اعداد : محمد وسيم راعين

مکہ مکرمہ کی محبت ہر مسلمان کے دل میں ہے۔ یہ توحید اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی روحانی عقیدت کا مرکز ہے۔ اس شہر کی حرمت اور امن، پوری امت مسلمہ کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک سے لاکھوں مسلمان حج، عمرہ اور زیارت کے لیے ان مقدس مقامات کا سفر کرتے ہیں۔ ان کی سلامتی میں کسی بھی قسم کا خلل انسانی جانوں، عبادت کے ماحول اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو متاثر کر سکتا ہے۔

ایسے میں مکہ مکرمہ کے قریب وادیِ مغمس میں میزائل کے ملبے کا گرنا ایک تشویش ناک واقعہ ہے، جو حرمِ مکہ کی سلامتی اور خطے کے امن کے حوالے سے کئی اہم سوالات کھڑے کرتا ہے۔

24 اکتوبر 2026ء کو سعودی عرب کے شہری دفاع کے مطابق، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی سمت داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے بعد ان کے ٹکڑے مختلف مقامات پر گرے۔ ان میں مکہ مکرمہ کا وادیِ مغمس، جدہ کا محلہ النزهہ، طائف کی وادیِ جلیل اور رابغ کا مرکز مستورہ شامل ہیں۔ حکام کے مطابق متعلقہ اداروں نے مقررہ حفاظتی کارروائیاں انجام دیں۔ جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے – الحمد للہ.

مکہ مکرمہ کی حرمت محض ایک تاریخی یا جغرافیائی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عظمت ہے۔ اس مقدس شہر کے امن کو خطرے میں ڈالنے والا ہر اقدام انتہائی سنگین ہے اور اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ کسی بھی مسلح تنازعے میں حرمین شریفین اور ان کے گرد و نواح کی سلامتی کو خصوصی اہمیت دینا تمام فریقوں کی ذمہ داری ہے۔

سیاسی اختلافات، جنگی محاذ آرائی اور علاقائی کشمکش کسی بھی فریق کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ مقدس مقامات یا عام شہریوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالے۔ اگر کسی کارروائی کے نتیجے میں حرمِ مکی کے قرب و جوار میں خطرہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی روک تھام ضروری ہے۔

میزائلوں اور دیگر مہلک ہتھیاروں کے استعمال میں عام شہریوں، عبادت گاہوں اور زائرین کی جانوں کو خطرے سے بچانا ناگزیر ہے۔ جنگی کارروائیوں کے اثرات اکثر میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ان کا خطرہ بے گناہ انسانوں تک بھی پہنچتا ہے۔ اسی لیے ہر فریق کو اپنی کارروائیوں میں شہریوں کے تحفظ اور انسانی جانوں کی حرمت کا لحاظ رکھنا چاہیے۔

حوثی قیادت سمیت خطے کے تمام متعلقہ فریقوں سے مطالبہ ہے کہ وہ حرمین شریفین اور ان کے گرد و نواح کی سلامتی کے معاملے میں انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ مقدس مقامات کو کسی بھی تنازعے کا حصہ بننے سے روکنا، شہری آبادی کو خطرات سے محفوظ رکھنا اور اشتعال انگیز کارروائیوں سے اجتناب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

امت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ حرمین شریفین کی سلامتی کے لیے دعا کرے، مستند خبروں کو عام کرے اور غیر مصدقہ دعووں سے اجتناب کرے۔

اللہ تعالیٰ حرمین شریفین کو ہر قسم کے شر و فساد سے محفوظ رکھے، سعودی عرب اور تمام مسلم ممالک کو امن و سلامتی عطا فرمائے، حجاج و معتمرین کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے