یوم سرسید احمد خان کےموقع پرخاص بات چیت اور خراج عقیدت
(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر
پوری دنیا میں بنیادی تعلیم کو مستحکم کرنے اورعلم کو گھر گھر تک پہنچانے کا عہد رکھنے والےملک کے مایہ ناز عظیم ماہر تعلیم ڈاکٹر سرسید احمد خان کے یوم پیدائش کے موقع پر ضلع بھر میں کہیں بھی کوئی پروگرام منظر عام پر نظر نہیں آ رہا ہے۔ یہاں تک کہ مدارس، مکاتب اور دینی اداروں میں بھی کوئی پروگرام نظر نہیں آیا جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔
اس خیالات کا اظہار ضلع کے معروف سینئر فزیشن ڈاکٹر اور شاعرجاوید کمال نے ایک ملاقات کے دوران کہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرسید احمد خان کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ سر سید احمد خان 17 اکتوبر 1817 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے گئے وہ اپنے سماج اور معاشرے کے لوگوں کے بارے میں موازنہ کیے تو انہیں پتا چلا کہ ہمارے معاشرے میں علم کا معیار کافی گرا ہوا ہے اور خاص طور سے مسلمان علم سے نا آشنا ہیں۔انہوں نے اپنے قوم و ملت کی تعلیمی تیرگی کو مٹانے کا عہد کیا۔ لہذاانہوں نےاپنے معاشرے کے تمام طبقات کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے مقصد سے 24 مئی 1875 کو مدرسۃ العلوم قائم کیاجس میں پرائمری تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو اعلیٰ تعلیم بھی فراہمی کا بھی بندوبست کیا۔
8 جنوری 1877 کو محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کا آغاز کیا۔انہوں نے لوگوں میں خصوصاً کم پڑھے لکھے طبقے کے لوگوں میں تعلیم کےسلسلے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ایک مہم کی شروعات کیا ۔ 1920 میں انہوں نے یونیورسٹی ایکٹ کے تحت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی بنیاد رکھی۔جہاںسے اب تک ہزاروں طلباء خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں وہاں سے تعلیم حاصل کر کے دنیا کے کونے کونے میں اپنا نام روشن کر رہے ہیں۔وہ خاص طور پر اپنی کمیونٹی کے مطلق فکر انگیز رہا کرتے تھے۔ان کا ماننا تھا کہ تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔
سرسید احمد خان کا زمانہ انگریزوں کے زیر تسلط تھا لیکن انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔جنگ آزادی کی پہلی لڑائی میںحصہ لینے کا اعجاز بھی حاصل ہے۔ انہوں نے 1857 کی پہلی جنگ آزادی میں حصہ لیا اور ایک سچے سپاہی کے طور پر ہندوستان کی آزادی کے لیے لڑتے رہے۔ اوہ اکثر کہا کرتے تھے کہ زندگی میں ترقی کے لیے انگریزی اور جدید سائنس کا علم ضروری ہےاسی لیے انھوں نے اپنے کالج میں سائنس اور انگریزی کو ترجیح دیا۔ اگرچہ اُس وقت اُردو بنیادی زبان تھی لیکن اُنہوں نے دنیا کی تمام تر زبانوں کے ساتھ نئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ آگے بڑھنا مناسب سمجھانا بتایا اور اُس نے زندگی بھر اُس کو فروغ دیا۔وہ ایک سماجی مصلح اور تعلیمی انقلابی کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔
1863 میں اانہوں نے ایک سائنس سوسائٹی کی بنیاد رکھی اور 1866 میں سائنٹفک سوسائٹی کا رسالہ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹسے شائع کیا۔ نتیجتاً لوگ تعلیم پر توجہ دینے لگے اور پڑھائی میں لوگوں کی دلچسپی بڑھنے لگی۔
انہوں نے اس دور میں ایک اور رسالہ تہذیب الاسلام بھی شائع کیا جس میں مشرقی اور مغربی تہذیبوں کے انضمام کی وکالت کی گئی اور یہ تسلیم کیا گیا کہ جب تک ہم اپنی محدود حدود کو عبور نہیں کریں گے ہم کسی بھی میدان میں ترقی نہیں کر سکیں گے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہندوستان کی پہلی غیر سرکاری تنظیم تھی جس کا بنیادی مقصد مظلوم مسلمانوں میں سماجی اور سیاسی بیداری پیدا کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا شمار آج دنیا کی ان چندخاص یونیورسٹیوں میں کیا جاتا ہےجہاں ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے طلباء چاہے جس بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں اپنی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر جاوید کمال نے کہا کہ ہندوستان کے باہر سے بھی طلباء وہاں تعلیم حاصل کرنےجاتے ہیں اور سرسید احمد خان کے نام کو زندہ جاوید رکھے ہوئے ہیں۔ انگریزوں نے انہیں سر کے خطاب سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ دنیا بھر میں سرسید احمد خان کے نام سےمشہور و معروف ہوئے۔انہیں کی یاد میں 17 اکتوبر 1817 کو ان کا یوم پیدائش سرسید ڈے کے طور پر پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والوں کی ایک تنظیم ہے جسے اولڈ بوائز ایسوسی ایشن بھی کہا جاتا ہے۔یعنی یہ وہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی ایک تنظیم ہے جو کہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور نہ صرف ہندوستان میں بلکہ بیرون ملک بھی ہر سال 17 اکتوبر کو خصوصی طور پر سرسید ڈے منایا جاتا ہے۔ جس میں انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی تصنیف اور تعلیم و تربیت سے عوام الناس کو آگاہ اور روشناس کرایا جاتا ہے۔
اسرار الحق مجاز کا 1836 میں لکھا گیا گانا "یہ میرا چمن ہے میرا چمن، میں اپنے چمن کا بلبل ہوں”، جب وہ وہاں کے طالب علم تھے 1954 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ترانہ میں باضابطہ طور پر شامل کیا گیا اور اب بھی اسے ہر موقع پر ابتدائی نظم کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اس عظیم تعلیمی انقلابی کی امیدوں کو زندہ رکھا جائے اور تعلیم کے لیے جس جذبے کو انہوں نے جلا بخشی۔ تمام طبقات کے لوگوں میں تعلیم کا جذبہ پیدا کیا جائے کیونکہ آج کا دور ایسا ہے جہاں تعلیم کے بغیر ترقی تقریباً ناممکن ہے۔
تعلیم کے انقلابی سرسید احمد خان، جنہوں نے اپنی آخری سانس تک تعلیم کو ہر کسی کے لیے قابل رسائی بنانے کا ہدف رکھا۔ 27 مارچ 1898 کو علی گڑھ میں سر سید اخمد خان کا انتقال ہواور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جامع مسجد میں انہیںدفن ہوا۔ تعلیم کے لیے سرسید احمد خان نے جو مشعل روشن کی تھی وہ تا قیامت قائم رہے گی۔سرسید ڈے ضلع میں بھی منایا جاتا تھا لیکن پچھلے کچھ سالوں میںاس کی سرگرمی میں کافی کمی واقع ہوئی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ سابق طلباء اور نئی نسل بھی ان کی جانب مرعوب ہونے میںمیں دلچسپی کھوتی جا رہی ہے یہی وجہ ہے کہ سرسیداحمد کے متعلقین بھی اان سے نا آشنا نظر آ رہے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ سرسید احمد ڈےگزرنے کی بات ہوتی جا رہی ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں اس کی سرگرمیکمی آئی ہے جو کافی تشویش ناک ہےاورپرانے اور سینئیر طلباء کی بھی اس میں دلچسپی ختم ہو جاتی رہی ہے۔
سرسید ڈے جو کہ چند سال پہلے تک ضلعی ہیڈکوارٹر میں بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا تھا، اب دھندلا پن کا شکار ہو رہا ہے۔جب سرسید احمد ڈے کے بارے میں کچھ لوگوں سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے کچھ طلباء سے پوچھا گیا کہ ضلع میں آج سرسید احمد ڈے کیوں نہیں منایا جا رہا ہے۔ کچھ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا ہونا چاہیے تھا لیکن مستقبل میں اس کا خاص خیال رکھا جائے گا۔ضلع کے کئی طلباء علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے مختلف شعبوں میں اپنی پہچان قائم کر اپنا اور سر سید احمد خان کا نام پوری دنیا میں روشن کر کرتے ہوئے پورے سماج کو منور کرتے ہوئے سرسید احمد کی تعلیم کی شمع کو روشن کر رہے ہیں۔
ضلع میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سرکردہ لوگ جیسے سید سرور انور سابق صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سدھارتھ نگر، فخرالدین ایڈوکیٹ پروفیسر لاء سدھارتھ یونیورسٹی سدھارتھ نگر، احتشام الدین ایڈوکیٹ گورنمنٹ لیگل ایڈوکیٹ، معروف اعظم، آفتاب عالم ایڈوکیٹ سول کورٹ سدھارتھ نگر، محمد انوار سول کورٹ سدھارتھ نگر، اویس اطہر سول انجینئر بھی لکھنؤ میں نمایاں کام کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شمع روشن کر رہے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ضلع کے بہت سے طلبہ ابھیبھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن میں سید محمد فضل سول انجینئرنگ اور شاہد الباری وغیرہ ہیں۔
آخر میں ڈاکٹر جاوید کمال نے سرسید احمد خان کو اپنے اشعار سے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ۔
دولت علم سے سب لوگ نکھرجائیں گے
خوشبؤں کی مانند دل میں اتر جائیں گے
آنے والے اسی امید پر آتے ہیں یہاں
***********************
درِ سید پہ جو آئیں گے سنور جائیں گے۔
جس کی محبتوں کا کچھ حساب نہ رہا
مہکتا تھا چمن جس سے وہ گلاب نہ رہا
تعلیم سے ہمیں جوسنورنا سکھا گیا
علم و ادب کا اب وہ آفتاب نہ رہا۔
************************
