ظہیرآباد 14/اکتوبر (نمائندہ): جناب محمد یوسف سابق رکن حج کمیٹی نے صحافتی بیان میں حکومت تلنگانہ چیف منسٹر ائے ریونت ریڈی سے  پرزور مطالبہ کیا کے عامر علی خان کی قانونی کشمکش کی وجہ سے روکنے والی ایم ایل سی کو دوبارہ بحال کرتے ہوئے انھیں نامزد کیا جائے انہوں نے کہا کہ جناب عامر علی خان ادارہ سیاست کی خدمات ناقابل فراموش ہے عامر علی خان نیوز ایڈیٹر سیاست ایک حرکیاتی قائد ہے اور قوم ملت کا ہمددر رکھتے ہیں اور ایم ایل سی طور پر ریاست تلنگانہ کے اقلتیوں کے مسائل کو بےباکی کے ساتھ ایوان میں اٹھارہے تھے لیکن چند قوم کی دشمن افرادوں کی سازشوں سے ایم ایل سی کو قانونی کشمکش میں لاکر انھیں کالعدم کیا گیا۔ انہوں کہا کہ کانگریس حکومت کی اقتدار میں آنے میں اخبار سیاست جناب عامر علی خان صاحب کا کلیدی رول رہا ہے انہوں نے کہا ریاست بھر میں عوامی شعور بیداری تحریک چلائی لیکن  تلنگانہ میں کانگریس حکومت کو برسر اقتدار حاصل ہونے کے بعد کانگریس حکومت چیف منسٹر اے ریونت ریڈی انتخابات میں کانگریس پارٹی کی مخالفت کرنے والی جماعت سے مفاہمت کرتے ہوئے مسلمانوں کے مسائل پر بے لوث خدمات انجام دینے والے جناب عامر علی خان صاحب کو ایم ایل سی کالعدم ہونے کے بعد وہی ایم ایل سی کو اظہر الدین کو نامزد کیا گیا۔
جناب محمد یوسف سابق رکن حج کمیٹی نے کہا کہ  تلنگانہ ریاست میں کانگریس کو اقتدار سنبھالے 3 سال کا عرصہ ہو چکا ہے ادارہ سیاست قوم و ملت کی قیمتی اثاثہ ہے کئی غریب پسماندہ طلباء کی رہمنائی مفت تربیتی کلاسیس پولیس ٹریننگ ایس آئی آر میں مسلمانوں کی رہنمائی جیسے کئی فلاحی بہود خدمات کو انجام دیں رہے ہیں جیسے ریاست تلنگانہ متحدہ آندھراپردیش کی عوام کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ لیکن اس ریونت ریڈی کی قانون ساز کونسل میں مسلمانوں کی  نمائندگی کو کم کردیا جس کی وجہ سے کانگریس حکومت کے متعلق مسلم اقلیتوں میں ناراضگی پائی جا رہی ہے انہوں نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ اندھرا پردیش میں ہمیشہ تمام طبقات کے ساتھ ساتھ مسلم طبقہ کو بھی کابینہ میں نمائندگی دی گئی لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ریونت ریڈی کی سرکار مسلمانوں کے ساتھ سراسرنا انصافی کر رہی ہے۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے