ابوالکلام آزاد ندوی

ابوالکلام آزاد ندوی
معاون ایڈیٹر:مشرقی آواز جدید سدھارتھ نگر

مدرسہ تعلیم الدین مہوریا

گزشتہ کل بروز منگل، ضلع سدھارتھ نگر کے مشہور گاؤں مہوریا میں واقع مدرسہ تعلیم االدین میں حاضری کا موقع ملا۔ ادارے کے ذمہ دار جناب سالک بھائی کے بار بار اصرار اور حافظ وحید الزماں صاحب کی محبت و خلوص نے اس علمی و تعلیمی مرکز کی زیارت کے لیے آمادہ کیا۔ چنانچہ اس ادارے میں حاضری میرے لیے نہ صرف خوشی بلکہ ایک خوش گوار علمی تجربہ بھی ثابت ہوئی۔
کئی سال قبل تبلیغی جماعت کے سلسلے میں ایک مرتبہ اس مدرسے میں جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ اس وقت مدرسے کی عمارت نہایت مختصر تھی، لیکن اس کے باوجود دینی تعلیم کے فروغ کا جذبہ نمایاں تھا۔ اس کے بعد کئی مرتبہ یہاں آنے کی خواہش دل میں پیدا ہوئی، مگر وقت اور حالات کی ناسازگاری کے باعث یہ خواہش شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکی۔ الحمدللہ! ہمارے یہاں مدرسہ میں چھٹی کے باعث اس مرتبہ حاضری کی صورت بن گئی اور مدرسہ کو قریب سے دیکھنے، اس کی تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لینے اور اس کے تعلیمی ماحول سے واقف ہونے کا موقع ملا۔
مدرسہ پہنچنے پر وہاں کا ماحول دیکھ کر دلی مسرت ہوئی۔ جناب سالک صاحب کے صاحبزادے محمد حسان نے قرآن مجید کی چند سورتوں کی تلاوت نہایت عمدہ انداز میں پیش کی۔ صحیح مخارج، تجوید کی رعایت اور خوب صورت ادائیگی نے خاصا متاثر کیا۔ اس کے بعد چند بچیوں نے بھی قرآن مجید کے مختلف مقامات سے سنایا۔ ماشاء اللہ! بچوں اور بچیوں کی قراءت و ادائیگی کا معیار دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا۔ ان کی تلاوت سن کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا کہ یہ کسی بڑے ادارے کے طلبہ نہیں، بلکہ ایک مکتب میں زیر تعلیم بچے اور بچیاں ہیں۔ یہ سب اساتذہ کی محنت، توجہ اور حسنِ تربیت کا خوش آئند نتیجہ ہے۔
اس موقع پر اساتذۂ کرام اور بالخصوص حافظ وحید الزماں صاحب سے ملاقات کا بھی موقع ملا۔ ان سے گفتگو کے دوران مدرسے کی تعلیمی و انتظامی سرگرمیوں اور اس کے ارتقائی مراحل سے واقفیت حاصل ہوئی۔ ماشاء اللہ! گزشتہ کئی برسوں میں ادارے نے قابلِ قدر ترقی کی ہے۔ اب یہاں کئی تدریسی کمرے، ایک کشادہ برآمدہ اور دفتر موجود ہے۔ طلبہ و طالبات کی دینی تعلیم کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔ اساتذہ کے لیے غسل خانے اور طلبہ و طالبات کے لیے الگ الگ بیت الخلاء کا بھی معقول نظم ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ یہاں درجہ پنجم تک کی مکمل تعلیم کا باقاعدہ انتظام ہے اور طلبہ و طالبات کی ایک اچھی تعداد اس سے استفادہ کر رہی ہے۔
اس دورے میں ایک بات جس نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا، وہ حافظ وحید الزماں صاحب کی خوش خطی اور قدیم طرزِ کتابت سے ان کی وابستگی ہے۔ آج جب بال پوائنٹ اور جیل پین کا زمانہ ہے اور قلم و دوات کی روایت تقریباً قصۂ پارینہ بنتی جارہی ہے، ایسے وقت میں بھی حافظ صاحب اس قدیم علمی وراثت کو پوری محبت کے ساتھ سنبھالے ہوئے ہیں۔ وہ آج بھی نرکل کے قلم کو تراش کر، دوات کی سیاہی سے لکھنے کا وہی قدیم اور دل کش انداز اختیار کرتے ہیں جو کبھی اہلِ علم و قلم کی پہچان ہوا کرتا تھا۔ یہ محض لکھنے کا ایک طریقہ نہیں، بلکہ ایک ایسی تہذیبی روایت سے وابستگی ہے جس میں قلم تراشنے سے لے کر حروف کی تشکیل تک ایک خاص ذوق، سلیقہ اور نفاست کارفرما ہوتی ہے۔
مجھے جب اس بات کا علم ہوا تو بچوں کی کاپیاں دیکھنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ چنانچہ چند طلبہ کی کاپیاں دیکھیں تو خوش گوار حیرت ہوئی کہ بچے بھی نہایت عمدہ اور صاف ستھری خوش خطی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ان کے حروف کی بناوٹ، سطروں کی ترتیب اور لکھنے کے سلیقے نے خاصا متاثر کیا۔ اس سے اندازہ ہوا کہ حافظ صاحب کی یہ انفرادی خوبی محض ان کی ذات تک محدود نہیں، بلکہ وہ اپنے شاگردوں میں بھی اس ذوق کو منتقل کررہے ہیں۔ آج کے دور میں جب خوش خطی کی طرف توجہ نسبتاً کم ہوتی جارہی ہے، بچوں میں اس ذوق کو پروان چڑھانا یقیناً ایک قابلِ قدر کوشش ہے۔ بلاشبہ اچھی تعلیم صرف معلومات فراہم کرنے کا نام نہیں، بلکہ بچوں کے اندر حسنِ ذوق، سلیقہ اور نفاست پیدا کرنا بھی اس کا ایک اہم حصہ ہے۔
مدرسے کی عمارت اور اس کی موجودہ صورتِ حال دیکھتے ہوئے یہ بات بھی محسوس ہوئی کہ ادارے کی تعمیر و تکمیل کا سفر ابھی جاری ہے۔ اگرچہ اب تک خاصا کام ہوچکا ہے، لیکن بعض ضروری کام، مثلاً فرش اور دیوار کی صفائی ابھی باقی ہیں۔ تاہم یہ کوئی مایوس کن صورتِ حال نہیں، بلکہ ایک زیرِ تعمیر ادارے کے ارتقائی سفر کا حصہ ہے۔ امید ہے کہ اہلِ خیر حضرات کی توجہ، تعاون اور سرپرستی اسی طرح شاملِ حال رہی تو ان شاء اللہ یہ باقی ماندہ کام بھی بہت جلد مکمل ہوجائیں گے اور مدرسے کی عمارت مزید خوب صورت اور سہولتوں سے آراستہ ہوجائے گی۔ ایسے اداروں کی تعمیر و ترقی میں اہلِ خیر کا تعاون محض مالی اعانت نہیں، بلکہ صدقۂ جاریہ کے ایک عظیم موقع سے فائدہ اٹھانا بھی ہے۔
دورے کے دوران یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ حافظ وحید الزماں صاحب مکتب کی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ شعبۂ حفظ بھی چلا رہے ہیں، نیز مستقبل میں اس شعبے کو مزید وسعت دینے اور الگ سے شعبۂ حفظ قائم کرنے کا منصوبہ بھی رکھتے ہیں۔
مدرسے کی ایک اور قابلِ توجہ خوبی یہ ہے کہ یہاں دینی علوم کے ساتھ عصری مضامین کی تعلیم کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ طرزِ تعلیم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ادارے کے ذمہ داران طلبہ و طالبات کی تعلیمی ضروریات کو وسیع تناظر میں دیکھتے ہیں اور ان کی ہمہ جہت تعلیمی و تربیتی نشوونما کے لیے کوشاں ہیں۔ دینی تعلیم کے ساتھ ضروری عصری علوم کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت بھی ہے اور طلبہ کے بہتر مستقبل کی ایک اہم بنیاد بھی۔
اس مختصر دورے کے بعد دل میں یہ احساس مزید پختہ ہوا کہ کسی ادارے کی ترقی صرف اس کی عمارتوں اور کمروں کی تعداد سے نہیں، بلکہ اس کے تعلیمی ماحول، اساتذہ کی محنت، ذمہ داران کے اخلاص اور طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت سے ہوتی ہے۔ مدرسہ تعلیم القرآن مہوریا میں ان پہلوؤں کی جو جھلک دیکھنے کو ملی، وہ یقیناً خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے۔ ایک مختصر مکتب سے بتدریج ایک منظم تعلیمی مرکز کی صورت اختیار کرنا ذمہ داران کی مسلسل جدوجہد اور دینی جذبے کا ثمرہ ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مدرسہ تعلیم الدین مہوریا کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، اس کے تعلیمی و تربیتی نظام میں مزید برکت عطا فرمائے، حافظ وحید الزماں صاحب، جناب سالک بھائی اور تمام اساتذہ و معاونین کی محنتوں اور خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے، اور اس مدرسہ کو علاقے کے بچوں اور بچیوں کے لیے قرآن و سنت کی تعلیم اور دینی و اخلاقی تربیت کا ایک مؤثر مرکز بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے