ڈاکٹر عبید الرحمٰن ندوی
استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء ، لکھنؤ
تاریخ انسانیت کے صفحات میں علم و معرفت کے بے شمار چراغ روشن ہوئے، فکر و فلسفہ کے کتنے ہی آفتاب طلوع ہوئے، تہذیب و تمدن کی کتنی ہی داستانیں رقم ہوئیں، لیکن تاریخ میں ایک ایسی درسگاہ بھی قائم ہوئی جس کی مثال نہ اس سے پہلے ملتی ہے اور نہ اس کے بعد مل سکتی ہے۔ اس درسگاہ کے معلم سید الانبیاء، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور اس کے فارغ التحصیل وہ نفوس قدسیہ تھے جنہیں دنیا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے نام سے جانتی ہے۔
یہ وہ خوش نصیب جماعت تھی جس نے سیرت مصطفی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، آپ کی زبان مبارک سے قرآن سنا اور آپ کی صحبت بابرکت میں ایمان، علم، تقویٰ، صبر، شجاعت، عدل، ایثار اور قربانی کا وہ بے مثال درس پایا جس نے دنیا کے تمام لوگوں سے ان کو افضل بنا دیا۔
ذرا تصور کیجیے! ایک طرف مکہ کی سنگلاخ وادیوں میں توحید کی صدا بلند ہو رہی ہے، دوسری طرف ظلم و ستم کے طوفان اٹھ رہے ہیں، کہیں حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کے جسم پر کوڑے برسائے جا رہے ہیں، کہیں حضرت خباب رضی اللہ عنہ آزمائشوں سے گزر رہے ہیں، کہیں حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا جام شہادت نوش کر رہی ہیں – ان تمام حالات میں یہ قافلۂ ایمان و یقین چشمہ محمدی سے سرفراز ہوتا جارہا ہے اور دن بدن اس قافلہ اسلام کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
’’یوں تو تمام صحابہ اپنی ذات سے منارہ رشد وہدایت اور علوم نبوت کے حامل و ناشر تھے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: “أصحابی کالنجوم بأیهم اقتدیتم اھتدیتم“ مگران میں متعدد حضرات مختلف علوم میں خصوصیت رکھتے تھے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں ان کو سند عطا فرمائی تھی، اور امت کو ان سے علم حاصل کرنے کی ہدایت کی تھی،آپ نے فرمایا ہے کہ تم لوگ میرے بعد ابوبکر اور عمر کی اقتدا کرو ،قرآن کی تعلیم ان چار سے حاصل کرو: عبد الله بن مسعود ، سالم مولی ابی حذیفہ ، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب، جس کو قرآن عمدہ طریقے پڑھنا ہو ا بن ام عبد (عبداللہ بن مسعود) کی قراءت کے مطابق پڑھے۔ معاذ بن جبل میری امت میں حلال وحرام کے سب سے بڑے عالم ہیں ، میری امت میں فرائض کے سب سے بڑے عالم زید بن ثابت ہیں، عبداللہ بن عباس قرآن کے بہترین ترجمان ہیں، ابو موسی اشعری کو آل داؤد کی شہنائی دی گئی ہے ، علی رضی اللہ عنہ قضا کے سب سے بڑے عالم ہیں، ابو دردا عبادت میں سب سے آگے اور اس امت کے حکیم و دانا ہیں، اُبی بن کعب قراءت میں سب سے آگے ہیں ، زمین کے اوپر آسمان کے نیچے ابوذر سب سے زیادہ صادق اللہجہ ہیں، عبیدہ بن جراح اس امت کے امین ہیں۔
حضرات تابعین اپنے اپنے ذوق اور حالات کے مطابق حضرات صحابہ کی مجلس کا انتخاب کرتے تھے۔ عبد الرحمن بن نخعی کہتے ہیں: ہم جماعت طلبہ حضرت حذیفہ کی خدمت میں پہنچے اور کہا کہ آپ ایسے صحابہ کے بارے میں ہمیں بتائیے جو اخلاق و عادات اور چال ڈھال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تر ہوں تاکہ ہم ان سے علم حاصل کریں- انھوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی سیرت وکردار اور اخلاق و عادات میں آپ سے سب سے زیادہ قریب ابن مسعود ہیں- کبار صحابہ کو معلوم ہے کہ وہ اللہ تعالی سے قریب تر ہیں۔ یہ واقعہ سنن ترمذی میں بھی ہے۔(صحابہ کی مختلف علوم و فنون میں جامعیت)
حضرات صحابہ علوم نبوت یعنی کتاب وسنت اور فقہ کے ترجمان و معلم تھے اور انہی علوم کی تعلیم دیتے تھے۔ اس کے ساتھ دوسرے علوم والسنہ کے بھی عالم تھے مثلاً علم الانساب میں ابوبکر صدیق، ابوالجہم بن حذیفہ ، جبیر بن مطعم سب سے بڑے عالم تھے اور جمع انساب عرب میں رسوخ رکھتے تھے، ان کے علاوہ عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، عقیل بن ابی طالب بھی اس میں نمایاں مقام رکھتے تھے ۔ زید بن ثابت سریانی زبان کے عالم تھے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے صرف سترہ دن میں اس زبان میں لکھنے پڑھنے کی مہارت حاصل کرلی تھی جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے- ابو بکر صدیق تعبیرِ خواب میں سب سے آگے تھے، عبداللہ بن عباس حدیث، تفسیر، مغازی، اشعار اور ایام عرب میں جامعیت کے مالک تھے اور ایک ایک دن ان سب کا علیحدہ علیحدہ درس دیتے تھے – ابو دردا حدیث، فقہ، فرائض ، حساب اور اشعار عرب کے جامع عالم و معلم تھے ۔ حضرت عقبہ بن عامر جہنی جامع قرآن ، قاری، فرائض و فقہ کے عالم، شاعر، کاتب اور فصیح و بلیغ جلیل القدر محدث تھے۔ ام المومنین حضرت عائشہ بھی حدیث وفقہ و فرائض کے ساتھ انساب عرب ، اشعار عرب اور طب میں مرجع کی حیثیت رکھتی تھیں ۔ صہیب بن سنان رومی رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کے مغازی اور اسفار کے خاص راوی تھے اور اپنے شاگردوں سے صرف ان ہی کو بیان کرتے تھے ۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص سریانی اور عبرانی زبانوں سے واقف تھے اور تورات پڑھتے تھے- حضرت ابو ہریرہ نے تورات نہیں پڑھی تھی مگر اس کے مضامین سے اچھی طرح واقف تھے ، اس کی شہادت کعب احبار نے دی ہے، وہ فارسی اور حبشی کے بھی عالم تھے- سلمان فارسی کی مادری زبان فارسی تھی- ایک روایت کے مطابق اہل فارس نے ان سے سورہ فاتحہ کے فارسی ترجمہ کی خواہش کی تو بسم الله الرحمن ارحیم کا ترجمہ "بنام یزداں بخشایندہ” کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا اور اہل فارس نے اس ترجمہ کو پڑھنا شروع کیا اور جب ان کی زبان میں نرمی پیدا ہوگئی تو عربی میں پڑھنے لگے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ عہد رسالت میں کتاب وسنت اور تفقہ فی الدین کی تعلیم دی جاتی تھی، اس نصاب میں عہد صحابہ میں سنت ماضیہ کا اضافہ ہوا، اس سے مراد خلفائے راشدین اور کبار صحابہ کا تعامل، ان کے فقہی اقوال و آراء اور احکام و قضایا تھے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: علم تین ہیں، ان کے علاوہ زائد ہیں، آیت محکمہ، سنت قائمہ ، فرائض عادلہ- حضرات صحابہ میں عبد اللہ بن عمر کا قول ہے کہ علم تین ہیں: کتاب ناطق ، سنت ماضیہ اور لا ادری- عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں: علم تو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ہے، اس کے بعد جو شخص اپنی رائے سے کوئی بات کہے تو میں نہیں جانتا کہ اس کو اپنی حسنات میں پائے گا یا سیئات میں پائے گا- عبد اللہ بن مسعودؓ نے کہا کہ: کثرت حدیث علم نہیں ہے، علم تو خشیت خدا ہے ۔ عہد نبوت اور عہد صحابہ میں بلکہ تابعین کے زمانہ تک لفظ علم کا اطلاق کتاب و سنت اور تفقہ فی الدین پر ہوتا تھا بلکہ بعض حضرات علم سے مراد صرف حدیث لیتے تھے- ابن جریج نے عطاء بن ابی رباح کے متعلق کہا ہے کہ وہ جب کوئی حدیث بیان کرتے تو میں ان سے دریافت کرتا کہ علم ہے یا رائے ہے، اگر حدیث ہوتی تو کہتے کہ یہ علم ہے اور اگر رائے ہوتی تو کہتے کہ یہ رائے ہے۔(خیر القرون کی درسگاہیں اور ان کا نظام تعلیم و تربیت ازحضرت مولانا قاضی اطہر مبارکپوری ،ص ،۱۱۶- ۱۱۸ )
بلا شبہ ان سند یافتگان کی عظمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے معلم کی تعلیمات کو صرف اپنے سینوں تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچایا۔ کسی نے قرآن کی تعلیم دی، کسی نے حدیث کی روایت کی، کسی نے عدل و انصاف کے نظام کو مضبوط کیا، کسی نے علم و فقہ کی بنیادوں کو وسعت دی، کسی نے میدانِ دعوت میں اپنی زندگی صرف کی، اور کسی نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے حق کی گواہی دی۔ ان کی محنتوں ہی کے نتیجے میں اسلام کا پیغام نسل در نسل منتقل ہوا اور امت مسلمہ کو علم و ہدایت کا عظیم سرمایہ نصیب ہوا۔
تاریخ کے صفحات میں اگر کبھی عظمت و بلندی کی مثالیں تلاش کی جائیں، اگر علم کی معراج، ایثار و قربانی کا تذکرہ ہو تو نگاہیں بے اختیار اسی قافلہ مقدس کی طرف اٹھیں گی جس نے آغوش نبوت میں تربیت پائی، جس نے نگاہ مصطفی سے بصیرت، زبان مصطفی سے سچ اور حق گوئی کا سبق سیکھا۔یہ وہ جماعت تھی جن کے قدموں کی آہٹ سے باطل کے ایوان لرزے، جن کے اخلاق سے دل مسخر ہوئے، جن کے علم سے جہالت کے پردے چاک ہوئے اور جن کی قربانیوں سے دین حق کی شمع دنیا کے گوشے گوشے میں روشن ہوئی۔
آج بحیثیت امت مسلمہ ہر مسلمان خصوصا نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور صحابۂ کرام کی تابناک زندگیوں کا مطالعہ کرکے اپنی زندگی کو سنواریں، اپنے علم کو عمل سے آراستہ کریں، اپنے اخلاق کو بلندی عطا کریں، اپنے کردار کو اسوۂ نبوی کا آئینہ بنانے کی کوشش کریں اور علم کے ذریعہ اسلام کی سربلندی اور امت مسلمہ کے لئے نافع بنیں۔
