کتابیں انسان کی سب سے اچھی دوست تسلیم کی گئی ہیں۔ فرصت کے لمحات میں کتابوں سے بڑھ کر کوئی ساتھی نہیں۔ کتابوں کے توسط سے ہمیں بڑے بڑے اسکالرز اور دانشوران کے سنہرے اقوال اور قیمتی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ کتابوں کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا۔ کوئی الکٹرانک میڈیا کتابوں کی جگہ نہیں لے سکتی ہے۔ چھپی ہوئی کتابوں کی اپنی الگ قدروقیمت ہے۔ فی زمانہ کتابوں کی اہمیت وافادیت رہی ہے اور مستقبل میں بھی رہے گی۔
"A good book is the best of friends ,the same today and for ever”
Martin Tupper
آج کتابیں کھولنا، کتابیں مطالعہ کرنا، کمبل اور لحافوں کو اوڑھ کر کتابیں پڑھنا، کھلی چھت پر کتابی مطالعہ کا لطف اٹھانا، ان کے ساتھ خوبصورت لمحہ گزارنا کم وبیش خواب کی باتیں ہوگئی ہیں۔ کیا کہئے کہ زندگی تیز قدم سے چلنے لگی ہے۔ ہر ہاتھ میں الکٹرانک گیجٹس آگئے ہیں۔ گوگل، یوٹیوب، انسٹا گرام، لنکڈ ان، ای۔میل اور فیس بک وغیرہ موجود ہیں۔ آسانیاں ضرور ہیں مگر کتابوں کے معاملے میں صلاحیت اور معلومات زیادہ موثر نہیں، ہمیں کتابوں کی کہیں نہ کہیں پھر بھی ضرورت پڑے گی۔ بتادیں کہ کتابوں سے پڑھنے کا ایک الگ ہی مزہ ہے۔ تشفی اور سکون وطمانیت کا احساس نسبتاً زیادہ ہے۔
کتابوں سے کم ہوتی یا عدم دلچسپی پر مشہور شاعر گلزارؔ صاحب کی فکر مندی دیکھئے، وہ کہتے ہیں ’’کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے، بڑی حسرت سے تکتی ہیں، مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں، جو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیں اب اکثر گزر جاتی ہیں کمپیوٹر کے پردے پر‘‘۔ اس طرح گلزارؔ صاحب جو حقیقت پسند اور بڑے شاعر ہیں، انھیں بھی اس بات کا شدید احساس ہے کہ کمپیوٹر کتابوں کی جگہ لے رہا ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن ہرسو اپنے پاؤں پھیلائے ہوئے ہے۔ ٹھیلے پر سبزی سے لے کر ڈیری پروڈکٹس کے بوتھ اور آٹو۔رکشا پر سواری میں بھی ڈیجیٹل لین دین کیا جا رہا ہے۔ بہر حال، کسی بھی کلچر، ماحول اور سماج کو آگے کی جانب دیکھنا چاہئے تاکہ پرانی قدریں قائم بھی رہیں لیکن مستقبل کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔
٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے