ابو احمد مہراج گنج 

گزشتہ دو دنوں میں دو ایسے واقعات رونما ہوئے جو بھارت کے مسلمانوں کی بے چینی اور اضطراب میں اضافہ کا باعث بن رہے ہیں ،بھارتیہ مسلمان عجیب سی ذہنی دباؤ اور سماجی رابطے میں آرہی درار سے سہم سا گیا ہے ۔

ممبئی میں ہوۓ قتل کے واقعے میں دو چیز بڑی کامن ہیں ،پہلی بات تو یہ کہ یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ ،یہ اس زہر کا ایکشن ہے جو خبریہ ٹی وی چینل اپنے سامعین کے دماغ میں آٹھ دس سال سے انجیکٹ کررہے ہیں ۔اب وہ زہر اندر پیوست ہوچکا ہےتو باہر أنے کے راستے تلاش کر باہر آنے یعنی ری ایکٹ کرنے کو بے تاب ہے ۔اس جرم کو دلالوں کی ٹیم نے ہلکا بنانے کی غرض سے چیتن سنگھ کو دماغی توازن خراب ہے کہہ کر بچانے اور اس کے اس کے بڑےجرم کو کمتر بنانے کی جہت میں شور کرنا شروع کردیا ہے۔لیکن ان دلالوں اور دیوثوں سے کچھ سوال بنتے ہیں جس کا سمجھنا فائدے سے خالی نہیں ہے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر چیتن سنگھ کا دماغی توازن خراب تھا تو اس کو ڈیوٹی پر کیوں مامور کیا گیا تھا ۔دوسرے اگر مان لیں کہ واقعی میں وہ بیمار ہے تو اس نے اپنے سینئر آفیسر کو جب گولی ماری تو أس پاس کے اور لوگ کیسے بچ گئے ۔پھر اس ڈبے سے آگے تیسرے ڈبے میں جاکر اسلامی شناخت رکھنے والے افراد کو شکار بناتا ہے ۔اور پھر اگلے ڈبے میں اس شناخت کی تلاش میں نکل کر قتل کرتا ہے ۔یہ کونسا پاگل ہے ؟ کس قسم کا پاگل ہے ؟جو سامنے موجود تین ڈبوں میں سے تین ڈاڑھی والے کو ہی مارتا ہے ۔نیز اس خراب دماغ کے شخص کو معلوم ہےایمرجنسی الارم یعنی چین پولنگ جس کا بروقت استعمال کرکے وہ بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔اور اپنے آقاؤں کے نام بھی گنواتے جاتا ہے ۔

دوسری جانب یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہماری لگنڑی لولی قیادت ،ہماری قیادت ہے وہ تو کچھ سگبگاہٹ دکھارہی ہے۔لیکن سیکولرزم کے نام پر ہم کو پچھتر سال سے ٹوپی پہنارہے لوگ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور ہماری تباہیوں کے نام پر ہم سے ہمدردی دکھانے کے وقت کا انتظار کر رہے ہیں ۔

میوات کے نوح میں جس سوچی سمجھی شازش کے تحت ماقبل میں وارننگ دےکر دنگا بھڑکایاگیا ہے وہ حفاظتی ایجینسیوں کی ناکامی یا چشم پوشی ہے۔کچھ غنڈے موالی وارننگ دیتے ہیں کہ ہم اسی راستے سے آیئں گے جو ہوگا دیکھا جائے گا لیکن اس وارننگ کو نوٹس میں لینے کے بجائے اگنور کیا جاتا ہے اور ماحول کو خراب کرنے کا موقع فراہم کیا جاتاہے ۔اور پھر اس ایکشن کے ری ایکشن کے طور پر غنڈے موالی اور بلوائی گڑگاوں میں مسجدپر دہشت گردانہ حملہ کرکے امام کو شہید کر دیتے ہیں ۔

ادھر ہماری ملی رفاہی سماجی تنظیموں کے ذمہ داران رسم خانہ پوری ادا کرہی رہے ہیں ۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ جس کو کتے کے پلے کے مرنے پر بہت افسوس ہوتا ہے اسے انسانی لاشوں پرسے گزرکر اپنی کرسی تک پہنچنے کا ہنر بھی بخوبی آتا ہے ۔وہ ہمیں آگاہ کررہاہے کہ تمہاری خیریت اور سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ تم سیکولرزم کے ڈھول بجانے کے بجاۓ اپنی حفاظت کی طرف توجہ دو !!کیونکہ اگر بالفرض سیکولر جماعتوں کے اتحاد کو حکومت سازی کا موقع مل گیا تب بھی تم ہی ٹارگیٹ بنوگے ری ایکشن کے لیے ۔اور پھر تم ایکشن پر ری ایکشن کرکے بھی قابل مواخذہ رہوگے کیونکہ:–

دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں

ڈھونڈو گے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے