تحریر: محمد توحید رضا علیمی بنگلور
انسان اس رنگ برنگی دنیا میں آتا ہے، تو یہاں کی رونقیں، رشتے ناطے، مال و دولت اور جاہ و حشم اس کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں اور وہ اپنی پوری زندگی ان ہی چیزوں کو پانے، سنوارنے اور بچانے میں گزار دیتا ہے۔ لیکن جب عمر کی مسافتیں طے ہوتی ہیں، بالوں میں چاندی اترتی ہے اور زندگی کا سورج ڈھلنے لگتا ہے، تو ایک عرصہ دراز کا تجربہ انسان پر صرف ایک ہی حقیقت واضح کرتا ہے کہ یہ دنیا فانی ہے، یہ کسی کی جاگیر نہیں اور اصل کامیابی صرف دنیا پیدا کرنے والے سے دل لگانے میں ہے۔ حکیمِ مشرق حضرت شیخ سعدی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ نے انسان کو غفلت سے بیدار کرنے کے لیے کیا خوبصورت نسخہ بیان فرمایا ہے:’جہاں اے برادر نہ ماند بہ کس، دل اندر جہاں آفریں بند و بس(اے بھائی! یہ دنیا کسی کے پاس نہیں ٹکتی، تو اپنا دل صرف دنیا پیدا کرنے والے سے لگا اور بس) شیخ سعدی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ نے پوری دنیا کی سیاحت اور امیر و غریب کے حالات کا گہرا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ تلخ نچوڑ نکالا کہ یہاں سے وقت کے بڑے بڑے حاکم اور بادشاہ بھی خالی ہاتھ رخصت ہو گئے۔ انہوں نے انسانی ہوس اور قناعت کا فرق واضح کرنے کے لیے ایک لافانی تاریخی نصیحت فرمائی کہ دس درویش تو ایک ہی کمبل میں مل بانٹ کر آرام سے سو سکتے ہیں،مگر دو حریص بادشاہ ایک پوری سلطنت یا ملک میں بھی مل کر نہیں سما سکتے۔ اس حکیمانہ جملے سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا کو ٹھکرا کر یادِ خدا میں مست رہنے والے درویش چٹائی پر بھی دونوں جہان کا سکون پا لیتے ہیں، جبکہ تاج و تخت اور جاہ و جلال کے نشے میں جینے والے حاکم پوری کائنات سمیٹ کر بھی حسرت، خوف اور دلی ویرانی کے ساتھ خاک میں مل جاتے ہیں؛ لہٰذا عقل مندی اسی میں ہے کہ انسان اس عارضی مسافر خانے کے مادی سہاروں پر تکیہ کرنے کے بجائے ہمیشہ قائم رہنے والے خالقِ کائنات سے اپنی لو لگائے۔
موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے۔ کہ مسلمانوں کو عالمی اور مقامی سطح پر طرح طرح کے جابرانہ قوانین، موب لنچنگ، دشمنی اور شہر بدر کرنے کی دھمکیوں کے ذریعے روز بروز شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مسلمان مسلسل اس خوش فہمی میں جی رہے ہیں کہ شاید کل کا سورج کوئی بہتری لائے گا، لیکن حالات سازگار ہونے کے بجائے فتنوں کی صورت میں مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے پرآشوب وقت میں بعض لوگ سیکولر بن کر، منافقین اور باطل قوتوں کو خوش کرنے کے لیے اپنی مذہبی شناخت، لباس اور اسلامی شعائر تک کو بدلنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ باطل قوتیں آپ کو کبھی دل سے اپنا نہیں مانیں گی، اور اس غلامانہ ذہنیت کا انجام دنیا اور آخرت دونوں کی بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ لہٰذا، حالات کی ستم ظریفی اور وقت کی سنگینی کا تقاضا یہی ہے کہ مسلمان دنیا کے ان کبھی نہ ختم ہونے والے فتنوں سے مرعوب ہو کر اپنی اسلامی شناخت اور مذہبی غیرت کا سودا ہرگز نہ کریں۔ حالات چاہے جتنے بھی کٹھن ہوں، ہمیں اپنے اسلام و عقیدے پر استقامت دکھانی ہوگی اور مادی سہاروں پر تکیہ کرنے کے بجائے اپنے پیدا کرنے والے (اللہ تعالیٰ) سے تعلق کو مزید گہرا اور مضبوط کرنا ہوگا، کیونکہ مومن کے لیے ہر حال میں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی کافی اور بہترین کارساز ہے۔
دنیا کے عارضی مصائب
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر انسان کو دنیا کے عارضی مصائب سے بالاتر ہو کر آخرت کی ابدی زندگی کی فکر کرنے اور اللہ سے لو لگانے کا حکم دیا ہے۔ سورہ الکہف میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:(ترجمہ: مال اور بیٹے یہ جیتی دنیاکاسنگار(زینت)ہے یعنی دنیا کی زندگی کی (عارضی) رونق ہیں، اور باقی رہنے والی اچھی باتیں ان کا ثواب تمہارے رب کے یہاں بہتر اور امید میں سب سے بھلی)ترجمہ کنزالایمان ۔اسی قرآنی فکر کو واضح کرتے ہوئے آقائے کائنات، نبی رحمت شفیع ِامت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دنیاوی پریشانیوں کے دلدل سے نکلنے کا ایک عظیم نسخہ عطا فرمایا ہے۔ حضرت اسود بن یزید کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے تمہارے محترم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔جس نے اپنے سارے غموں کو آخرت کا غم بنا لیا تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا کے غم کے لیے کافی ہے، اور جو دنیاوی معاملات کے غموں اور پریشانیوں میں الجھا رہا، تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پروا نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہوا۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، حدیث: 4106) اس الٰہی فرمان اور ارشادِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اگر ہم تاریخِ انسانی کا گہرا مطالعہ کریں، تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ظلم، ستم اور آزمائشوں کا یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے۔ ہر دور کے انسان کو اپنے وقت میں پیچیدہ حالات، ناانصافیوں اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ آج عالمی سطح پر بھی حالات انتہائی سنگین ہیں۔ ایک طرف اسرائیل کی وحشیانہ جنگ اور چوطرفہ جارحیت نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، تو دوسری طرف سعودی عرب اور اس کے ارد گرد کے خطے میں جاری سیاسی و سفارتی تنازعات نے امتِ مسلمہ کے اضطراب کو مزید بڑھا دیا ہے۔ عالمی سطح کے اس خون آشام منظرنامے سے لے کر اپنے ملکی اور معروضی حالات پر نظر ڈالیں، تو ہندوستان کے طول و عرض میں بھی ایک نیا بحران سر اٹھاتا نظر آتا ہے۔ ایس، آئی، آر’ (SIR) اور اسی نوعیت کے دیگر سرکاری سروے اور ڈیجیٹل ڈیٹا کے نام پر عام لوگوں، بالخصوص پسماندہ طبقات کے بنیادی حقوق چھیننے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔ غریبوں کو حکومت سے ملنے والے بنیادی فوائد اور فلاحی اسکیموں سے دور کرنے کی ایک گہری سازش چل رہی ہے۔ اس کھلی ناانصافی اور حق تلفی کے خلاف پورے ہندوستان کا باشعور نوجوان سڑکوں پر ہے اور پرامن احتجاج کے ذریعے اپنے جائز حقوق کی فریاد کر رہا ہے۔اس پورے منظرنامے میں، بدقسمتی سے مسلمان ہمیشہ کی طرح ‘ٹارگٹ نمبر ون’ بنے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کی مساجد، مدارس اور خانقاہیں ہمیشہ سے فاشسٹ طاقتوں کے نشانے پر رہی ہیں اور آج بھی ان کی شناخت اور دینی مراکز کو مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔لیکن میرے عزیز ہم وطنو ںاور ملت کے نوجوانو! اس مضمون کے ذریعے میں آپ تک یہ پیغام پہنچانا چاہتا ہوں کہ دنیا کے ان ظاہری حالات کو دیکھ کر مایوس ہونے یا دل برداشتہ ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ یہ دنیا داراللعمل ہے، یہاں کے حالات کبھی یکساں نہیں رہتے اور یہ مصائب شاید صبحِ قیامت تک کسی نہ کسی شکل میں پیدا ہوتے رہیں گے۔ حدودآئین ہند میں رہ کر ان سنگین حالات کا مقابلہ کرنا ہے، لیکن اپنے دل کو دنیا کے خوف سے اجڑنے نہیں دینا۔ تمام تر ستم کے باوجود، اپنے دل کو،یادِ خدا، اور فکرِ آخرت،سے آباد رکھیں۔ ہمارا اصل رشتہ اس ذات سے ہے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہی ہے کہ ہم خالقِ کائنات سے اپنے تعلق کو مزید گہرا، مضبوط اور اٹوٹ بنائیں۔ جب دل اللہ تعالیٰ کی محبت اور یقین سے سرشار ہو جائے، تو دنیا کی کوئی طاقت انسان کو خوفزدہ نہیں کر سکتی۔اسی لیے اللہ پاک نے اپنے اولیاء کی یہ شان بیان کی کہ ترجمہ ۔سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے(پارہ ۱۱ سورہ یونس آیت نمبر ۶۲) اس مبارک آیت کریمہ میں اللہ رب العزت نے اپنے سچے اور مقرب بندوں عظیم شان بیان فرمائی کہ جولوگ اپنی مرضی کو اللہ کی رضا میں فنا کردیتے ہیں ،اللہ پاک انہیں دنیا و آخرت کے تمام خوف اور غموں سے آزاد فرمادیتاہے ۔اور یہ مشہور مقولہ ہے ۔من کان للہ کان اللہ لہ( جو اللہ کا ہوجاتا ہے اللہ پاک اس کا ہوجاتاہے۔اور صحیح بخاری کتاب الرقاق میں حدیث قدسی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور ﷺنے فرمایا۔اللہ پاک نے فرمایا ، میرا بندہ کثرت نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتاہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔اور جب اس سے محبت کرتا ہوں تو اس کی سماعت بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ۔الیٰ آخرالحدیث ۔یہی خدا پرستی، صبر اور استقامت ہماری دنیاوی عزت کی بھی ضامن ہے اور آخرت کی ابدی کامیابی و کامرانی کی بھی ضامن ہے۔
تحریر۔محمد توحید رضا علیمی بنگلور امام مسجد رسولُ اللہ ﷺ خطیب ۔مسجد رحیمیہ میسور روڈ بنگلور
مہتمم دارالعلوم حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ نائب صدر ۔نوری فائونڈیشن علماء فیڈریشن کرناٹک
رابطہ۔9886402786
Tauheedtauheedraza@gmail.com
