لکھنؤ:۱۵؍اکتوبر جامعہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ٹھاکر گنج، لکھنؤ میں منعقد ہونے والی ایک تعزیتی نشست میں جامعہ کےسرپرست اور دارالعلوم ندوۃالعلماء لکھنؤ کے موقر استاد حدیث و فقہ مفتی رحمت اللہ ندوی نے فرمایا :’’ استاد الاساتذہ، محسن و مربی، مخدوم گرامی حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمیؒ کا حادثہ وفات بہت بڑا دینی، علمی اور ملی خسارہ ہے، جس کی تلافی بہت مشکل ہے، آپ کئی نسلوں کے معلم و مربی رہے، عربی زبان و ادب اور صحافت کو فروغ دینے اور اس کی نشر و اشاعت کرنے میں بڑا اہم کردار ہے، آج ہندوستان میں عربی لکھنے اور بولنے والے تقریبا سبھی ان کی فیض یافتہ ہیں ۔مولانا مرحوم کو عربی زبان پر پوری قدرت اور بڑی مہارت تھی، صحت تلفظ پر بہت گرفت تھی‘‘۔
مفتی رحمت اللہ صاحب ندوی نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے مزید فرمایا :’’مولانا مرحوم کی زندگی ہم سب کے لیے مشعل راہ اور قابل تقلید نمونہ ہے، انہوں نے اپنی ۹۲؍سالہ زندگی بہت منظم اور مرتب گزاری اور کوئی بھی لمحہ ضائع کیے بغیر ایک ایک منٹ اور سیکنڈ سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اس کی قیمت وصول کی، ہر وقت کے لیے کوئی کام اور ہر کام کے لیے کوئی وقت تھا، علم و عمل کی جامعیت، اخلاص و للہیت، اور روحانیت میں بڑے فائق تھے، وہ بلاشبہ عالم ربانی اور علمی و روحانی شخصیت تھے، اور اللہ تعالی کے ولی تھے ‘‘۔
اس موقع پر ناظم جامعہ مولانا محمد علی جوہر ندوی نے کہا:’’ استاد محترم سے ہم نے درس لیا، یہ ہماری خوش قسمتی ہے، مرحوم کے اندر طلبہ کو بنانے اور سنوارنے کا بڑا جذبہ تھا ، آپ اپنے طلبہ میں علم و عمل کی روح پھونک دیتے تھے، اللہ تعالی نے آپ کو بہت رعب اور وقار عطا فرمایا تھا، دیکھنے والا ہیبت زدہ اور مرعوب ہوئے بغیر نہیں رہتا لیکن آپ کی دردمندی اور جفا کشی دیکھ کر متاثر بھی ہوتا تھا‘‘۔
مولانا جمیل احمد ندوی نے اظہار خیال کرتے ہوئے یہ بھی کہا :’’ مولانا مرحوم کی پوری زندگی جہد مسلسل کی تصویر تھی ،آپ کی جفا کشی، محنت، سادگی اور علمی انہماک اور اداروں کے لیے فکر مندی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی‘‘۔
مشہور صحافی اور ’’ادبی نشیمن‘‘ کے ایڈیٹر ڈاکٹر سلیم احمد صاحب نے مولا مرحوم سے اپنے گہرے تعلق اورربط کا ذکر کرتے ہوئے کہا :مولانا ایک اصول پسند اور اعلیٰ کردار کے حامل عالم وادیب تھے، ان کی اصول پسندی اور نظم و ضبط بہت مشہور تھی ،بدنظمی اور بے ضابطگی کو پسند نہیں کرتے تھے ،بلکہ اس پر ناراض ہو جاتے تھے، اب ایسے لوگ آسانی سے پیدا نہیں ہوں گے۔
حافظ محمد اکبر صاحب نے اپنے تاثر کا اظہار کرتے ہوئے کہا:ہمارے مہتمم صاحب کو اللہ تعالی نے علم و عمل سے بھرپور طویل عمر عطا فرمائی،آپ نے اپنی ذات سے طلبہ کے ساتھ مدارس اسلامیہ کو بہت فائدہ پہنچایا، آپ کے تصدیق نامہ سے اہل مدارس کو نفع ہوتا تھا،وہ کئی اداروں کے بانی اور سرپرست رہے ،آپ کے فیض یافتہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، ا ن شاءاللہ تعالیٰ یہ سب حضرات، حضرت والا کے لیے صدقہ جاریہ ہوں گے۔
تعزیتی نشست کا آغاز قاری محمد بلال کی تلاوت سے ہوا ،عزیزم محمد دانش نے نظم پیش کی ۔اس پروگرام میںمحمد انس، عبدالکریم ،محمد عزیز خان، محمد ادریس، محمد زبیر اور مولانا محمد لقمان ندوی صاحبان نے شرکت کی اور نشست کو کامیاب بنانے میں مدد کی، بانی ادارہ مولانا محمد علی جوہر ندوی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور ضیافت کی ،آخر میں صدر مجلس کی رقت آمیز دعا پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے