سر سید احمد خاں رح کی علمی خدمات ناقابل فراموش!

سہارنپور (احمد رضا): سر سید احمد ڈے پر ضلع بھر میں درجن بھر معیاری علمی اور فکری پروگرام منعقد ہونے جہاں بانی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سر سید احمد خاں کی تعلیمی اور تحقیقی و اصلاحی خدمات پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی اس خاص موقع پر کل دیر رات یہاں شہر کے ایک مشہور اور معروف ہوٹل میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنی ایسوسیشن سہارنپور کی جانب سے علیگڑھ مسلم  کے بانی سر سید کے یوم پیدائش پرایک پر وقار تقریب کا انعقاد  عمل میں آیا جس میں سیکڑوں معزز افراد اور مہمانوں نے شرکت فرمائی، ہوٹل رائل ریزی ڈینسی میں اسکالر ڈاکٹر قدسیہ انجم کی صدارت میں یہ تقریب معیاری طرز پر مکمل ہوئی یہاں نظامت کے فرائض بہت خوبصورت انداز میں ایسوسیشن کی سکریٹری  میڈم صبوحی افتخار نے انجام دئیے پروگرام کا آغاز آصف شمسی کی نعت پاک سے ہوا اس موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل اور سابق وائس چانسلر  اے ایم یو ضمیرالدیں شاہ  نے کہا  کہ سر سید احمد خان جدید  تعلیم کے بانی اور ایک عہد ساز شخصیت کے مالک تھے اور بحیثیت مصلح، مفکر، ماہرِ تعلیم صحافی، مورخ اور صاحب اسلوب جانے جاتے ہیں۔ ان سب سے اوپر ایک دور اندیش مُسلم رہنما تھے جنہوں نے جسارت کے ساتھ  اپنی قوم کو اُوپر اٹھانے کے لیے ٹھوس عملی اقدامات کیے بلاشبہہ یہ کام کسی دوسرے نے نہیں کیا سر سیّد  ڈے منانا صرف ان کی شخصیت کو یاد کرنا نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کی ترقی تعلیمی اصلاحات اور فکری بیداری کے نظریات کو زندہ رکھنے کا ایک ذریعہ ہے اُن کا کارنامہ یہ ہے کہ مخالفِ ہواؤں میں جدید علوم کی شمع روشن کی مہمانِ اعزازی رامپور سے تشریف لائے سابق  ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جناب تنویر احمدنے کہا کہ سرسید نے  مُسلم قوم کو  علم  کی روشنی دکھا کر غفلت سے جگایا اور باوجود بےحد مخالفتوں کے سرسید نےاپنی قوم کو جھنجھوڑا اور قوم کو ڈوبتی کشتی کو بچا کر کامیابی کے ساتھ اسکو ساحل تک پہنچایا وہ نہ صرف قوم کو انگریزی سائنس اور ماڈرن دنیاوی تعلیم دینا چاہتے تھے بلکہ اسلامی تعلیم بھی دینا  چاہتے تھے سر سید ہمارے ان محسنوں میں ہیں جنہوں نے اپنے افکار و اعمال سے قوم کی تقدیر بدل دی۔

