ابو احمد مہراج گنج
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں ماہ محرم الحرام اسلامی کلینڈر کا پہلا اور مبارک مہینہ ہے ۔اس مہینے کی افضلیت اور خصوصی اہمیت شریعت محمدی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پہلے سے ہے ،اور شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی فضیلت اور دیگر مہینوں پر اسکی عظمت پر مہر تصدیق ثبت کر دیا ہے ۔
اس مہینہ کی اہمیت اور فضیلت کو شہادت حسین رضی اللہ عنہ سے جوڑکر دیکھنا اور سمجھنا غلواور اوہام میں سے ہے۔ہاں اتنا سمجھا جاسکتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس مبارک مہینے میں شہادت کا رتبہ اعلا ملنا ان کے مقام کو اور برتر بنا دیتا ہے ۔اور جہاں تک یہ بات ہے کہ
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
یہ سب شاعرانہ تخیل ہے عقائد و مسائل سے اس کا کو ئی ربط نہیں ہے۔
متحدہ ہندوستان اور موجودہ بھارت میں محرم الحرام کے موقع پر بہت سارے کھیل ،تماشے ،کرتب ،اور شعبدے بازی دیکھنے کو ملتی ہیں ،اور آج کل کے اس مسموم ماحول میں بھی حکومت کی طرف سے ان پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے ۔یہ بڑے اطمینان کی بات ہے ۔
لیکن ہم سارے مسالک کے علماء ،واعظین ،اور سربر آوردہ شخصیات اس غنیمت موقع کے کارآمد استعمال سے یکسر آنکھ بند کئے ہوئے ہیں ۔اور عقائد ،فضائل،اور مسائل پر سارا زور صرف کرنے میں لگے ہیں ۔
آپ سوچ رہے ہوں گے "اس غنیمت موقع کا کارآمد استعمال” یہ کیا معمہ ہے؟۔ بات یہ ہے کہ اگر ہم سنجیدگی سے غور کریں تو ہمیں سمجھ میں آ جائے کہ کرتب ،تماشہ اور شعبدے بازی کی تربیت کو اگرجدید طرز پر وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ مارشل آرٹ۔جوڈو،کراٹے میں تبدیل کرتے ہوۓ،پروفیشنل گائیڈ اور جدید آلات ضرب وحرب کے استعمال کی تربیت پرتوجہ کیا جانے تو اس کا خاطر خواہ فائدہ حاصل ہوگا۔ہر گاؤں محلہ میں دو، چار ،دس نوجوان مضبوط جسم اور عمدہ نشانے باز۔لاٹھی اور ڈنڈوں سے دفاع کے ماہر ،قابل تلوار باز اور سیفٹی مینیجمینٹ اور ریسکیو آپریشن کے جانکار بن کر اپنی قوم اور سماج کے بہت کام آسکتے ہیں ۔اور بوقت ضرورت ہم مضبوط دفاعی پوزیشن حاصل کرنے بھی میں کامیاب ہو سکتے ہیں ۔
ضرورت ہے کہ اس ضرورت کو محسوس کیا جاۓ اور سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کرکے کوئی لائحہ عمل تیار کیا جائے ابھی وقت اور ماحول ہماری گرفت سے باہر نہیں نکلا ہے ۔لیکن کب کس وقت یہ آزادی بھی سلب کر لی جائے اس کا کوئی اندازہ نہیں ہے ۔
جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہو
نہیں جس قوم کو پرواۓ نشیمن تم ہو
بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہو
بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو
ہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہے
تم مسلماں ہو یہ اندازِ مسلمانی ہے؟
