ کرے کبھی وہ بد کام تک نہ پہنچے
نسواں کو میری باتیں کڑوی بہت لگیں گی
بہنوں تمہاری عزت بد نام تک نہ پہنچے
کچھ ہی منٹ کی لذت رسوا سدا کرے گی
شرم و حیا کی پیکر دربام تک نہ پہنچے
دامن کو پاک رکھنا یہ بھی ہے اک عبادت
عزت کبھی تمہاری نیلام تک نہ پہنچے
ہمدم نے خاص مرہم تیار کر دیا ہے
ترا ہاتھ زندگی بھر کبھی جام تک نہ پہنچے
