محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک
جناب ریاض احمد خمارؔ نے اہل بیت اطہار سے متعلق کیا خوب کہاہے ؎
کیا ہوبیان ، عظمت واحسان ِ اہل ِ بیت
اللہ رے وہ جذبہ ء ایمان ِ اہل ِ بیت
تاریخ ہے گواہ ،رہ ِ حق میں ہوگئے
سردے کے سرفرازجوانانِ اہل ِ بیت
اہل بیت اطہار سے متعلق اس مضمون میں اشعار درج کئے گئے ہیںتاکہ بیک وقت اہل ِ بیت اطہار کے مقام ومرتبہ سے متعلق بذریعہ اشعار آگاہی ہوسکے۔ سچ تو یہ ہے کہ اہل ِ بیت اطہار پر نثر میں پڑھاجاناچاہیے لیکن ہم نے شعر جیسی صنف کو منتخب کیاہے۔ یہ اسلئے کیاہے کیوں کہ دیکھاجارہاہے کہ نثر کے مقابلے شعر میں یاروں کی دلچسپی زیادہ ہے۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اہل بیت اطہار میں حضرت علی ؓ ، بی بی فاطمہ ؓ اور امام حسن ؓ اورامام حسین ؓکواپنے ساتھ شامل رکھاہے۔اس سے متعلق گفتگو دینی حلقوں میں ہوچکی ہے ، ہورہی ہے اور آئندہ بھی ہوتی رہے گی۔ ہم یہاں ان ہی پانچ ہستیوں کے بارے میں آپ تک اشعار پہنچانے کی سعی کریں گے۔
پیغمبر آخر الزماں حضور نبی کریم ﷺ :۔
حضور اکرم ﷺ جیسی ہستی نہ پیدا ہوئی اور نہ ہوگی۔ اسی لئے ان کی بابت معروف شعراء نے بڑے اہم اشعار اور ان کی ہستی سے متعلق نکات پیش کئے ہیں لیکن ہم یہاں اس کے بجائے ایک اور تجربہ کرنے جارہے ہیںجس کے لئے اشعار کاانتخاب ایسے شعراء کے کلام سے کیاجارہاہے جنہیں دنیا بہت کم جانتی ہے۔ توقع ہے کہ اردو ادب کی بقااوراس کے نئے ابعاد کو سمجھنے کے لئے دئے گئے شعرا ء کے کلام کو پڑھاجائے گاجس سے شعراء کی حوصلہ افزائی بھی ہوگی۔ ملاحظہ کریں۔ یہ بات تو سبھی جانتے ہیں حضرت علامہ اقبال نے کہاتھا ؎
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
یہ تو عقیدت اور عقیدے کی بات ہوئی۔ ہم یہاں نبی کریم ﷺ کی ہستی سے متعلق اشعار پیش کرنا چاہیں گے ۔حفیظ میرٹھی نے ایک نعت میں کہا تھا ؎
ثبوتِ عظمت ِ انسانیت ہیں
محمد مصطفیٰ انسان ِ کامل
نہیں جن میں تمہار اعکس شامل
وہ نقشے ہیں مٹادینے کے قابل
ہزار آزادیوں سے لاکھ بہتر
تمہارے عشق کے طوق وسلاسل
فخرِ کرناٹک ، استاد الشعراء اور شاعر حیات جناب رشید احمد رشیدؔ کی نعت شریف کے چند اشعار ملاحظہ کیجئے گا ؎
جو دِل فدائے احمد ِ مرسل نہ ہوسکا
وہ بدنصیب صاحبِ منزل نہ ہوسکا
کیا شئے ہے جلوہ ٔ رخِ احمد خدا کی شان
سورچ چھپا تو چاند مقابل نہ ہوسکا
اس شان کا بشر کوئی آیا نہ آج تک
کوئی خدا کے راز کا حامل نہ ہوسکا
میں مانگ لوں خدا کو رسولِ کریم سے
مجھ سا رشیدؔ پھر کوئی سائل نہ ہوسکا
مرزاؔ چشتی صابری نظامی نے کہا ہے ؎
جب دیکھا انہیں دیکھا جز اُن کے نہیں دیکھا
وحدت کا نظارا ہے گلزارِ محمد ﷺ میں
ایک اور نعت میں وہ کہتے ہیں ؎
آقا کہاں اور بندہ ء عاصی کی بات کیا
رحمت ، کرم ، خطاپہ بھی آقاعطاکرے
عاشقانِ رسول اللہ کا یہ اعلان بھی حضرت مرزاؔ کے قلم سے سن لیں ، کہاہے ؎
کوئی ہوگا کسی کا کسی کے لیے
اپنی تو زندگی ہے نبی ؐ کے لیے
راحت قلب و جاں، آپ ﷺ ہی ہیں
میرا دیں میرا ایماں، آپ ﷺ ہی ہیں
جناب ِ میرؔ بیدری نے اپناکوئی تجربہ بیان کیاہے ؎
دیکھ آئی جب سے طیبہ کے نظاروں کو نظر
لوگ آئے میری نظروں کی زیارت کے لیے
اور یہ کہ ؎
آپ کے نام کی ہونٹوں پہ یوں گردان رہے
جس طرح جام پہ ایک پیاسے کاایمان رہے
محمد ظفراللہ خان کی تمنا ہے ؎
ہجوم ِ غم میں غموں کی ظفر ؔ دوارکھوں
تمہارے ساتھ رہوں تم کو مدعا رکھوں
ڈاکٹریاسین راہی واقعہ ء معراج کی وضاحت کچھ یوں کرتے ہیں ؎
اتنی ہے بس وضاحت ِ معراج آپ سا
اللہ کے قریب کوئی دوسرا نہیں
معجزہ شق القمر کے بارے میںڈاکٹر انجم شکیل احمد انجم ؔلکھتے ہیں ؎
تیرا اشارہ پاکر ٹکڑے قمر ہواتھا
ہاتھوں میں خود جہل کے کلمہ بلند ہواتھا
الحاج فضل الرحمن ہادی ؔ کہتے ہیں ؎
تھے بے مثال اسوۂ حسنہ رسولؐ کے
سب انبیاء کو آرزوئے پیروی ہوئی
امانت سے متعلق جو شعر جناب ہادی ؔ چشتی القادری افتخاری نے کہاہے وہ جانے کیوں دِل میں اُتر جاتاہے ؎
بے جان سمجھ کر مجھے ائے قبرنہ چھیڑ
اللہ کی ، محمد ﷺ کی امانت ہوں میں
جناب محمد کمال الدین شمیم ؔ کاکہناہے ؎
فاقے پہ فاقہ پیٹ پر پتھر بندھے ہوئے
مشہور ہے جہاں میں قناعت رسول ﷺ کی
سید حسین سیفی ؔسبحانی کہتے ہیں ؎
بے ادب کو پائے حضرت سے لپٹنے کا ہے شوق
دیکھئے دیوانہ پن میرے دلِ ہشیار کا
بے بدل صدق وصفا، بے مثل ہمت دیکھ کر
دن میں سو سووقت ایمان آپ ؐ پر لاتی ہے روح
حضرت سیفی ؔ کی یہ بات تو دل میں جاکر تیرہی ہوگئی ، محسن ِ انسانیت کے متعلق اللہ اللہ کتناپاکیزہ اور ایمان افروز خیال ہے ،سبحان اللہ ؎
میں کیوں نہ مدح ساقی کوثر کیاکروں
اللہ نے اسی لئے پیدا کیامجھے
جناب سخاوت علی سخاوت ؔ کے یہ دواشعار ملاحظہ کریں ؎
آمنہ کے بطن سے جو نکلی ضیا ہیں آپ ﷺ
دونوں جہاں تلک جلے ایسا دِ یا ہیں آپ ﷺ
آنکھوں میں بس گئی ہے شفاعت کی وہ جھلک
میدان ِ حشر میں سبھوں کاآسرا ہیں آپ ﷺ
ڈاکٹر انجم شکیل احمد انجم ؔ نے اپنی مناجات میں کچھ یوں دعا مانگی ہے ؎
اپنے محبوب ؐ کاحقدارِ شفاعت کرکے
ناؤ محشر میں مری پار لگادے یارب
حضرت علی کرم اللہ وجہہ :۔
جناب میرتقی میرؔ ایک جگہ خود کہتے ہیں کہ منقبت خوانی کے علاوہ میرے اندر اور کوئی گن یاخوبی نہیں ہے ؎
منقبت خوانی سے میری سب ہیں سن
اس سوا مجھ میں نہیں ہے کوئی گن
ساتھ سر کے ہے ’’علی گوئی‘‘ کی دھن
مدعی اس کان یا اس کان سُن
حیدری ہوں ، حیدری ہوں ، حیدری
جناب طفیل احمد مصباحی ’’میرتقی میر ؔ کی منقبت نگاری ‘‘مقالہ میںلکھتے ہیں۔’’کلیات میر‘‘ میں میرؔ نے نعت ومنقبت کا ایک مستقل باب ہی باندھا ہے۔ اور مسدّس کی شکل میں ایک نعتیہ کلام پیش کرنے کے بعد امیرالمومنین ، دامادِ مصطفی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی شان میں منقبت کے تقریباًساڑھے چار سو (450)اشعار اور سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی توصیف میں باون (52)اشعار کہے ہیں۔ دوبیتی اشعار کے علاوہ مسدّس اور مخمس منقبتی کلام کی ایک کثیرتعداد کلیات میں موجودہے۔ جس کی مجموعی تعداد ایک ہزار اشعار تک پہنچتی ہے۔ حضرت مولیٰ علی کی شان میں ساتویں منقبت ، مخمس (پانچ مصرعوں پر مشتمل) کے انداز میں ہے اور 19 بندوں (تقریباً57اشعار) پر مشتمل ہے۔ یہ منقبت عشق و عقیدت سے لبریز اور زبان وبیان کے لحاظ سے شہکار کادرجہ رکھتی ہے ؎
ہادی علی ، رفیق علی ، رہنما علی
یاورعلی ، ممدّ علی ، آشناعلی
مرشد علی ، کفیل علی ، پیشوا علی
مقصد علی ، مرادعلی ، مدّعا علی
جو کچھ کہو سو اپنے تو ہاں مرتضیٰ علی
نورِ یقیں علی سے ہمیں اقتباس ہے
ایمان کی علی کی ولاپر اساس ہے
یوم التّناد میں بھی علی ہی کی آس ہے
بے گاہ وگاہ ’’نادِ علی‘‘ اپنے پاس ہے
قبلہ علی ، امام علی ، مقتدا علی
اپنی بساط تو ہے علی ہے وہی علیم
کس طور جیتے رہتے جو ہوتانہ وہ کریم
دیکھیں ہیں اس کی اور جوہوتے ہیں ہم سقیم
یاں کا وہی ہے شافی وکافی وہی حکیم
عارض ہو، کوئی درد، ہمیں ہے دواعلی
یہ کس طرح سے راز کہوں میں زبان سے
حالات اس روش کے پرے ہیں بیان سے
یک شب نبی جو نکلے زمان ومکان سے
ذات مبارک آئی نظر اور شان سے
تھابزم لامکاں میں بھی رونق فزاعلی
اک شوق ہے علی کامرے قلب میں نہاں
شاید یہی نجات کا باعث بھی ہووہاں
اب زیر لب ہے زیست میں جو میرؔ ہر زماں
اس وقت میں کہ جان ہویک دم کی میہماں
امید ہے کہ یوں ہی لبوں پر ہویاعلی
جناب میرتقی میرؔنے حضرت علی ؓ سے متعلق کہے گئے ایک اور مخمس کے آخری بند میں لکھاہے ؎
نہیں مشتاق ہم کچھ مال کے اسباب کے زر کے
نہ اچھے فرش کے طالب نہ پاکیزہ کسو گھر کے
تجھے درویش سب کہتے ہیں لوگ ایدھر کے اودھر کے
ہماراحشر ہووے مرگئے پر ساتھ حیدر کے
یہی کہہ میرؔ تو بھی حق میں اپنے یہ دعا بس ہے
مخمس کی صورت تحریر کی گئی ایک اور مدح میں میرتقی میرؔ نے علم وفضل کے دریابہائے ہیں۔ ملاحظہ کریں آخری دوبند ؎
اس کی ہمت اسی کو بن آوے
دولت اس کی جہاں سب کھاوے
بار اس درپہ جو گدا پاوے
ایک آواز کرکے لے جاوے
مال واسباب وملک وتاج وکلہ
میرؔ عازم ہوئے ہو کیدھر کے
جوتلاشی ہو یار ویاور کے
رہ گرے دوستی حیدر کے
نہیں محتاج ہوتے رہبر کے
ہے اسی راہ میں خدا ہمرہ
حضرت علی ؓ سے متعلق میرتقی میرؔ کی درج ذیل منقبت فکر وادب کی نادر مثال ہے ؎
السّلام اے رازدار و داورِ جاں آفریں
السّلام اے دین ِ حق کے حاکم ِ مسند نشیں
یہ شرافت، یہ سیادت ، یہ تقدس ، یہ کمال
یہ تبحر، یہ ترفع ، یہ تفوق ہے کہیں
تو ولی ہے، تو جلی ہے ، تو علی ہے ، تو ہے وہ
جس سے بالاتر تصور کیجیے تو کچھ نہیں
کیا تعقل، کیا تحمل ، کیاتبحر ، کیا وقار
طفلِ مکتب درس گہ کا تیرے عقلِ اوّلیں
سیّدِ برحق، شریف النّفس ، فخر ِ روزگار
باعثِ عز و سپہر و موجب ِ وقرِ زمیں
پیشوائے پیشوایاں ، سجدہ گاہِ مومناں
زینت ِ بطحا ویثرب، رونقِ اسلام ودیں
مقصدِ دل آشنایاں ، مدعائے عاشقاں
آرزوئے اہلِ عرفاں، مطلبِ اہل یقیں
مظہرِ صد ہا عجائب ، مصدرِ لطف وکرم
زیبِ منبر ، جانشینِ رحمتہ للعالمیں
وارثِ دیں ، عارف وعادل ، شفیعِ روزِ حشر
حافظِ ناموسِ دیں وحامی ِ شرعِ متیں
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی مدح سرائی کرنے والے شعراء کی کمی نہیں ہے۔ ان ہی میں ایک نام میرؔبیدری کابھی ہے۔ انھوں نے اپنی عقیدت مندی کا اظہار اس طرح کیاہے ؎
دل کی کشتی نے دریا پارکیا
بن گیا ناخدا ، علیؓ کا نام
جیت خیبرمیں ملنے والی نہ تھی
معجزہ کرگیا ، علی ؓ کانام
ایک اور منقبت میں میرؔ بیدری نے کچھ اس اندازسے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی منقبت کہہ کر سرفراز ہوئے ہیں ؎
تاحشر دیکھئے گا ، زمانہ علی ؓ کا ہے
کیسے نہ پھر کہوں کہ سہارا علی ؓ کا ہے
لیکن حواس باختہ ہیں آسماں زمیں
کربل میں جوکھڑا ہے گھرانہ علی ؓ کا ہے
رومی ؔنے کہہ دیاتھا ، وہی بات ہوگی سچ
اسلام کی صدامیں بلاو ا علی ؓ کا ہے
حضرت بی بی فاطمہ زہرا ؓ :۔
رسولِ کائنات حضرت محمد ﷺ کی لخت جگر نورنظر حضرت بی بی فاطمہ زہرا ؓ کی منقبت سینکڑوں شعراء نے لکھی ہے۔ لیکن ایسے شعراء کی تعداد زیادہ ہے جو اہل ِ سلسلہ ہیں یاپھر اہل تشیع سے جن کا تعلق ہے۔ اہل سنن میں بہت کم شعراء نے بی بی فاطمہ ؓ کی منقبت کہی ہے۔ ایک آدھ شعر کہنا علیحدہ بات ہے۔ علامہ محمد اقبال نے ثنائے فاطمہ زہراؓ کچھ اس طرح کی ہے۔ فارسی کلام ہے ، ملاحظہ کریں
مریم ازیک نسبت عیسی عزیز
ازسہ نسبت حضرت زہرا عزیز
نورچشم رحمت للعالمین
آن امام اولین وآخرین
بانوی آن تاجدار ھل اتی
مرتضی مشکل کشا شیر خدا
درنوای زندگی سوز از حسین
اہل حق حریت آموز از حسین
مزرع تسلیم را حاصل بتول
مادران را اسوہ کامل بتول
فارسی کلام کے چند ہی اشعار درج بالا مذکور ہیں ۔ اس نظم کاپور اخیال کچھ اس طرح ہے (اردوترجمہ ):۔حضرت مریم تو حضرت عیسیٰ ؑ سے نسبت کی بناپر عزیز ہیں جب کہ حضرت فاطمہ زہرا ایسی تین نسبتوں سے عزیز ہیں۔ پہلی نسبت یہ کہ آپ رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نورِ نظر ہیں۔ جو پہلوں اور آخروں کے امام ہیں۔ دوسری نسبت یہ کہ آپ ’’ہل اتی‘‘ کے تاجدار کی حرم ہیں۔ جواللہ کے شیر ہیں۔ اور مشکلیں آسان کردیتے ہیں۔ تیسری نسبت یہ کہ آپ ان کی ماں ہیں جن میں سے ایک عشقِ حق کی پرکار کے مرکز بنے اور دورے عشق حق کے قافلے کے سالار بنے ۔ حضرت فاطمہ تسلیم کی کھیتی کاحاصل تھیں اور آپ مسلمان ماؤں کیلئے کامل اسوہ بن گئیں۔ اللہ تعالیٰ کے قانون کی ڈوری نے میرے پاؤں باندھ رکھے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کاپاس مجھے روک رہاہے ، ورنہ میں حضرت فاطمہ ؓکے مزار کاطواف کرتااور اس مقام پر سجدہ ریز ہوتا۔ مرزا سلامت علی دبیر نے بی بی فاطمہ زہرا کاجوطویل مرثیہ کہاہے ، اس میں سے یہاں وہ حصہ درج کیاجارہاہے جو والد ِ محترم حضور اکرم ﷺ کو یاد کرنے سے متعلق ہے جس کو شاعر نے اپنے جادونگار قلم سے رقم کیاہے ؎
پروانہ فاقہ کی نہ شکایت جفا کی ہے
ایذا فقط جدائی خیرالوریٰ کی ہے
آب و غذا کی فکرنہ سونے کادھیان ہے
آنکھوں میں شکل باپ کی رونے کادھیان ہے
آگے بزبان فاطمہ زہرا ؓ لکھاہے ؎
پھرتے تھے جب سفر سے مرے پاس آتے تھے
لونڈی سے بے ملے کبھی باہرنہ جاتے تھے
فاقہ مرا جوسنتے تھے کھانا نہ کھاتے تھے
جوجو میں ناز کرتی تھی حضرت اٹھاتے تھے
کیسی حقیر بعد رسول کریم ہوں
دریتیم آگے تھی اب تو یتیم ہوں
پیر خضر چشتی نے حضرت فاطمہ کے بارے میں کہاہے ؎
عرش وکرسی چاند تارے وجد میں سب آگئے
یوں جھکا خالق کے آگے ، سر بتول ِ پاک کا
چارسوپھیلی ہوئی ہے روشنی ہی روشنی
فیض ہے دنیامیں جلوہ گر، بتولِ پاک ؓ کا
مولانا وسیم اصغر نے اپنی تخلیق ’’یافاطمہ زہراسلام اللہ علیہا‘‘ میں لکھاہے ؎
باباتمہارے احمد مختار ہیں بی بی
بیٹے جناں کے سیدوسردار ہیں بی بی
بے شک وہ جنتی ہیں وہ لاریب جنتی
تیرے پسر کے جو بھی عزادار ہیں بی بی
ایک شاعر شرفؔ بلرام پوری کا کتنا خوب خیال ہے ؎
کہتے ہیں الفاظ صف بستہ کھڑے افکار میں
ہم کو مصرعوںمیں سجالیجے برائے فاطمہ
عباس تابش نے ایک اچھاسوال اٹھایاہے، جس کو فرض کہہ کر مبالغہ سے کام لیاگیاہے تاہم یہ مطلع پڑھنے لائق ضرور ہے ؎
جہاں نبوت پہ فرض ہو احترام ِ زہرا ؓ
وہاں بھی کوئی اگر نہ سمجھے مقام زہراؓ
غیورزیدی کے چند اشعار ملاحظہ کریں ؎
کیاتاب ، کیا مجال کوئی ہمسری کرے
قرآن میں جو خوبیاں ان کی بیاں ہوئیں
مولاعلی کو ناز کہ زوجہ ہیں ان کی وہ
حسنین ؓ کو ہے فخر کہ وہ ان کی ماں ہوئیں
وہ ہستیاں جو گود میں زہر ا کے پل گئیں
دین ِ مبین ِ حق کی وہی پاسباں ہوئیں
حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔
امام حسن رضی اللہ عنہ کی بابت بہت کم منقبتیں رقم کی گئی ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ حضرت امام حسین ؓ کی شہادت سے دنیا کی نظریں ہٹی نہیں ہیں۔بڑے بڑے شعراء نے بھی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی سیرت پرکلام بہت کم منظوم کیاہے۔ فی الحال چند اشعار پیش کئے جاتے ہیں۔ جناب احسن شکارپوری کی ایک منقبت کے چند اشعار ملاحظہ کریں ؎
تخلیق جس کی باعثِ صد افتخار ہے
ہاں وہ حسن ؓ ہی حُسن کا اک شاہکار ہے
زندہ کیا ہے نا نا کی سنت کو مرحبا
صلحِ حسن ؓمیں پنہاں نبیؐ کا وقار ہے
نا نا رسولؐ، با با ہیں مولائے کائنات
اور خود ازل سے خلد کا وہ شہر یار ہے
جناب ارشد شرفی کاتعلق حیدرآباد دکن سے ہے۔ اگرانہیں باطہارت شاعرکہیںتو غلط نہ ہوگا۔ دنیا اپنی فکر میں غلطاں وپیچاں ہے اور وہ ہیں کہ اہل بیت اطہار کی فضیلت کو جاننے ، سمجھنے اور اس کو عام کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ پر ان کاکلام ملاحظہ کیجئے ؎
آنکھوں میں نور ، دِ ل میں اجالا حسن ؓ کا ہے
آٹھوں پہرزبان پہ ترانہ حسن ؓ کاہے
تسبیح ان کے نام کی کرتی ہیں دھڑکنیں
سانسوں کی خانقاہوں میں شہرہ حسن ؓ کا ہے
دیدار ان کاکرتاہوں میں حسبِ آرزو
صدشکر دِل میں آئینہ خانہ حسن ؓ کا ہے
اس شعر میں بھی شاعر نے حق بیانی سے کام لیاہے ، ملاحظہ کیجئے گا ؎
اس راستے پہ جو بھی چلاحق کو پالیا
رستہ ہے جو نبی کا وہ رستہ حسن ؓ کا ہے
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔
حضرت امام حسین ؓ کی شان میں لاکھوں کروڑوں مرثیے اور منقبتیں لکھی گئی ہیں۔کس کس مرثیہ یا منقبت کاذکر کیاجائے اسکے لئے تو انسائیکلو پیڈیا کی ضرورت ہوگی ۔ اس کے باوجود بھی تشنگی باقی رہنالازمی ہے۔ ہم یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتے کہ سمند ر کوکوزے میں بندکرنے کی سعی کررہے ہیں۔ ایسا ہونہیں سکتاکہ جس داستاں کوقیامت تک باقی رہناہے اس کوکوزے میں بند کرنے کی حماقت کی جائے۔ اس داستانِ حق کو تاقیامت جاری رہناہے۔ سننے والے اسے سنتے رہیں گے ؎
کان اپنے ہیں تو خدا کے لئے
سن بھی لیں گے صدا حسین ؓ کی ہم
اور عمل کے میدان کے شہید اس داستان پر عمل کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرتے رہیں گے۔ کرناٹک کے شاعر جناب میرؔبیدری نے امام حسین ؓ کی شہادت پر لکھاہے ؎
حسین ابن علی ؓ جامِ شہادت پی گئے میرؔ
زمانے نے کہامیرے مقدر کی شہادت
اسی منقبت کا مطلع اپنے اندراک علامت لئے ہوئے ہے ، میرؔبیدری کہتے ہیں ؎
نبی ﷺ نے جس کو چوما تھا، اسی سر کی شہادت
نہیں بیعت ہوا ایسے پیمبر کی شہادت
بنگلور (کرناٹک) ہی کے ایک معروف استاد شاعر جناب ریاض احمد خمارؔ نے کربلا کی جو منظر کشی کی ہے وہ کچھ یوں ہے ؎
ہرایک ہاتھ میں خنجر دکھائی دیتاہے
لہولہان مقدر دِ کھائی دیتاہے
اُدھر یزید کا لشکر ہے اور اس جانب
اکیلا سبط پیمبر دکھائی دیتاہے
کرناٹک کے ایک اور شاعر ڈاکٹر یاسین راہی ؔ کی ایک نعت میں منقبت کا شعرنکل آیا ہے ؎
ناناکے دین کے لئے کربل میں شان سے
جس نے کٹایا سر وہ نواسہ نبی کا ہے
اترپردیش سے تعلق رکھنے والے سرفراز حسین فراز ؔنے کہاہے ؎
انسانیت حسینؓ کی عالم پہ چھاگئی
راہ ِ نجات کیا ہے سبھی کو بتاگئی
ریاست تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے شاعر جناب نادراسلوبی نے لکھاہے اور خوب لکھاہے ؎
راہِ حق میں سرکٹاکر قافلہ خاموش ہے
خاک اُڑا کے سرپہ اپنے کربلاخاموش ہے
کوفیوں نے اصغر ِ معصوم ؓ کی تک جان لی
تیر کھاکر حلق پر ننھا دِیا خاموش ہے
کرناٹک سے تعلق رکھنے والے سابق رکن اسمبلی اور سابق ایم ایل سی مرحوم محسن کمال نے اپنی ایک نظم ’’مردِ حق آگاہ‘‘کوغزل کے فارم میںکہاہے ، جس کامقطع اس طرح ہے ؎
محسنؔ کو کہاں تابِ تکلم تیری نسبت
اِ ک گہری عقیدت ہے جو سینے میں بھری ہے
جناب ریاض انور بلڈانوی تقدیسی شاعری کرنے والی سنہری کڑی کے نمایاں شعراء میں سے ہیں۔مہاراشٹر سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے حضرت امام حسین ؓ سے متعلق کہاہے ؎
فروغ پاتی برائی ، عروج شرپاتا
اگر جو آپ کٹاتے نہ سر، امام حسین ؓ
کرناٹک کے ایک اورجواں سال شاعر جناب مسرورؔ نظامی لیکچرر نے کہاہے ؎
کرکے وضو لہوسے ادا کی نمازِ عشق
لوح ِ زمیں پہ ثبت عبادت حسین ؓ کی
شعراء نے اہل بیت اطہار کی فضیلت اور ان کے مقام کو طرح طرح سے اپنے کلام میں نظم کیاہے۔ جس کی بابت آئندہ کے کسی مضمون میں گفتگو عین ممکن ہے۔مرزاؔچشتی صابری نظامی کے اس شعر پر مضمون کو ختم کیاجاتاہے جو نبی کریم ﷺ کے دیدار سے متعلق ہے ، وہ کہتے ہیں ؎
واللہ جوتمہیں ؐ دیکھا جز حق کے نہیں دیکھا
دیدار کراجانا صدقے میں نواسوں کے
اُردو زبان کے نہ جانے کتنے شعراء ابھی بھی حیات ہیں، جنہوںنے اہل بیت اطہارکی سیرتوں پرمنقبتیں لکھ لکھ کر اپنی آخرت کاسامان کیاہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام کی کاوشوں کوشرف ِ قبولیت سے نوازتے ہوئے اہل بیت اطہار سے ان کی عقیدتوں اور محبتوں میں اضافہ فرمائے۔ان کامزید کلام پڑھنے کوملے اور چراغ سے چراغ ضیاء پاتے رہیں تاکہ ان پاکیزہ نفوس کی زندگیوں سے قیامت تک انسانیت آگاہ اور فیض یاب ہوتی رہے۔ آمین ثم آمین۔
