انگریزی، ہندی، ریاضی اور سائنس کی تعلیم کے ذریعے بچوں کو مستقبل کے لیے تیار کرنے کی کوشش

مہراج گنج (نمائندہ): ضلع مہراج گنج کے سمر دھیرا چوراہے کے قریب واقع پسماندہ گاؤں بسنت پور میں قائم ایک مکتب اپنی منفرد تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کے باعث توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہاں بچوں کو قرآن کریم اور عربی کی دینی تعلیم کے ساتھ انگریزی، ہندی، ریاضی اور سائنس جیسے عصری مضامین بھی پڑھائے جا رہے ہیں۔

انس ویلفیئر ٹرسٹ کی ٹیم نے مکتب کا دورہ کیا اور وہاں جاری تعلیمی سرگرمیوں، بچوں کی تعلیمی صلاحیتوں اور دستیاب سہولیات کا قریب سے جائزہ لیا۔ اس موقع پر ٹرسٹ کے نمائندگان نے بچوں سے مختلف مضامین کے حوالے سے گفتگو کی اور ان کی تعلیمی استعداد کا مشاہدہ کیا۔

مکتب میں بچوں کو قرآن کریم کی تلاوت اور دینی تعلیم حاصل کرتے ہوئے دیکھنے کے بعد جب انگریزی اور دیگر عصری مضامین میں ان کی صلاحیتوں کا مشاہدہ کیا گیا تو یہ بات نمایاں ہوئی کہ دینی ماحول میں رہتے ہوئے بھی بچوں کو جدید تعلیم کی مضبوط بنیاد فراہم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے۔

دورے کے دوران سماجی کارکن عبید الرحمن حسینی نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا: "جب میں بچوں سے قرآن کریم کی تلاوت سن رہا تھا تو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی دینی مدرسے میں بیٹھا ہوں، لیکن جب انہی بچوں کی انگریزی ریڈنگ سنی تو یوں لگا جیسے کسی جدید کنوینٹ اسکول میں موجود ہوں، اور جب بچوں کی ریاضی کی صلاحیت دیکھی تو محسوس ہوا کہ کسی باقاعدہ میتھ میٹکس لرننگ سینٹر میں بیٹھا ہوں۔”

انہوں نے کہا کہ پسماندہ دیہی علاقے میں کم عمر بچوں کو قرآن و عربی کے ساتھ انگریزی، ہندی، ریاضی اور سائنس کی تعلیم دینا ایک قابلِ توجہ کوشش ہے۔ اگر بچوں کو ابتدا ہی سے مناسب رہنمائی، اچھا تعلیمی ماحول اور مسلسل محنت میسر ہو تو وہ دینی تعلیم کے ساتھ عصری میدانوں میں بھی آگے بڑھ سکتے ہیں۔

مکتب میں طلبہ کے لیے درسگاہ اور بیٹھنے کی سہولت کے علاوہ وضو، غسل اور صفائی ستھرائی کے لیے بھی ضروری انتظامات موجود ہیں۔ اساتذہ کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ مکتب کے منتظم مولانا قیصر فاروقی بچوں اور اساتذہ کی ضروریات کو ترجیح دیتے ہوئے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔

مولانا قیصر فاروقی کا کہنا ہے کہ اگر نیت درست، عزم مضبوط اور کوشش مسلسل ہو تو اللہ تعالیٰ کی مدد سے مشکل سے مشکل کام بھی ممکن ہو سکتا ہے۔

دورے کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ مکتب میں کم عمری ہی سے بچوں کو دینی تعلیم کے ساتھ عصری مضامین کی بنیادی اور مفید تعلیم فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر دیہی علاقوں میں ایسے تعلیمی مراکز کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا جہاں بچوں کو قرآن و دین کی تعلیم کے ساتھ زمانے کی ضرورت کے مطابق انگریزی، ہندی، ریاضی، سائنس اور دیگر بنیادی علوم سے بھی روشناس کرایا جائے۔

عبید الرحمن حسینی نے کہا کہ گاؤں گاؤں ایسے مکاتب قائم ہونے چاہئیں جہاں بچوں کی دینی تربیت کے ساتھ ان کے مستقبل کی تعلیمی ضروریات کا بھی خیال رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صرف عمارتیں تعمیر کرنا کافی نہیں، اصل کامیابی اس وقت ہے جب ان عمارتوں میں بچوں کو معیاری تعلیم، اچھی تربیت اور روشن مستقبل کی بنیاد فراہم کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے میں بہت سے افراد اور ادارے خاموشی کے ساتھ تعلیمی میدان میں قابلِ قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایسے اداروں کی حوصلہ افزائی، سرپرستی اور ان کے تجربات سے استفادہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

بسنت پور کا یہ مکتب دیہی علاقے میں دینی و عصری تعلیم کے حسین امتزاج کی ایک قابلِ توجہ مثال کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں کم عمر بچوں کو قرآن و دین کی تعلیم کے ساتھ جدید علوم کی بنیاد فراہم کرکے انہیں مستقبل کے تقاضوں کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے