پرویز یعقوب مدنی

خادم التدریس و الدعوہ فی نیبال

23/ستمبر کا دن بلاد امن و توحید مملکت سعودی عرب کی تاریخ میں محض ایک تاریخ نہیں بلکہ وحدت و استحکام نیز قومی عزم اور تعمیر و ترقی کی ایک روشن داستان کی علامت ہے۔ یہ وہ دن ہے جب 1932ء میں شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود رحمہ اللہ نے مملکت کے مختلف علاقوں کو ایک پرچم تلے متحد کرکے مملکت سعودی عرب کے قیام کا اعلان کیا۔ ہر سال 23/ ستمبر کو سعودی عوام نہایت تزک و احتشام سے اسی تاریخی وحدت کی یاد تازہ کرتے ہوئے اپنے وطن سے محبت، وفاداری اور مستقبل کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔

سعودی عرب کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی شناخت صرف جغرافیہ سے نہیں ہوتی بلکہ اس سرزمین کو اسلام کی تاریخ میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ نبویہ اسی بابرکت اور مقدس سرزمین پر واقع ہیں جہاں توحید کا پیغام بلند ہوا اور جہاں خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے انسانیت کو ایمان و عدل نیز رحمت اور اخوت کا درس دیا اور جہاں سے اسلام کا نور دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچا۔ اسی نسبت سے سعودی عرب کا ذکر مسلمانوں کے دلوں میں ایک خاص جذباتی کیفیت پیدا کرتا ہے۔

وحدت کی بنیاد پر قائم ہونے والی ریاست

قوموں کی زندگی میں سب سے بڑی قوت اتحاد اور یکجہتی ہے۔ سعودی عرب کا قیام بھی اسی حقیقت کی ایک نمایاں مثال ہے۔ بانی مملکت شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ایک منتشر جغرافیہ کو ایک متحدہ ریاست میں تبدیل کیا۔ مختلف علاقوں و قبائل اور معاشرتی اکائیوں کو ایک مرکزی نظام کے تحت جمع کرنا ایک غیر معمولی تاریخی کامیابی تھی۔

یہ اتحاد صرف سیاسی نقشے کی تبدیلی نہیں تھا بلکہ ایک ایسی قومی وحدت کی بنیاد تھی جس نے بعد کے ادوار میں ریاستی اداروں، تعلیم وتدریس نیز معیشت و صحت کے بنیادی ڈھانچے اور سماجی ترقی کے لیے راستے ہموار کیے۔

آج سعودی عرب کی ترقی کے پیچھے اس تاریخی وحدت کی بنیاد نیز قومی استحکام اور مسلسل تعمیر و ترقی کا وہ سفر موجود ہے جو کئی دہائیوں سے جاری ہے۔

حرمین شریفین کی خدمت: ایک عظیم اعزاز

مملکت سعودی عرب کے حکمرانوں کی سب سے نمایاں خصوصیت حرمین شریفین کی خدمت ہے۔ بیت اللہ الحرام اور مسجد نبوی ﷺ پوری امت مسلمہ کے روحانی مراکز ہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں سے لاکھوں مسلمان حج و عمرہ اور زیارت کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا رخ کرتے ہیں۔حجاج اور معتمرین کے لیے سہولیات کی فراہمی و حرمین شریفین کی توسیع نیز انتظامی و طبی خدمات اور آمد و رفت کے جدید نظام حتی کہ زائرین کی رہنمائی کے لیے مسلسل اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حرمین شریفین کی خدمت کو ریاستی ترجیحات میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اور

یہ خدمت کسی ایک ملک یا قوم تک محدود نہیں دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے مسلمانوں کے لیے یکساں طور پر سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حرمین شریفین کی خدمت کا ذکر پوری امت کے لیے محبت، عقیدت اور تشکر کے جذبات کو بیدار کرتا ہے۔

ترقی سے جدیدیت تک

گزشتہ چند دہائیوں میں سعودی عرب نے ترقی کے میدان میں نمایاں سفر طے کیا ہے۔ کبھی ایک محدود معیشت رکھنے والی ریاست آج عالمی معیشت و توانائی نیز سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی، سیاحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے میدان میں اپنا مقام بنانے کی کوشش کررہی ہے۔

مملکت سعودی عرب کے باعزم حکمراں شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی قیادت اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان حفظھم اللہ کی نگرانی میں سعودی عرب نے مستقبل کی تعمیر کے لیے Vision 2030 کو ایک جامع قومی منصوبے کے طور پر آگے بڑھایا ہے۔ اس وژن میں معیشت کے تنوع و انسانی صلاحیتوں کی ترقی اور سرمایہ کاری نیز سیاحت و ثقافت، ٹیکنالوجی اور معیار زندگی کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

جدید سعودی عرب کی تصویر اب صرف تیل کی پیداوار تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسے ملک کی تصویر بھی ہے جو اپنی نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے نیز نئی صنعتوں کو فروغ دینے اور عالمی سطح پر سرمایہ کاری و تعاون کے نئے دروازے کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ماضی کی عظمت اور مستقبل کا عزم

قومی دن دراصل ماضی پر فخر کے ساتھ مستقبل کی ذمہ داری کا احساس بھی دلاتا ہے۔ قومیں صرف اپنی تاریخ پر فخر کرکے زندہ نہیں رہتیں بلکہ تاریخ سے سبق حاصل کرکے آنے والے کل کی تعمیر کرتی ہیں۔

مملکت سعودی عرب کے لیے بھی قومی دن ایک ایسا موقع ہے جس میں مملکت اپنے تاریخی سفر کو یاد کرتے ہوئے مستقبل کی سمت کا تعین کرتی ہے۔ نئی نسل کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ وطن کی تعمیر صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ علم، دیانت، محنت، نظم و ضبط اور قومی یکجہتی وہ ستون ہیں جن پر مضبوط معاشرے تعمیر ہوتے ہیں۔

امت مسلمہ کے ساتھ تعلق

سعودی عرب کا تعلق صرف اپنے شہریوں تک محدود نہیں بلکہ عالم اسلام کے ساتھ اس کے تاریخی و دینی اور تہذیبی روابط بھی گہرے ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمان حرمین شریفین کی وجہ سے مملکت سعودی عرب سے قلبی تعلق محسوس کرتے ہیں۔

مختلف مسلم ممالک میں تعلیمی، دعوتی، انسانی اور رفاہی سرگرمیوں میں تعاون بھی سعودی عرب کی بین الاقوامی شناخت کا ایک اہم پہلو ہے۔ قدرتی آفات اور انسانی بحرانوں کے مواقع پر امدادی سرگرمیاں بھی مسلم اور غیر مسلم معاشروں میں انسانی ہمدردی کے جذبے کو نمایاں کرتی ہیں۔

قومی دن کا نمایاں پیغام

قومی دن کا حسن صرف پرچم لہرانے اور تقریبات منعقد کرنے نیز خوشیاں منانے میں نہیں بلکہ اس کا اصل پیغام وحدت، ذمہ داری، وفاداری، تعمیر اور مستقبل کی امید ہے۔

23/ستمبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک مضبوط ریاست صرف بلند عمارتوں اور جدید شاہراہوں سے نہیں بنتی بلکہ مضبوط اداروں، باصلاحیت انسانوں، اجتماعی شعور، قانون کی پاسداری اور قومی یکجہتی سے وجود میں آتی ہے۔

مملکت سعودی عرب نے اپنے تاریخی سفر میں کئی مراحل طے کیے ہیں اور آج ایک نئے دور کے دہانے پر کھڑی ہے۔ اس کے سامنے امکانات بھی وسیع ہیں اور ذمہ داریاں بھی۔ Vision 2030 کی تکمیل، نوجوان نسل کی صلاحیتوں کا استعمال، معیشت کا مزید تنوع، عالمی تعاون اور حرمین شریفین کی خدمت جیسے میدان آنے والے برسوں میں بھی خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

23/ ستمبر 2026ء کا قومی دن سعودی عرب کی تاریخ کے ایک نئے باب کی علامت ہے۔ یہ دن ماضی کی قربانیوں کو یاد کرنےاور حال کی کامیابیوں کا جائزہ لینے نیز مستقبل کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے عزم کی تجدید کا دن ہے۔

سعودی عرب کی داستان سفر ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ وحدت قوموں کو طاقت دیتی ہے۔ صالح قیادت انہیں صحیح سمت عطا کرتی ہے اور محنت و عزم انہیں منزل تک پہنچاتے ہیں۔

اللہ تعالی مملکت سعودی عرب کو امن، استحکام، خوشحالی اور ترقی عطا فرمائے۔ مملکت سعودی عرب کے صالح حکمرانوں کو حرمین شریفین کی خدمت کی مزید توفیق عطا فرمائے۔ مملکت کے باشندگان کو باہمی محبت و اخوت نصیب فرمائے اور اسے عالم اسلام کے لیے خیر و بھلائی کا ذریعہ بنائے۔ آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے