سہارنپور(احمد رضا): دہلی کے نا ہڈ گڑھ علاقہ میں مسلم گوشت فروش کی دکان پر حملہ اسکا ہزاروں کی قیمت کا گوشت بجرنگی غنڈوں نے دکان میں گھس کر باہر کتوں کے سامنے پھینک دیا اور اسکی دکان بند کرا دی اسی طرح نوح کے امن پسند افراد کو چڑانے کے لئے وہپ نے کل ایک جلوس نکالا جس میں مسلم طبقہ کے خلاف زہر گھولنے کے ساتھ ساتھ نازیبا الفاظ استعمال کئے گئے نتیجہ کے طور پر بلوا بھڑک گیا اب سارا کا سارا قصور مسلم افراد پر تھونپ دیا گیا پچھلے نو سال سے ملک میں مسلم طبقہ کے افراد کو ڈرانے اور غلامِ بنانے کی کوشش لگاتار جاری ہے مگر ہندو شدت پسند افراد کی یہ بڑی بھول ہے مسلم طبقہ ملک کے آئین اور قانون کا ازل سے ہی احترام کر تا آرہا ہے کیونکہ ملک کو فرنگیوں سے آزاد کرانے میں سب سے زیادہ جانی اور مالی قربانیاں مسلم طبقہ کے افراد نے بہ خوشی پیشِ کر تے ہوئے اپنے عزیز وطن کو آزاد کرایا آپ کو بڑی غلط فہمی ہے کہ آپ مسلم طبقہ کو ڈرا کر پست کریں گے اور بھگا دیں گے سچ یہ ہے کہ کچھ بھی کر تو مسلم اپنے وطن کو ظالموں کے ہاتھوں میں پھنسنے نہی دیگا ہم اللہ کے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے پکے بندے ہیں اور یہ یقین بھی ہے کہ موت وقت پر آکر رہیگی مگر ایمان پر آنچ نہی آنے دیں گے! مسلم طبقہ پر ہونے والے ظلم اور ستم کے زیادہ تر معاملات میں سرکاری مشینری بھاجپا شدت پسند افراد کے اشارہ پر کام کر رہی ہے جس  وجہ سے مسلم طبقہ کو بھاری جانی اور مالی خسارہ برداشت کر نا پڑ رہا ہے اس پر فتن حالات میں ہمکو انصاف کیسے ملیگا سماجی خد متگار اور ملی رہبر خان صابر علی خان نے حالات حاضرہ پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ بھی ظلم اور جبر یا جانی اور مالی خسارہ آج مسلم طبقہ کو برداشت کر نا پڑ رہا ہے اس کی اصل وجہ ہندو شدت پسند افراد کی اس سو چ کا نتیجہ ہے کہ یہ ملک صرف ہندو افراد کی ملکیت ہے اور مسلم یہاں زبردستی ره رہا ہے اس لئے اس طبقہ کو یہاں سے راہ فرار اختیار کر نے کو مجبور کیا جا ئے کل صبح جے پور سے ممبئی میں آنے والی سپر فاسٹ ٹرین میں ممبئی کے نزدیک فورس کے ایک ہندو شدت پسند جوان نے ٹرین میں سفر کرنے والے ایک ایس آئی مسٹر مینا اور تین مسلم افراد محمد حسین،اصغر اور عبدالقادر کو یہ کہتے ہوئے رائفل کی گولیوں سے بھون ڈالا کہ اگر بھارت میں رہنا ہے تو مودی یوگی کو ہی ووٹ دینا ہوگا نہی تو اس انجام کے لئے تیار رہو اس اجتماعی اور درندہ صفت قتل عام پر  زبان درازی کرتے ہوئے ممبئی کی سرکاری مشینری کہتی ہیکہ جوان کاذ ہنی توازن خراب ہے اگر یہ ما ن بھی لیں تو سرکار بتاۓ کہ اسکو لوڑید رائفل کے ساتھ ڈیوٹی پر کیوں اور کس نے بلایا ؟ سچ تویہی ہےکہ اس ملک کی سیاست پرقابض رہنےکےلئے اب ہندو شدت پسند اس طرح کےشرمناک حملوں کوانجام دینے لگے ہیں تاکہ ہندو برادری کو مسلم کے خلاف کھڑا کر کے انکے ووٹ شدت پسند  ہندو افراد کے ساتھ جڑجائیں اورمسلم طبقہ کو عام لوگوں سےالگ تھلک کردیاجائے تاکہ بھاجپاکےمخالفین کلی طور سے پست ہوجائیں اورکوئی بھی مخالف ہمارےسامنےکھڑا ہو نے کی ہمت نہیں  دکھا سکے؟ ملی رہبر صابر علی خان نے کہا کہ شاید آپ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہوں گے کہ 2014 کے بعد سے بجرنگ دل ،ہندو مہاسبھا، وہپ اور گائے رکشك دل کے افراد خد کو ملک کا مالک سمجھ بیٹھے ہیں اسی لئے یہ شدت پسند تنظیم سے وابسطہ افراد لگاتار مسلم طبقہ کو اپنی نفرت اور ظلم و ستم کا شکار بنا تے رہتے ہیں پولیس اہلکار ان افراد کے خلاف کاروائی کر نے سے پرہیز کرتے ہیں کیونکہ انکو معلوم ہے کہ یہ گروہ جو کچھ بھی کر رہا ہے اس پر بھاجپا سرکار کو کچھ بھی اعتراض یا شکایت نہیں ہے بھاجپا کے آقا ملک کی تقسیم کے بعد سے ہی ملک میں بسنے والے مسلمانوں سے حسد ، نفرت اور جلن کا اظہار بار بار کر چکے ہیں آپکو بتادیں کہ بھاجپا کے آقا موہن بھاگوت جو کہ آر ایس ایس کے چیف بھی ہیں انکی سوچ و فکر اور مقاصد سے ہر کوئی خوب اچھے طور سے  واقف ہے، 1920 سے ہندو شدت پسند افراد نے ہمیشہ اس جمہوری ملک کو بھگوا رنگ میں رنگ نے کی بھر پور کوششیں کی ہیں ملک میں ہندو مسلم کے بیچ بٹوارہ بھی اسی سو چ کا نتیجہ ہے راشٹر پتا مہاتما گاندھی کا قتل بھی اسی سو چ نے انجام دیا تھا آج گوڑ سے کی اسی پر تشدد سو چ کو یہ افراد مسلم طبقہ کے خلاف زہر گھول کر اور تشدد بھڑکاکر کا اپنے زہریلے مقاصد میں کامیابی حاصل کر نا چاہتے ہیں مگر ملک کے سیکولر نظریات والے افراد نے موقع در موقع شدت پسند ت نظیم کے افراد کو ہمیشہ ناکام بنا دیا ہے آج آذادی کے 73 سال بعد بھی یہ اسی بھگوا رنگ کو ملک کے عوام پر مسلط کر نے کی جستجو میں سرگرم ہیں اپنے دل کے غبار کو یہ لوگ الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات کے حوالہ سے لگاتار ظاہر کر تے رہتے ہیں کل آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے اپنے اخبار ’آرگنائزر‘ کو ایک اہم انٹرویو دیتے ہوئے اپنی تنظیم آر ایس ایس، ہندوتوا کے ساتھ ساتھ اسلام اور عیسائی مذاہب کو لے کر اپنے بزرگوں کے 130 سال پرانے نظریات پھر سے آزادانہ طور پر ملک کے سوا ارب عوام کے سامنے رکھے ہیں یہ عوام کی  سو چ ہے کہ وہ ان خیالات کو کس طرح دیکھتے ہیں مگر بھاگوت نے جو کہنا تھا وہ کہ ہی دیا ہے؟

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے بیخوف و خطر کہا ہے کہ ملک میں اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکنموہن بھاگوت نےیہ بھی منشاءظاہرکردیکہ’ہم افضل ہیں‘  یعنی مسلم طبقہ کو بہتر قوم ہونے کا احساس ترک کر نا ھوگا یعنی دوسرے درجہ کی شکل وصورت میں ملک میں رہنا ہوگا! موہن بھاگوت نے صاف صاف کہا کہ یہاں مسلمانوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں  ہندو ہماری پہچان، قومیت ہے اور سب کو اپنا سمجھنے اور ساتھ لے کر چلنے کا رجحان رکھتے ہیں اسی لئے یہاں تمام مذاہب پروان چڑھے ہیں خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق بھاگوت نے کہا ’’ہندو ہماری شناخت، قومیت اور سب کو اپنا ماننے اور ساتھ لے کر چلنے کا رجحان ہے ہندوستان، ہندوستان بنا رہے، سیدھی سی بات ہےاس کی وجہ سے آج ہندوستان میں مسلمانوں کا کوئی نقصان نہیں ہےوہ ر ہیں اور رہنا چاہتے ہیں یہاں رہیں آباء واجداد کے پاس واپس آنا چاہتے ہیں تو آئیں، ان کی مرضی پر منحصر ہے۔ بھاگوت نے کہا ’’اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن ہم ہی بڑے (افضل) ہیں اوربڑےہیبنےرہیں گے، ہم ایک وقت میں بادشاہ تھے، ہم پھر سے بادشاہ بنیں گے، یہ سب چھوڑنا ہوگا اور دوسروں کو بھی چھوڑنا ہوگا اگر کوئی ہندو ہے جو ایسا سوچتا ہے، اسے بھی (یہ احساس) ترک کرنا پڑے گا اور کوئی کمیونسٹ ہے، تو اسے بھی چھوڑنا پڑے گا‘‘۔آبادی کی پالیسی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر بھاگوت نے کہا کہ سب سے پہلے ہندوؤں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ آج ہندو اکثریت میں ہیں اور اس ملک کے تمام لوگ ہندوؤں کی ترقی سے خوش ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’آبادی بوجھ کے ساتھ ساتھ ایک مفید چیز بھی ہے، ایسی صورت حال میں ایک دور رس اور گہری سوچ کے ساتھ پالیسی بنائی جائے۔‘‘آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا ’’یہ پالیسی سب پر یکساں طور پر لاگو ہونی چاہئے، لیکن یہ زبردستی کام نہیں کرے گی۔ اس کے لیے تعلیم کی ضرورت ہے۔ آبادی کا عدم توازن ایک ناقابل عمل چیز ہے کیونکہ جہاں عدم توازن ہوتا ہے وہاں ملک ٹوٹ جاتا ہے، پوری دنیا میں ایسا ہوتا رہا ہے۔‘‘

بھاگوت نے کہا کہ ہندو برادری ہی وہ واحد ہے جو جارحانہ نہیں ہے۔ لہٰذا عدم جارحیت، عدم تشدد، جمہوریت، سیکولرازم، ان سب کو محفوظ رکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک تیمور، سوڈان کو ٹوٹتے دیکھا اور پاکستان کو بنتا دیکھا۔ ایسا کیوں ہوا؟ سیاست چھوڑیں اور غیر جانبدار ہو کر سوچیں کہ پاکستان کیوں بنا؟بھاگوت نے کہا’’اب کسی کے پاس ہماری سیاسی آزادی میں خلل ڈالنے کی طاقت نہیں ہے۔ اس ملک میں ہندو رہے گا، ہندو جائے گا نہیں، یہ اب ثابت ہو گیا ہے۔ ہندو اب بیدار ہو چکا ہے۔ اس کا استعمال کرتے ہوئے ہمیں اپنے اندر کی جنگ جیتنی ہے اور ہمارے پاس جو حل ہے اسے پیش کرنا ہے‘‘۔وہیں انٹرویو میں کچھ مقامات پر موہن بھاگوت نے مسلمانوں اور عیسائیوں پر شدید حملہ بھی کیا ہے اور ہندو مذہب کو سب سے بہتر قرار دیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں بھاگوت ہندوؤں کا موازنہ دوسرے مذاہب کے لوگوں سے کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’ہندو سماج اگر خود کو جانے گا تو اپنا حل کیا ہے اسے سمجھ جائے گا۔ کٹر عیسائی کہتے ہیں کہ ساری دنیا کو عیسائی بنا دیں گے، اور جو نہیں بنیں گے ان کو ہمارے رحم و کرم پر رہنا پڑے گا، یا تو مرنا پڑے گا۔ کٹر اسلام والے، جو ابراہیمی نظریہ رکھتے ہیں، ایشور کو ماننے والے اور نہیں ماننے والے لوگ ہیں، کمیونزم کیپٹلزم سمیت، سب ایسے ہی نظریات رکھتے ہیں کہ سب کو ہماری راہ اختیار کرنی ہوگی، کیونکہ ہم ہی صحیح ہیں، ہمارے رحم و کرم پر رہو، یا مت رہو۔ ہم تباہ کر دیں گے۔‘‘ پھر وہ کہتے ہیں ’’ہندو کا عالمی نظریہ کیا ہے؟ کیا ہندو کبھی ایسا کہتا ہے کہ سب کو ہندو (مذہب) ماننا پڑے گا؟ ہمارا ایسا نظریہ ہی نہیں ہے۔ ہمارا نظریہ یہ ہے کہ ہم سب لوگوں کے سامنے ایک مثال پیش کریں گے سب لوگوں سے بات کریں گےجس کو اچھا بننا ہے، وہ ہماری پیروی کرے گا نہیں تو، ہم ان کا کچھ نہیں کریں گے لیکن وہ ہمارا کچھ نہ کر سکیں، اس کی فکر تو کرنی پڑے گی‘‘ ساتھ ہی بھاگوت یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ان سب لڑائیوں میں اب ہم مضبوط ہو گئے ہیں اب وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے‘‘۔

صابر علی خان نے کہا کہ یہ بیانات مسلم طبقہ کے افراد کے لئے ایک چیلنج سے کم نہیں ابھی بھی وقت ہے سبھی تنازعات اور فرقہ بندی چھوڑ کر ملک کے آئیں اور اپنی ملت کی حفاظت اور خوشحالی کے لئے بزدلی اور ڈر اور خوف دلوں سے نکال کر قابل احترام مہاتما گاندھی اور اشفاق اللہ جیسا کردار ادا کر یں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے