بانسی، سدھارتھ نگر: رتن سین پی جی کالج، بانسی، سدھارتھ نگر کے شعبۂ اردو کے زیرِ اہتمام عظیم ماہر تعلیم، مفکر اور مصلح قوم سر سید احمد خان کے یومِ پیدائش کے موقع پر ’’سر سید کا نظریۂ تعلیم و تربیت‘‘ کے عنوان سے ایک روزہ سیمینار کا انعقاد عمل میں آیا۔ سیمینار میں مقررین نے سر سید احمد خان کی علمی، تعلیمی اور سماجی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے افکار و نظریات کی عصری معنویت کو اجاگر کیا۔
پروگرام کے کنوینر اور شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر شریف الدین صاحب نے اپنے خطاب میں سر سید احمد خان کی سوانحِ حیات، علمی شخصیت اور گوناگوں خدمات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے سیمینار میں شریک مندوبین، دانشوروں اور دیگر معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے سر سید کے تعلیمی مشن کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
سیمینار میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ڈاکٹر بال گنگادھر، صدر شعبۂ اردو، سدھارتھ یونیورسٹی نے سر سید کے تعلیمی تصورات اور سماجی افکار کا جامع تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے قدیم و جدید مفکرین کے تناظر میں سر سید کے سائنسی شعور، علمی بصیرت اور عقلی نقطۂ نظر کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ ان کے افکار آج بھی تعلیمی و سماجی ترقی کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
کالج کے پرنسپل ڈاکٹر سنتوش کمار سنگھ نے اپنے خطاب میں سر سید کے تعلیمی افکار و نظریات کا اعادہ کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر شعبۂ اردو کے طلبہ و طالبات نے بھی سر سید کے فلسفۂ حیات اور تعلیمی نظریات کے مختلف پہلوؤں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقالہ نگار اور ریسرچ اسکالر شفیق احمد نے سر سید کی حیات و خدمات کا جائزہ پیش کیا، جب کہ طلبہ و طالبات رونق، اقراء، جنت، روزی، جستجو، شاداب خان، سیف الرحمن، نور صبا، روشنی، وندنا اور شبانہ نے منظوم کلام اور منظوم خراجِ عقیدت کے ذریعے سر سید کے پیغامِ تعلیم کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔
شعبۂ سماجیات کے ڈاکٹر دیوراج سنگھ اور ڈاکٹر کیدار ناتھ گپتا نے سر سید احمد خان کے افکار کی روشنی میں ملک میں امن و امان، باہمی رواداری اور بھائی چارے کے فروغ پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے سر سید کی گنگا جمنی تہذیب سے وابستگی اور اس کی معنویت کو واضح کرتے ہوئے قومی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی کے قیام میں ان کے نظریات کی اہمیت اجاگر کی۔
پروگرام کے شریک کنوینر اور شعبۂ بی ایڈ کے سینئر اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ہنس راج کشواہا نے اپنے خطاب میں سر سید احمد خان کو عظیم ماہرِ تعلیم اور مصلحِ قوم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سر سید کی تعلیمی و سماجی خدمات برصغیر کی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں اور قوم و ملک کی ترقی و سربلندی کے لیے ان کی جدوجہد ناقابلِ فراموش ہے۔ انہوں نے سیمینار میں شرکت کرنے والے تمام علماء، دانشوروں، ریسرچ اسکالرز اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
اس علمی و ادبی تقریب میں ڈاکٹر کرن دیوی، ڈاکٹر اروند کمار موریا، لائبریرین ڈاکٹر راجیش شرما، ڈاکٹر دیویندر پرساد، ڈاکٹر سنیتا ترپاٹھی، منوج کمار موریا، گیان متی، دھننجے اور ہرپریت سمیت کالج کے اساتذہ، غیر تدریسی عملے اور طلبہ و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
سیمینار کا مجموعی پیغام یہ تھا کہ سر سید کے تعلیمی افکار، سماجی اصلاح اور بین المذاہب ہم آہنگی کے تصورات آج بھی معاشرے کی علمی و فکری ترقی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
