مولانا ڈاکٹرعبید الرحمٰن ندوی
استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء ، لکھنؤ

معاشرہ دراصل اعلی اقدار، بہتر تعلقات، اخلاقی بلندی، آپسی تعلقات اور اجتماعیت کا نام ہے۔ معاشرے کو صالح بنانے کے لئے کچھ اصول ہوا کرتے ہیں لیکن جب اصول کمزور پڑ جاتے ہیں تو معاشرہ بکھرنے لگتا ہے، دلوں میں دوریاں پیدا ہونے لگتی ہیں اور نفرتیں جنم لینے لگتی ہیں۔ آپسی اتحاد اور تعلقات خراب ہونے لگتے ہیں۔ قرآنِ کریم نے معاشرے کے اندر موجود خرابیوں کی نہایت حکیمانہ انداز میں نشاندہی کی ہے۔ قرآن مجید میں جہاں عقائد و عبادات کی تعلیم دی گئی ہے وہیں انسانوں کے باہمی تعلقات کو صالح اور پاکیزہ بنانے کی ترغیب دی گئی ہے۔انسانی اخلاقیات میں یہ اصول اور بھی شدت کے ساتھ کارفرما ہوتے ہیں ۔ اگر اجتماعی ماحول خراب ہے تو اس کی خرابی لازما افراد کی زندگیوں میں سرایت کرے گی۔ اس سے بچنے کی ایک ہی راہ ممکن ہے کہ ماحول کو تبدیل کر دیا جائے یا کم از کم اس کو تبدیل کرنے کی جد و جہد مسلسل جاری رکھی جائے ۔ اس طرح اگر ماحول نہ بھی تبدیل ہو تو کم از کم وہ فرد ” جارحیت بہترین دفاع ہے (Offence is the best defence) کے اصول پر عمل پیرا ہوکر اپنا دفاع ضرور کرلے گا ۔اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے :مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرُهُ بِيَدِهِ ، فَإِن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعُ فَبِقَلْبِهِ ،وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيْمَانِتم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے تو اس کا فرض ہے کہ اسے بزور بازو ( نیکی سے ) بدل دے پھر اگر اس کی قوت نہ رکھتا ہو تو زبان سے ضرور منع کرے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو کم از کم دل سے ضرور مدافعت کرے (یعنی دل میں ضرور بُرا جانے اور اس کو نہ روک سکنے پر متاسف ہو)اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے-"(مطالعہ قرآن کا منتخب نصاب ج اول،ص،38)
اللہ تعالیٰ نے درجہ ذیل سورۃ الحجرات کے دو آیتوں میں چھ معاشرتی و مجلسی برائیوں کا تذکرہ بہت ہی حسین پیرایے میں بیان کیا ہے-واضح رہے کہ پہلی آیت یعنی آیت نمبر ۱۱ میں تین ان باتوں کا تذکرہ کیا ہے جو روز ہوتی ہیں- ظاہر بات ہے کہ انسان تمسخر و استہزا آمنے سامنے کرتا ہے ، عیب جوئی اور طعن و تشنیع اور اسی طرح برے ناموں سے پکارنا بھی آمنے سامنے ہوتا ہے-اور دوسری آیت یعنی آیت نمبر ۱۲میں ان تین برائیوں کا بیان ہے جن کا اخفاء کے ساتھ یا پیٹھ پیچھے ارتکاب ہوتا ہے-ارشاد خدا وندی ہے: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسَىٰ أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّنْ نِسَاءٍ عَسَىٰ أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ، وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ، بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ، وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ۔يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ، وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيم”اے ایمان والو! تم میں سے کوئی گروہ کسی دوسرے گروہ کا مذاق نہ اڑائے، ہو سکتا ہے کہ وہ گروہ ان سے بہتر ہو۔ اور نہ ہی عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ ہی تم اپنے آپ کو عیب لگاؤ اور نہ ہی ایک دوسرے کے برے نام رکھو۔ ایمان کے بعد تو برائی کا نام بھی برا ہے، اور جو اس سے باز نہیں آئے گا تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی ظالم ہیں۔
اے ایمان والو! کثرت سے گمان کرنے سے بچو، اس لیے کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور نہ ہی ٹوہ لگایا کرو، اور نہ تم میں سے کوئی کسی دوسرے کی غیبت کرے۔ کیا تم سے کوئی شخص اسے پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ پس یہ بات تو تمہیں انتہائی ناپسند ہے۔ اور تقویٰ اختیار کرو، یقیناً اللہ توبہ قبول کرنے والا (اور) رحم فرمانے والا ہے۔ (الحجرات: 11-12)
اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا چھ برائیوں کو قدرے تفصیل سے بیان کیا جایا-
پہلا حکم: تمسخر اور استہزا سے گریز کرنے کا حکم :اس آیت کریمہ میں سب سے پہلی بات یہ بیان ہوئی ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کا مذاق نہ اڑائیں۔قابل غور بات یہ ہے کہ عام طور پر قرآن مجید میں جو احکام آتے ہیں وہ صرف مردوں سے خطاب کرکے ارشاد ہوتے ہیں- اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ احکام صرف مردوں ہی کے لئے ہوتے ہیں- عربی گرامر کا یہ قاعدہ ہے کہ خطاب میں بر سبیل تغلیب کسی ایک چیز کا ذکر کر دینے سے مراد یہ ہوتی ہے کہ دوسری چیز جو اس کے تابع ہے وہ بھی مخاطب ہے- چنانچہ قرآن مجید میں اکثر و بیشتر احکام صیغہ مذکر میں دیے گئے ہیں- لیکن ہم یہاں دیکھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو الگ الگ خطاب کیا ہے-یعنی” لا یسخر قوم من قوم” اور ” ولا نساء من نساء” اس میں خواتین کے لئے خاص طور پر تکرار آئی ہے- اس تکرار کی حکمت اور وجہ تھوڑا غور کرنے سے سمجھ میں آجاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ مجلسی خرابی مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں زیادہ ہوتی ہے –
اس میں اپیل کا ایک بڑا مؤثر انداز بھی موجود ہے ،جس سے زیادہ موثر اسلوب ممکن نہیں ہے- مردوں کے لئے فرمایا’’ عسی ان یکونوا خیرا منھم‘‘ اور عورتوں کے لئے فرمایا’’ عسی ان یکن خیرامنھن‘‘ تم جس کی ظاھری کمزوری یا عیب کو دیکھ کر مزاق اڑارہے ہو اس پر فقرہ چست کر رھے ہو اس شخص کے متعلق تمہیں کیا معلوم کہ اس کے دل میں اللہ کی کتنی محبت ہو،اس کے دل میں محبت رسول صلی الله علیہ وسلم کا کتنا۔بڑا سمندر ٹھاٹھیی مار رہا ہو اور اللہ کو تو قدر ان چیزوں کی ہے-
دوسرا حکم: عیب جوئی کی ممانعت دوسرا حکم یہ دیا گیا کہ ” ولا تلمزوا انفسکم” خود اپنے آپ کی عیب جوئی نہ کیا کرو- تم اگر کسی مسلمان کی عیب جوئی کر رہے ہو اس پر عیب لگا رہے ہو ،اس کے عیب ظاہر کر رہے ہو تو وہ تمہارا اپنا مسلمان بھائی ہے- گویا اس طرح تم نے خود اپنے آپ کو عیب لگایا ہے- اب اس سے زیادہ موثر اپیل کا انداز اور دل نشین پیرایہ ممکن نہیں ہے-جیسے ایک مرتبہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اپنے ماں باپ کو گالیاں مت دیا کرو‘‘ اس پر کسی نے عرض کیا کہ’’ کون شخص اپنے ماں باپ کو گالی دے گا ؟ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جوابا ارشاد فرمایا’’ اگر تم کسی کے ماں باپ کو گالی دو گے اور وہ پلٹ کر تمہارے ماں باپ کو گالی دے گا تو درحقیقت یہ تم نے خود اپنے والدین کو گالی دی‘‘- اگر یہ بات دل کی گہرائی میں اتر جائے تو’’ ولا تلمزوا انفسکم‘‘ کی بلاغت و حکمت واضح ہو کر سامنے آجائے گی-
تیسرا حکم:تحقیر آمیز ناموں سے پکارنے کی ممانعت- وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ایک دوسرے کے برے نام ’’چڑانے والے نام‘‘ تحقیر آمیز نام رکھ کر ان ناموں سے کسی کو مت پکارا کرو ۔ ظاہر بات ہے کہ اس سے انسان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے اور اس کا رد عمل ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کمزور ہو احتجاج نہ کر سکے اور قہر درویش بر جان درویش کے مصداق اسے اندر ہی اندر ضبط رہا ہو ۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اس کے جذبات مجروح نہیں ہوئے ۔ یہی چیز وہ صورت اختیار کر سکتی ہے جیسے دو اینٹوں کے درمیان ان کو جوڑنے والا مسالہ کمزور پڑ جائے اور اپنی جگہ چھوڑ دے تو یہ چیز دشمن کے اندر در آنے کا سبب بن سکتی ہے۔ لہذا فرمایا گیا کہ ایسے تمام رخنوں کو بند رکھنے کا اہتمام کرو۔ اس معاملہ میں احتیاط کا دامن تھامے رکھو۔
یہاں پھر دیکھئے کا انتہائی مؤثر اور دلنشیں پیرا یہ بیان اختیار فرمایا گیا ہے۔بئس الا سم الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيْمَانِ ایمان کے بعد تو برائی کا نام بھی برا ہے ۔ جب اللہ نے تمہیں ایمان جیسی دولت عطا فرمائی، تمہیں جناب محمد رسول اللہ کی تعلیم کے دامن سے وابستہ ہونے کا شرف عطا فرمایا تو یہ چھوٹی چھوٹی باتیں اور پستی کی طرف تمہارا یہ رجحان اس مقام سے مناسبت رکھنے والی چیز نہیں ہے جو اللہ نے تمہیں عطا فرمایا ہے۔
اس ترغیب کے ساتھ ہی اب ترہیب و تہدید اور دھمکی بھی ہے ۔ ارشاد فرمایا :وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ اور جو باز نہیں آئیں گے رجوع نہیں کریں گے اللہ کی جناب میں توبہ نہیں کریں گے تو جان لو کہ اللہ کے نزدیک ایسے لوگ ہی ظالم ہیں۔ یعنی ایسے لوگوں کو آخرت میں اپنے ایسے تمام افعال و اعمال کی جوابدہی کرنی پڑے گی اور ان کی سزا بھگتنی ہوگی ان تمام چیزوں کو(accoount for)کرنا پڑے گا ۔ یہ چیزیں ایسی نہیں رہ جائیں گی جن کا حساب نہ لیا جائے۔
اگلی آیت یعنی سورۃ الحجرات کی ۱۲ویی آیت میں پھر تین احکام بصورت نواہی آئے ۔ قرآن مجید کا اعجاز بیان دیکھئے کہ ان چھ باتوں کو دو آیتوں میں تقسیم کیا، تین پہلی آیت یعنی ۱۱ میں اور تین دوسری آیت یعنی ۱۲ میں۔ لیکن پہلی آیت میں وہ تین باتیں آئی ہیں جو رو در رو ہوتی ہیں ۔ ظاہر بات ہے کہ طنز سامنے کیا جائے گا طعنہ سامنے دیا جائے گا، تمسخر و استہزاء سامنے ہی کیا جائے گا تب ہی تو اس سے لذت حاصل ہو گی۔ اسی طریقہ سے کسی کو برے نام سے پکارنے کا معاملہ بھی علی الاعلان ہوگا ۔
چوتھا حکم:بدگمانی سے بچنے کی تاکید-
اگلی آیت میں ان تین برائیوں کا بیان آ رہا ہے جن کا اخفاء کے ساتھ یا پیٹھ پیچھے ارتکاب ہوتا ہے ۔ ارشاد ہوا :يايهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِ ۔ اے اہل ایمان گمان کی کثرت سے بچو۔ یعنی خواہ مخواہ کسی کے بارے میں ایک گمان قائم کر لینا کسی کے بارے میں خواہ مخواہ دل میں کوئی برا خیال بٹھا لینا، خواہ مخواہ کسی کے بارے میں دل میں یہ رائے قائم کر لینا کہ اسے مجھ سے دشمنی ہے، اسے مجھ سے کد ہے، جبکہ اس کے لیے کوئی دلیل اور بنیاد موجود نہ ہو۔ اسی طرح خواہ مخواہ کسی کے بارے میں کسی اور اعتبار سے سوئے ظن قائم کر لینا اس سے روکا گیا ہے۔ یہاں بھی اپیل کا انداز دیکھئے ارشاد ہوا : إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اثم یقیناً بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ تمہارا کوئی گمان درست ہو لیکن یہ غلط بھی تو ہو سکتا ہے ۔ گمان تو گمان ہی ہے علم تو نہیں ہے۔ لہذا تم نے بغیر کسی دلیل اور بغیر کسی بنیاد کے کسی مسلمان بھائی کے بارے میں کوئی برا خیال اپنے دل میں بٹھا لیا ہے، کوئی غلط رائے قائم کر لی ہے تو یہ گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی پکڑ ہو گی اور تمہیں اس پر سزا بھگتی پڑے گی۔
پانچواں حکم:تجسس کی ممانعت۔
دوسری بات فرمائی وَلَا تَجَسَّسُوا کسی کی ٹوہ میں رہنے اور تجسس سے منع کیا جا رہا ہے جیسے مکھی بیٹھنے کے لیے گندگی تلاش کرتی ہے ایسے ہی بعض حضرات پست ذہنیت رکھنے والے لوگوں کا یہ ایک ذوق اور مشغلہ ہوتا ہے کہ اس ٹوہ میں لگے رہیں کہ اس گھر میں کیا ہو رہا ہے؟ ان دو بھائیوں کے تعلقات ٹھیک ہیں تو اس کی کیا وجہ ہے؟ ان دو دوستوں میں بڑا گہرا قلبی تعلق ہے ایسا کیوں ہے؟ کہیں کوئی بات سامنے آئے جس سے ان کا کوئی اختلافی معاملہ ہمارے علم میں آ جائے ۔ اس تجسس اور ٹوہ کے وطیرے سے روکا گیا۔ بلکہ احادیث میں نبی اکرم ﷺ نے یہ تعلیم دی ہے اور تلقین فرمائی ہے کہ اگر تمہارے کسی بھائی کا کوئی عیب بغیر اس کے کہ تمہارا اس کو جاننے کا ارادہ تھا، تمہارے علم میں آ جائے تو حتی الامکان اس کی پردہ پوشی کرو۔ اگر دنیا میں تم اپنے کسی مسلمان بھائی کے عیب کی پردہ پوشی کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری آخرت میں پردہ پوشی فرمائے گا۔ اس تلقین، اس تعلیم اور اس اخلاقی ہدایت کو سامنے رکھیں تو ایک مسلم معاشرے میں برکات ہی برکات نظر آئیں گی۔
چھٹا حکم:غیبت کی شناخت-
اس آیت میں تیسری اور آخری بات فرمائی:وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرو۔ کسی کے پیٹھ پیچھے کسی کی عدم موجودگی میں اس کی برائی بیان کرنا غیبت ہے جبکہ نیت اس کی توہین و تذلیل کی ہو یعنی اس کے بارے میں بری بات کو اس ارادے سے لوگوں تک پہنچانا اور پھیلانا تا کہ لوگوں کی نگاہ میں اس کی وقعت نہ رہے ۔ اسی آیت مبارکہ میں اس غیبت کی مذمت بڑے شدید انداز میں بیان ہوئی ۔ ارشاد ہوا :أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۔ کیا تم میں سے کوئی شخص اس کو پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے، پس اسے تو تم بہت ناگوار سمجھتے ہو ! اب دیکھئے کہ اس میں مناسبت کیا ہے؟ جو شخص فوت ہو چکا ہے وہ اپنی مدافعت نہیں کر سکتا ۔ آپ جہاں سے چاہیں اس کی بوٹی اڑالیں ۔ اسی طرح جو شخص موجود نہیں ہے وہ اپنی عزت کی حفاظت نہیں کر سکتا ۔ وہ اپنی صفائی اور مدافعت میں کچھ کہہ نہیں سکتا، ہو سکتا ہے کہ آپ کو کوئی مغالطہ ہوا ہو، ہو سکتا ہے کہ آپ اس کے بارے میں جو بات کہہ رہے ہیں وہ غلط ہو اگر وہ موجود ہوگا تو وضاحت کر سکے گا، لیکن اگر وہ موجود نہیں ہے تو اپنی عزت کی حفاظت کرنے سے قاصر ہے جیسے ایک مردہ لاش اپنے جسم کی حفاظت نہیں کر سکتی ۔ اگر آپ نے اپنے کسی غیر موجود مسلمان بھائی کی کوئی برائی بیان کی ہے تو یہ غیبت ہے اور در حقیقت یہ اخلاقی سطح پر بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ کسی مردہ بھائی کی لاش سے بوٹیاں نوچ نوچ کر کھا رہے ہوں۔( ایضا ،ص 478-480 )
الغرض: سورہ حجرات کی یہ دونوں آیتیں معاشرتی اقدار کا ایک ایسا جامع دستور پیش کرتی ہیں جس میں عزت، باہمی احترام زبان اور دلوں کی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ ظاہری اور باطنی برائیوں کو ختم کرنے کی ترغیب بھی موجود ہے ۔ تمسخر، طعن، برے القاب، بدگمانی، تجسس اور غیبت یہ چھ برائیاں بظاہر معمولی معلوم ہوتی ہیں، مگر حقیقت میں یہ وہ زہریلے جراثیم ہیں جو معاشروں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں، رشتوں کی بنیادوں کو ہلا دیتے ہیں اور دلوں میں نفرت، کینہ اور دوری پیدا کر دیتے ہیں۔
اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ان تمام برائیوں کا تعلق بنیادی طور پر انسان کی زبان اور دل سے ہے۔ زبان اگر بے قابو ہو جائے تو عزتیں پامال ہوتی ہیں، اور دل اگر آلودہ ہو جائے تو بدگمانی، حسد اور نفرت جیسی برائیاں جنم لیتی ہیں- اسی لیے اسلام نے ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ باطنی اصلاح پر بھی زور دیا ہے۔ ایک مہذب اور صالح معاشرہ اسی وقت وجود میں آ سکتا ہے جب افراد اپنی ذات کی اصلاح کریں، اپنی نیتوں کو پاک رکھیں اور دوسروں کے لیے وہی پسند کریں جو اپنے لیے چاہتے ہیں۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی برائیوں کا چلن عام ہوتا جا رہا ہے۔ ایک برا جملہ، منفی تبصرہ، بدگمانی، کوئی غلط کمنٹ بھی اسی برائی کا حصہ ہیں۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے قول و فعل کا محاسبہ کریں، بولنے سے پہلے سوچیں، اور ہر اس بات سے بچیں جو کسی کے دل کو ٹھیس پہنچا سکتی ہو۔
آخر میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ معاشرے کی اصلاح کا آغاز فرد سے ہوتا ہے۔ اگر ہر فرد اپنے اندر ان تعلیمات کو نافذ کر لے تو پورا معاشرہ سنور سکتا ہے۔ یہی قرآن کا پیغام ہے اور یہی کامیابی کا راستہ کہ ہم اپنی زبانوں کو پاک کریں، اپنے دلوں کو صاف کریں اور اپنے اعمال کو درست کریں، تاکہ ہم دنیا میں بھی ایک پرسکون اور باوقار زندگی گزار سکیں اور آخرت میں بھی اللہ تعالی کی رضا حاصل ہو۔
