سہارنپور۔۔۔۔۔ 4 نومبر ۔۔۔۔۔(احمد رضا): امامیہ ایجوکیشن ٹرسٹ ہال میں وقف جائیدادوں پر غیر قانونی قبضوں کے خلاف کل ایک خاص پریس کانفرنس منعقد کی گئی اس خاص موقعے پر امامیہ ایجوکیشن ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری مولانا علی حسین قمی اور راشٹریہ سماجک کاریہ کرتا سنگٹھن کے قومی کنوینر محمد آفاق اور انڈین نیشنل لیگ کے قومی نائب صدر حاجی فہیم صدیقی نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اترپردیش، بنگال سمیت مختلف ریاستوں میں وقف جائیدادوں پر غیر قانونی طور پر قبضے کیے جا رہے ہیں، جس میں اوقاف کے ذمہ داران کی نگرانی اور مبینہ ملی بھگت بھی سامنے آ رہی ہے مولانا علی حسین قمی نے بنگال کی وقف جائیدادوں کے سلسلے میں کہا کہ انہوں نے بنگال جا کر وہاں کی وقف املاک کا جائزہ لیا، جہاں یہ بات سامنے آئی کہ سبط آباد اسٹیٹ اور بیگم جہاں آراء کی جائیدادوں پر ہمایوں علی مرزا نے قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان جائیدادوں میں موجود امام باڑے اور کئی مساجد کو شہید کر دیا گیا ہے، جبکہ تقریباً 19 دکانوں کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوسرا معاملہ وقف بسراوی اسٹیٹ کا ہے، جہاں مسجد اور سیکڑوں دکانیں موجود ہیں۔ ان دکانوں کو من مانی طریقے سے اپنے اہل خانہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ کروڑوں روپے کے غبن کے الزامات کے سلسلے میں ہمایوں مرزا اور ریاض مرچنٹ کے خلاف ایف آئی آر بھی درج ہے مولانا علی حسین قمی نے کہا کہ ممتا بنرجی کی حکومت میں ان لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی تھی، لیکن اب موجودہ حکومت سے امید ہے کہ ان کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے گی اور وقف املاک کو غیر قانونی قبضوں سے آزاد کرایا جائے گا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد آفاق نے کہا کہ ہم وقف جائیدادوں کو بچانے اور ان پر غیر قانونی قبضوں کے خلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے۔ وقف املاک کے تحفظ کے لیے تمام ذمہ داران سے جواب دہی کا مطالبہ کیا جائے گا، تاکہ وقف جائیدادوں کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو اور ان املاک کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے !
