مولانا ڈاکٹر محمد فرمان ندوی
استاد دارالعلوم ندوۃالعلماء لکھنؤ
محرم الحرام ہجری تقویم ( جنتری ) کا پہلا مہینہ ہے ، ہجری جنتری محرم سے شروع ہوتی ہے، مسند ِ حاکم میں سعید بن مسیب سے نقل کیا گیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں ہجری سال کی تعیین کی ، انہیں کے زمانے میں ایک چیک آیا ، جس میں صرف شعبان لکھا ہوا تھا ، اس پر سوال پیدا ہوا کہ کون سا شعبان مراد ہے ؟ اِس سال کا یا سالِ گذشتہ کا، پھر اہلِ شوریٰ بلائے گئے ، مشورہ ہوا، کسی نے کہا: بعثت نبوی کو سال کا آغاز مانا جائے، کسی نے کہا: ولادتِ نبوی کو ، اور کسی نے ہجرتِ نبوی کو ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہجرتِ نبوی کی رائے دی ، اور اس کو قبول کیا گیا ۔
پھر مہینہ کی بات آئی، کس کو ہجری سال کا پہلا مہینہ شمار کیا جائے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ محرم ہی کو پہلا مہینہ شمار کیا جائے، کیونکہ وہ محترم مہینہ ہے ، اور لوگ بھی اس میں حج سے لوٹتے ہیں ۔
امام ابن حجر عسقلانیؒ فتح الباری میں فرماتے ہیں: سنہ کی تعیین کے سلسلہ میں چار نکات سامنے آئے : ولادت ، بعثت، ہجرت، وفات، ان میں ہجرت کو اہمیت دی گئی ، کیونکہ ولادت اور بعثت کی تعیین میں نزاع اور اختلاف تھا، اور وفات کا وقت طے کرنے سے افسوس و حسرت کی ابتداء ہورہی تھی، اس لئے ہجرت کو موضوع بنایا گیا، اب سوال یہ پیدا ہوا کہ ہجرت تو صفر کے اخیر سے ربیع الاوّل کے نصف اول تک مکمل ہوئی ہے، اس لئے ہجری سال کا آغاز ربیع الاوّل سے ہونا چاہیے، لیکن ربیع الاوّل کے بجائے محرم کے ذریعہ سے مہینہ کاآغاز اس لئے ہوا کہ ذی الحجہ میں بیعتِ عقبہ ہوئی ، اس کے بعدجو چاند طلوع ہوا ، وہ محرم کا تھا ، اور نبی پاک ﷺ نے محرم ہی میں ہجرت کا عزم کیا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے ہر گھر اور دَر تک اسلام کا پیغام پہونچا چکے، اور مکہ کے گرد و پیش میں بھی اس دعوت حق کی دستک دی تو ہر طرف آپ کی صدا رد کی گئی ، طنز و تشنیع کے تیر پھینکے گئے ، ناامیدی اور انکار کی اس گھنگھور گھٹا میں روشنی کا صرف ایک چراغ تھا ، جو مدینہ کی سرزمین میں جلا تھا، اس لئے وہاں ہجرت کی ، جب کسی قوم پر دعوت ِ دین کا حق ادا کردیا جائے ، اور ان پر حجت پوری کی جائے ، تو اپنے دین کی حفاظت اور دوسری قوموں تک دعوت ِ دین کی غرض سے وطن ِعزیز کو چھوڑنا ہجرت ہے ۔ تلاش ِ معاش اور امن و امان کی طلب میں ترک ِ وطن کرنا ہجرت نہیں ہے ،جیسا کہ آج کل سمجھا جاتا ہے ۔
نبوت کے چودھویں سال آپؐ کو ہجرت کی اجازت ملی، آپؐ نے ہجرت کا ارادہ فرمالیا، اس کی اطلاع صرف حضرت علیؓ ، حضرت ابوبکرؓ ، حضرت اسماءؓ اور حضرت عائشہؓ کو تھی۔
اس سے معلوم ہوا کہ نازک فیصلوں کے اظہار میں احتیاط اور پردہ دری ضروری ہے ، افسوس کہ آج امت میں اس کا فقدان ہے ، ہم اغیار کے لئے اشتعال انگیز سرخیوں کے ذریعہ سے گرما گرم مواد فراہم کردیتے ہیں ، یہ جرأت نہیں ، بے وقوفی ہے ۔
اہلِ مکہ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ محمدؐ ہجرت کرنے والے ہیں، اگر آپؐ مدینہ چلے گئے توپھر اسلام کو مٹانا مشکل ہوگا، چنانچہ شب میں آپ ؐ کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا ، ایسی حالت میں آپؐ کے پاس اہلِ مکہ کی کچھ امانتیں تھیں، آپؐ نے یہ امانتیں حضرت علیؓ کو سپرد کیں ، اور ان سے خواہش کی کہ آج کی شب آپ ؐ کی استراحت گاہ پر وہ چادر اوڑ ھ کر آرام کریں ۔
اس میں دو باتیں ہیں: ایک یہ ہے کہ امانت و دیانت کا بڑا سبق ہے ، دوسرے یہ ہے کہ حضرت علیؓ کو معلوم تھا کہ یہ بستر بستر ِ مرگ ہے ، لیکن بسر و چشم اس خطرہ کو مول لینا قبول کرلیا۔
حضر ت ابوبکرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، اس درمیان بے مثال قربانیا ں دیں ، گھر میں جو کچھ تھا سب لے لیا ،( پانچ ہزار درہم ساتھ لیا )، ان کے والد حضرت ابوقحافہؓ بہت سن رسیدہ اور نابینا تھے ، انہوں نے کہا کہ ابوبکر نے کچھ نہیں چھوڑا ؟ تو حضرت اسماءؓ اور حضرت عائشہؓ نے گھر کے ایک کونے میں مٹی اور پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے دئیے، اور جہاں حضرت ابوبکر ؓ دینار و درہم رکھتے تھے ، اپنے دادا کی طمانیتِ قلب کے لئے اس کو دکھایا۔
اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو اپنے بچوں کی ایسی تربیت کرنی چاہیے کہ دین کے لئے پیش آنے والے سرد و گرم حالات میںوالدین کا ساتھ دے سکیں ۔
جب آپ ﷺ غار میں پہونچے تو آگے بڑھ کر حضرت ابوبکر ؓ نے غار صاف کیا ، اور بعض روایات کے مطابق ایک سوراخ سے جو کہ بند ہونے سے باقی رہ گیا تھا سانپ نے آپؓ کو ڈس لیا ، اس سے معلوم ہوا کہ ہم کو بڑوں کی خدمت میں دلچسپی لینا چاہیئے ، اگرچہ اس میں ذاتی نقصان ہو، اس کے اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں ۔
تین دن کے بعد غار سے غیر معروف راستہ سے نکلے، چونکہ حضرت ابوبکرؓ تاجر تھے، لوگ ان کو جانتے تھے ، پوچھتے تھے کہ یہ کون ہیں : دَلِیْلٌ یَدُلُّنِی (راہبر ہیں ، جو ہمیں راستہ بتارہا ہے)، لیکن حضرت ابوبکرؓ کا منشا یہ تھا کہ یہ ہمارے روحانی راہبر ہیں، اس سے پتہ چلا کہ مومن کومعاملہ فہم ، خطرات کے بارے میں محتاط اور امکانی اندیشوں سے چوکنا رہنا چاہیے، اور ایسی بات کہنی چاہیے کہ جو حقیقت کے مطابق ہو ، اور آزمائش کا سبب نہ بنے
جب آپؐ مدینہ پہونچے، تو مدینہ کی زمین آپ کے لئے چشم براہ تھی، بچے خوشیوں کے نغمے اور ترانے گارہے تھے :
طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا
مِنْ ثَنِیَّاتِ الْوَدَاعِ
وَجَبَ الشُّکْرُ عَلَیْنَا
مَا دَعَا لِلّٰہِ دَاعِ
أَیُّھَا الْمَبْعُوْثُ فِیْنَا
جِئْتَ بِالْأَمْرِ الْمُطَاعِ
یہ منظر بڑوں کے استقبال اور خیرمقدم کا درس دیتا ہے۔
یہ چند باتیں تھیں، جو ہجری کلینڈر اور ہجرت کے واقعہ سے متعلق تھیں، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو ان پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