سابق ہیڈ شعبۂ الیکٹریکل انجینئرنگ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے تشریف لائے پروفیسر ماجد جمیل نے کہا کہ بچّوں کے مُستقبل کو سنوارنے کے لیے اور صحیح راستے کا انتخاب کرنے کے لیے ایک کیریئر کونسلنگ اور گائیڈنس سینٹر کھولنے کی کاوشیں ہم سب علیگڑھ ٹیم کر رہی ہے۔ سر سید نے جو کام قوم کے لئے کیا آج اُس کو  آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔ اسلامیہ انٹر کالج کے سابق پرنسپل فیاض احمد نے سر سید احمد خاں کی تعلیمی کارکردگی کو سراہا اور آپ کے خیالات اور نظریات کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کرائی آپنی بانی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سر سید احمد خاں کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے معمار ملت قرار دیا، کالم نگار ڈاکٹر شاہد زبیری نے کہا کہ جو تعلیمی کام ہموطنوں نے سو سال پہلے کرنا شروع کیا وہ مُسلم معاشرے میں سو سال بعد سر سیّد نے شروع کیا مظاہر رانا نے کہاکہ مسلم سماج میں تعلیم کے ساتھ سیاسی بیداری بھی ضروری ہے۔ سابق ممبر پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمٰن نے  اپنے خاص پیغام میں ماڈرن تعلیم اور سائنٹیفک سوچ کے ساتھ کام کرنے پر زور دیا سابق انفارمیشن کمشنر حافظ عثمان نے کہاکہ علیگڑھ  مُسلم یونیورسیٹی اور تہذیبِ اخلاق صرف ایک ادارے کا نام نہیں ہے بلکہ ایک  ایسی انقلاب آفرین فکر کا نام ہے جس نے مُسلم سماج کو ایک وِزن دیا۔ سرسید مشن کو آگے لے جانے کے لئے ہم سب کو مل کر کوشش کرنی ہوگی۔ مظاہر رانا نے مسلّم کے لیے تعلیم کے ساتھ سیاسی شعور پر زور دیا صدارت کرتے ہوئے اے ایم یو  الیمنی ایسوسیشن کی صدر ڈاکٹر قدسیہ انجم علیگ نے کہا مُسلم معاشرے کے اندھیرے کو دور کرنے کے لیے سر سید نے ایک تحریک شروع کی ماڈرن تعلیم کی تحریک۔ یہ دن ایک عظیم شخصیت اور اس کے وزن اس کی لگن اور اس کی قربانیاں اور خدمات کے اعتراف کا دن ہے۔ یقیناً سر سید احمد خان نے ایک نباز کی طرح قوم کی بیمار نبض پر ہاتھ رکھا  سرسید نے خاموش قلمی و علمی جہاد چھیڑا کیونکہ اس میں ملی و ملکی مفاد مضمر تھاسر سید نے حالات کا رونا نہیں رویا بلکہ بہت حکمت عملی کے ساتھ دور اندیشی کے ساتھ اپنے مقصد میں لگے رہے۔ مدرسۃ العلوم کا  بیج لگایا محمڈن اینگلو اورینٹل کالج اس کا پودا بنا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک تناور درخت کی شکل میں موجود ہے انکو سچا خراج عقیدت یہ ہوگا کہ ہم سماج کے ہر بچے خصوصاً لڑکیوں کو پڑھانے کی ذمہ داری کو پورا کریں اور کوئی بچہ غریبی کی وجہ سے پڑھائی سے چھوٹ نہ جائے  کُچھ غریب لیکن محنتی بچّوں کی فیس ایسوسیشن نے دی ہے اور اس کے لئے ایجوکیشنل فنڈ بنایا گیا ہے نظامات کرتے ہوئے سیکریٹری صبوحی افتخار نے ایسوسیشن کے زریعے کیے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی جِس میں زکوٰۃ فنڈ سے بچّوں کو اسکالرشپ،ڈراپ آؤٹ بچّوں کے لیے کلاس ،غریب بچّوں کو اسٹیشنری  سویٹر موزے تقسیم شامل ہیں۔

اس موقع پر خلیق احمد، انوار احمد، کامران زبیری، نمرہ انس اِقبال، گلناز زبیری، شبانہ حنفی، حینا شاد کا خصوصی تعاون رہا۔ پروگرام میں شریک ہونے والوں میں سلیم رحمان، ڈاکٹر ایوب، عبداللہ مستجاب، ساجد حنفی، رحمان عزیز، راؤ محبوب، مجاز سراج، اوصاف گڈو، رونق علی ایڈووکیٹ، فرقان گل، غلام ربّانی، سمینہ شاہین ناہید ،ساجدہ اور بڑی تعداد میں علیگڑھ سے فارغ  لوگ موجود رہے   مہمانوں کو مومنٹو اور سپاس نامہ اور گفٹ پیش کیے گئے آخر میں یونیورسٹی ترانہ ‘یہ میرا چمن ہے میرا چمن، میں اپنے چمن کا بلبل ہوں’ اور قومی ترانہ ‘جن گن من’ پیش کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے