ڈاکٹر سراج الدین ندوی
ڈائریکٹرمرکزتعلیم القرآن ۔دہلی
یہ سوال محض ایک سوال نہیں، ہماری پوری امت کے سامنے کھڑا ہوا ایک آئینہ ہے۔ ہم مسلمان ہیں، ہمارے پاس قرآن مجید ہے، ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں، اسے اللہ کی آخری کتاب مانتے ہیں، اس کی تلاوت کرتے ہیں، گھروں میں رکھتے ہیں، مسجدوں میں پڑھتے ہیں، رمضان میں اس کے ختم کرتے ہیں، لیکن کیا صرف قرآن کو مان لینا اور اس کی تلاوت کرلینا اس بات کی ضمانت ہے کہ ہم دنیا میں عزت و سرفرازی بھی حاصل کرلیں گے؟ اگر قرآن ہمارے پاس موجود ہے تو پھر ہماری حالت یہ کیوں ہے کہ ہم محکوم ہیں، منتشر ہیں، دوسروں کے فیصلوں کے محتاج ہیں، خوف زدہ ہیں اور دنیا کے سامنے اپنی اجتماعی قوت کھوچکے ہیں؟ کیا قرآن ہمیں سرفرازی دینے میں ناکام ہوگیا، یا ہم نے قرآن سے وہ تعلق ہی قائم نہیں کیا جس کے نتیجے میں سرفرازی حاصل ہوتی ہے؟
اس سوال کا جواب قرآن خود دیتا ہے۔ قرآن کسی قوم کو محض اس نسبت کی بنیاد پر سربلندی کی ضمانت نہیں دیتا کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہے۔ سرفرازی کے لیے قرآن ایمان اور عمل صالح کا مطالبہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْأَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِینَ مِن قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِینَہُمُ الَّذِی ارْتَضَیٰ لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُم مِّن بَعْدِ خَوْفِہِمْ أَمْنًا(النور: 55)
”اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ وہ ضرور انہیں زمین میں اقتدار عطا کرے گا، جیسے ان سے پہلے لوگوں کو اقتدار عطا کیا تھا، اور ان کے لیے ان کے پسندیدہ دین کو مضبوطی عطا کرے گا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔”
مسلمانوں کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے۔ ایک وقت تھا جب دنیا کی بڑی طاقتیں مسلمانوں کے نام سے واقف تھیں۔ ایک ایسی امت جس کے پاس نہ جدید صنعت تھی، نہ آج جیسے ذرائع ابلاغ، نہ جدید فوجی ٹیکنالوجی، نہ موجودہ زمانے کے وسائل لیکن اس کے پاس ایمان تھا، قرآن تھا، رسول اللہ ؐ کی سنت تھی اور اللہ کی بندگی کے ساتھ انسانیت کی رہنمائی کا جذبہ تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے مکہ کی ایک کمزور اور مظلوم جماعت سے ایک ایسی امت تیار کی جس نے چند ہی برسوں میں تاریخ کا رخ بدل دیا۔ خلفائے راشدین کے زمانے میں یہی قرآن ان لوگوں کے ہاتھ میں تھا جو دنیا کے بڑے حصے کو عدل، امانت اور توحید کا پیغام پہنچا رہے تھے۔ بعد کے ادوار میں بھی جب مسلمانوں نے علم، تحقیق، عدل، نظم، محنت اور اجتماعی ذمہ داری کو اپنا شعار بنایا تو دنیا کے علمی و تہذیبی افق پر ان کا نمایاں کردار رہا۔
اس وقت قرآن ان کے پاس صرف کتاب کی حیثیت سے نہیں تھا؛ وہ ان کے فیصلوں کی رہنمائی کرتا تھا، ان کے اخلاق بناتا تھا، ان کی ترجیحات طے کرتا تھا، ان کے اندر جواب دہی کا احساس پیدا کرتا تھا اور ان کی اجتماعی زندگی کو ایک مقصد دیتا تھا۔ آج ہمارے پاس قرآن موجود ہے، لیکن کیا قرآن ہماری ترجیحات طے کرتا ہے؟
ایک شخص کے پاس طب کی کتاب ہو اور وہ علاج کے اصولوں پر عمل نہ کرے تو صرف کتاب کی موجودگی اسے صحت مند نہیں بناسکتی۔ ایک طالب علم کے پاس نصاب کی پوری کتاب موجود ہو لیکن وہ نہ اسے سمجھے، نہ پڑھے، نہ امتحان کی تیاری کرے تو کتاب اس کی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ اسی طرح قرآن ہمارے گھروں میں موجود ہو لیکن ہماری زندگی قرآن کی ہدایت سے خالی ہو تو صرف قرآن کی موجودگی ہمیں سرفراز نہیں کرسکتی۔ قرآن خود انسان کو اپنی حالت بدلنے کی دعوت دیتا ہے:
إِنَّ اللَّہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّیٰ یُغَیِّرُوا مَا بِأَنفُسِہِمْ(الرعد: 11)
”بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔”
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے حالات بدل جائیں، لیکن کیا ہم اپنی عادات بدلنے کے لیے تیار ہیں؟ ہم عزت چاہتے ہیں، لیکن کیا ہم امانت دار بننے کے لیے تیار ہیں؟ ہم اتحاد چاہتے ہیں، لیکن کیا ہم تعصب چھوڑنے کے لیے تیار ہیں؟ ہم دنیا میں بلند مقام چاہتے ہیں، لیکن کیا ہم علم، محنت اور نظم و ضبط اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں؟ ہم اللہ کی مدد چاہتے ہیں، لیکن کیا ہم اللہ کی اطاعت کے لیے تیار ہیں؟
ہم چاہتے ہیں کہ قرآن ہمیں عزت دے، مگر ہم عدل نہ کریں۔ قرآن ہمیں قوت دے، مگر ہم اپنی کمزوریوں کا علاج نہ کریں۔ قرآن ہمیں اتحاد دے، مگر ہم اپنی گروہی عصبیتوں کو نہ چھوڑیں۔ قرآن ہمیں دنیا میںاعلیٰ مقام دے، مگر ہم علم و تحقیق، محنت اور کردار کے میدان میں پیچھے رہیں۔ یہ ممکن نہیں۔
قرآن نے مسلمانوں کو صرف عبادات کا حکم نہیں دیا بلکہ ایک مکمل اخلاقی و اجتماعی زندگی کی بنیاد فراہم کی ہے۔مثلاً قرآن عدل کا حکم دیتا ہے:إِنَّ اللَّہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ(النحل: 90)”بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔”
قرآن علم کی طرف متوجہ کرتا ہے:قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِینَ یَعْلَمُونَ وَالَّذِینَ لَا یَعْلَمُونَ(الزمر: 9)
”کہہ دیجیے: کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ لوگ جو علم نہیں رکھتے برابر ہوسکتے ہیں؟”
قرآن محنت اور جدوجہد کا شعور دیتا ہے:وَأَن لَّیْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَیٰ(النجم: 39)
”اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔”
قرآن اتحاد کا حکم دیتا ہے:وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّہِ جَمِیعًا وَلَا تَفَرَّقُوا(آل عمران: 103)
”اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔”
پھر سوال یہ ہے کہ جس امت کو عدل، علم، محنت اور اتحاد کا یہ منشور دیا گیا ہو، اگر وہ ان اصولوں کو چھوڑ دے تو صرف قرآن کو اپنے پاس رکھنے سے اسے سرفرازی کیسے حاصل ہوسکتی ہے؟
ہماری ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ ہم قرآن سے برکت تو چاہتے ہیں لیکن قرآن کی ہدایت نہیں۔ ہم قرآن کی تلاوت کو کافی سمجھ لیتے ہیں، لیکن اس کے مطالبات سے بے نیاز ہوجاتے ہیں۔ ہم قرآن کو بیمار کے سرہانے رکھتے ہیں، لیکن بیماری پیدا کرنے والی اپنی عادات بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہم قرآن کی آیات سے اپنی تقریریں سجاتے ہیں، مگر اپنے کردار کو قرآن سے نہیں سجاتے۔
قرآن کہتا ہے:أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ(النساء: 82)”کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟”یعنی قرآن ہم سے صرف پڑھنے کا نہیں، غور کرنے کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔ وہ ہمارے ذہن کو جگانا چاہتا ہے، ہمارے ضمیر کو بیدار کرنا چاہتا ہے اور ہماری زندگی کو بدلنا چاہتا ہے۔اسی لیے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ قرآن کا نہ ہونا نہیں، قرآن کا زندگی میں نہ ہونا ہے۔
اگر قرآن سے مراد صرف قرآن کا نسخہ ہے تو وہ ہمارے پاس آج بھی ہے، مگر ہماری حالت ہمارے سامنے ہے۔ لیکن اگر قرآن سے مراد قرآن کی ہدایت، اس کے احکام، اس کے اخلاق، اس کی ترجیحات، اس کا تصورِ انسان، اس کا تصورِ عدل اور اس کی دعوتِ عمل ہے تو پھر قرآن کو چھوڑ کر سرفرازی کا تصور ہی بے معنی ہوجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَلَا یَشْقَیٰ(طٰہٰ: 123)”پس جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا، نہ وہ گمراہ ہوگا اور نہ بدبخت۔”
اسی لیے رسول اللہ ؐ نے قرآن کو زندگی سے جوڑ کر پیش کیا۔ آپ ؐ کی پوری زندگی قرآن کی عملی تفسیر تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ ؐکے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنَ(مسلم)”آپ ؐکا اخلاق قرآن تھا۔”
یہی وہ نکتہ ہے جسے سمجھنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ قرآن جب قوم کے ہاتھ میں کتاب بن کر رہتا ہے تو اس کے اثرات محدود رہتے ہیں، لیکن جب قرآن قوم کے کردار میں اترتا ہے تو تاریخ بدلنے لگتی ہے۔
قرآن کو چھوڑ کر مسلمان شاید دنیا میں دولت جمع کرلیں، عمارتیں کھڑی کرلیں، ادارے قائم کرلیں، لیکن وہ وہ سرفرازی حاصل نہیں کرسکتے جس کے لیے قرآن انسان اور قوم کی تعمیر کرتا ہے۔ اگر ہمیں دنیا میں بھی باوقار اور مضبوط امت بننا ہے تو ہمیں قرآن کے دیے ہوئے اصولوں کو اپنی اجتماعی زندگی میں زندہ کرنا ہوگا۔ صرف ماضی کے قصے سنانے سے مستقبل نہیں بنتا۔یعنی ہمیں اپنے بچوں کو صرف قرآن پڑھانا نہیں، قرآن سمجھانا ہوگا۔اپنے نوجوانوں کو صرف ماضی کے کارنامے نہیں، مستقبل کی ذمہ داریاں بتانی ہوں گی۔اپنے معاشرے میں صرف اختلافات گنوانے کے بجائے قرآن کے ذریعے اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔اپنی محرومیوں کا ماتم کرنے کے بجائے قرآن کے اصولوں کی روشنی میں محنت، علم، کردار اور نظم پیدا کرنا ہوگا۔ہماری حالت اس وقت نہیں بدلے گی جب ہم صرف یہ کہیں گے کہ ہمارے پاس قرآن ہے؛ ہماری حالت اس وقت بدلے گی جب دنیا ہمارے کردار کو دیکھ کر کہے گی کہ قرآن اس قوم کی زندگی میں ہے۔
قرآن چھوڑنے کی سزا دنیا میں ذلت ،رسوائی ،پسپائی اورمحکومی کی شکل میں ملے گی اور آخرت میں خود رسول اکرم ؐ ہمارے خلاف گواہی دیں گے :۔’’ اے میرے رب! بے شک میری قوم نے ا س قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔‘‘(الفرقان: 30)
چھوڑ کر قرآں کو مسلم حق سے بیگانہ ہوا
دین بھی رسوا ہوا اور آپ بھی رسوا ہوا
