دین اسلام کی سربلندی کیلئے اہل ایمان کی زندگیاں اپنا سب کچھ لٹانے کے جذبہ کے ساتھ وقف رہنی چاہئے

شہادت حضرت امام حسین ؓ پر شہر رائچور میں خصوصی پروگرام

رائچور: ماہ محرم الحرام کی مناسبت سے شہادت حضرت امام حسینؓ پر انسٹی ٹیوٹ آف ٹریننگ فار قرآنک ایپلیکیشنز (اتقان) کی جانب سے خصوصی پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔ شہر رائچور کے مولوی عبد القدوس کانفرنس ہال ‘ بیرون قلعہ میں منعقدہ اجلاس کا آغاز حافظ محمد اویس انجینئر کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ محمد نوید صاحب نے نعت سرور کونینﷺپیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ سید نذیر احمد قادری صاحب نے منقبت حسینؓسے متعلق امام احمد رضا خان  ؒاور مولانا محمد علی جوہر ؒکے منتخب اشعارسے سامعین کو محظوظ کیا۔ افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے محمد حامد علی آصف صاحب نے شہادت امام حسینؓ پر مختصر روشنی ڈالتے ہوئے شرکاء کا استقبال کیا اور پروگرام کی غرض و غایت واضح کی۔ مولانا محمد خواجہ شاکر صاحب خطیب و امام مسجد إمام الانبیاءنے خلفائے راشدین کے دور خلافت اور ان کی شہادتوں کا اجمالی ذکر کرتے ہوئے دین اسلام کی احیاء و سربلندی کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کی درخشاں روایات کا بڑے دلنشین انداز سے ذکر کیا۔جن حالات میں سیدنا  امام حسینؓ کیشہادت ہوئی ان کے ابتدائی محرکات کا حوالہ دیتے ہوئے حضرت امیر معاویہؓ کے دور خلافت اور یزید کی ولی عہدی کے اعلان کا پس منظربیان کیا۔ اور بتایا کہ ہمیں حضرات صحابہ کرام ؓکی تعظیم و توقیر کرنی چاہئے اور ان کے جذبہ احیائے دین کی روح کو سمجھتے ہوئے اپنے اندر بھی ان کے جیسا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ شہادت امام حسینؓ سے متعلق کہا کہ دین اسلام کی حفاظت کی خاطر‘اسلامی تاریخ کی یہ ایک بڑی منفرد مثال ہے۔ رسول اکرمﷺ کے بعد خلفائے راشدین نے جس دین اسلام کی ترویج و اشاعت کی کوشش کی‘ اس کو پوری آب وتاب کے ساتھ جاری و ساری رکھنے کے لئے  یہ ضروری تھا کہ یزید کی ولی عہدی کی سخت ترین مخالفت کی جائے اور اسکو پوری قوت کے ساتھ مٹادیا جائے۔ امام حسینؓ نے اس ضمن میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ ایک بڑی فوج سے مقابلہ کیا لیکن باطل طریقے کو قبول نہیں کیا ۔

اس اجلاس کا اختتامی خطاب ادا کرتے ہوئے محمد عبد اللہ جاوید صاحب نے شہادت امام حسینؓ کا پس منظر بیان کیا اور اس کے حقیقی پیغام کی طرف سامعین کی توجہ مبذول کروائی۔آپ نے کہا کہ حضرت امیر معاویہ ؓ کے دور خلافت میں یزیدکی ولی عہدی کا اعلان دراصل  خلافت سے ملوکیت کیجانب ایکانتہائی مہلک اقدام تھا ۔ حضرت امام حسین ؓ نے ملوکیت کے خلاف آواز بلند کی۔اس کے ذریعہ  دین اسلام میں آرہے انتہائی خطرناک رجحانات کا رخ بدلنےکے لئے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی جان تک لڑا دی تاکہ خدا کی زمین پر خدا کا قانون چلے اور خدا کے بندے صرف اسی کے غلام رہیں کسی بادشادہ کے نہیں۔ حضرت امام حسینؓ اور آپؓ کے اہل وعیال کی شہادت کا یہ حیات آفرین پیغام ہے کہ دین اسلام کی سربلندی اور احیاء کے لئے اہل ایمان کی زندگیاں اپنا سب کچھ لٹا دینے کے جذبہ کے ساتھ وقف رہنی چاہئے۔ اللہ کی دین کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ ہی اس کی راہ میں  جان کا نذرانہ پیش کرنے کی فکر کو فروغ دے سکتا ہے ۔ آج کے حالات میں دین اسلام کی حفاظت‘ اس کے احیاء اور سربلندی کے لئے ہما ری زندگیاں جذبہ شہادت سے سرشار رہنی  چاہئے۔دراصل جذبہ شہادت  یکلخت پیدا  ہونے والا کوئی ہنگامی جذبہ نہیں ہوتا بلکہ یہ مومنانہ زندگی کا حاصل اور اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کرتے ہوئے گزاری گئی زندگی کا شاندار اختتامیہ  ہے۔

اجلاس کے آخر میں ڈاکٹر محمد کلیم صدیقی صاحب نے  کلمات  تشکر ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور سامعین کی کثیر تعداد میں شرکت کو دین اسلام سے وابستگی کا مظہر قرار دیا اور کہا کہ اسلام سے والہانہ وابستگی کا جذبہ نوجوانوں میں پیدا کرنا چاہئے تاکہ دین کے مطابق ہماری انفرادی واجتماعی زندگیاں گزریں اور شہر  میں ایک دینی ماحول فروغ پائے ۔موصوف نے محلہ واری سطح پر اس طرح کے بیداری ٔ شعور پروگرام کے انعقاد پر زور دیا۔سید آصف محی الدین صاحب نے نظامت کے فرائض انجام دیئے اور اتقان کی سرگرمیوں کا تعارف کراتے ہوئے شہر کے مختلف مقامات پر مرد و خواتین اور بچوں کے ہورہے اجتماعات کی تفصیلات پیش کیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے