ابو احمد مہراج گنج
آنکھ انسانی اور حیوانی جسم کا بہت ہی اہم، خوبصورت عضو ہے ۔اگر جسم مکمل طور سے تندرست و توانا ہو قد وقامت سرو کے مانند ہو،سینہ چوڑا ، ماتھا ابھرا ہوا کشادہ ہو ،زلفیں ریشمی ہوں بدن مضبوط اور بھرپور ہوں لیکن ان سب کے باوجود اگر آنکھیں سلامت نہ ہوں تو زندگی بڑی حسرتناک ہوجاتی ہوگی ،روز مرہ کی زندگی بڑے اضطرار اور اضطراب میں گزرتی ہوگی۔زندگی میں رنگ کا فقدان انسان کو کس قدر بے رنگ بنا دیتا ہوگا اس کا احساس مجھے جب ہوا جب دو دن قبل آئی فلو سے ۔میری آنکھیں بھی متاثر ہوگئیں اور دودن مجھے اپنی آنکھوں کو بیشتر وقت بند رکھنا پڑا۔
مجھے محسوس ہوا کہ آنکھیں ہی ہیں جن سے کائنات کے خالق اور مالک کی خلاقی اور خدائی کے مظاہر کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے ،آنکھیں ہی ہیں جن سے کائنات کے ذرے ذرے میں پھیلے رب العالمین کی نشانیوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔وہ آنکھیں ہی ہیں جن سے قدرت کی کاریگری کے بےمثال نمونے ہویدا ہوتے ہیں ۔
آنکھ کا انسان کی زندگی میں بڑا اہم مقام ہے ،یہاں تک کہ اللّٰہ العزت نے اپنی نعمتوں کو بیان کرنے میں آنکھ کو بارہا ذکر کیا ہے ۔اور آنکھ جیسی نعمت کے حصول پر شکر ادا نہ کرنے اور کفران نعمت کرنے پر گرفت کی وعید بھی سنائی ہے ۔
اس عظیم نعمت کا شکریہ کیا ہے ۔؟؟میں سمجھتا ہوں کہ آنکھ جیسی عظیم نعمت کا شکر یہ ہے کہ ہم صرف اسی جگہ اس کا استعمال کریں جو جگہ رب العالمین کی رضا کا باعث ہو۔جس چیز کے دیکھنے سے خالق کی وحدانیت ،ربوبیت،اور اس کی عظمت کا اعتراف برملا زبان پر آجاۓ۔اور آنکھوں کو ان مناظر کے دیکھنے سے دور رکھا جائے جو خالق حقیقی کی ناراضگی اور عتاب کا باعث ہوں۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں اس دنیاۓ رنگ وبو میں اللہ رب العزت نے جن افراد کو آنکھ کی نعمت سے محروم رکھا ہے وہ افراد اس دنیا کی رنگینیوں اور اس آباد دنیا میں
موجود اللہ پاک کی بے شمار نعمتوں کا ادراک اور اس کا احساس کس طرح کرتے ہوں گے ۔اللہ رب العالمین نے اپنی سب سے بڑی نعمت جو اس زمین پر اتاری ہے وہ سرور کائنات فخر موجودات جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ہے اس ذات کے تقدس اور ان کے دیدار کے متمنی ظاہری أنکھ کے نہ ہونے کا کرب کس انداز میں بیان کرتے ہیں اس کا اندازہ ہم آنکھ والوں کو نہیں ہوسکتا۔ ایک شاعر نے کچھ یوں کہا ہے کہ
میں تو خود ان کے درکا گدا ہوں اپنے آقا کو میں نذر کیا دوں
اب تو آنکھوں میں کچھ بھی نہیں ہے ورنہ قدموں میں آنکھیں بچھا دوں
میری جھولی میں کچھ بھی نہیں ہے میرا سرمایہ ہے تو یہی ہے
اپنی آنکھوں کی چاندی بہا دوں اپنے ماتھے کا سونا لٹا دوں
بے نگاہی پہ میری نہ جائیں دیدہ ور میرے نزدیک آئیں
میں یہیں سے مدینہ دکھا دوں، دیکھنے کا سلیقہ سکھا دوں
آج اللّٰہ پاک کا دیا ہوا انمول تحفہ آنکھ ہمارے پاس صحیح سلامت موجود ہے ۔ لیکن ہم میں سے اکثر لوگ اس کا غلط استعمال کررہے ہیں ۔فلم ،سینیما، گندی تصویر سے لیکر نہ جانے کیا کیا ہر روز ان آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور ایک گھڑی کے لیے بھی نہیں سوچتے کہ اگر ہماری آنکھوں میں نور نہ ہوتا تو ہمارا کیا ہوتا۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اس نعمت کی قدر کریں اور ناجائز استعمال سے پرہیز کریں۔ جہاں تک ممکن ہو اللّٰہ کی کتاب سے ان آنکھوں کو غذا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عقیدت سے اس کو جلا دیا جائے ۔
آنکھوں کی روشنی کو سلامت رکھنے کا ایک نسخہ کسی نے یوں بھی بتایا ہے کہ
مختصر ہوتے ہوئے بھی زندگی بڑھ جاۓ گی
ماں کی آنکھیں چوم لیجۓ روشنی بڑھ جاۓ گی
اللہ پاک ہماری اور آپ کی آنکھوں کو بد نظر ہونے سے بچاۓ اور دوسرے کی عزت و آبرو کو بھی ہماری نظروں سے محفوظ رکھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارا پورا وجود ہی اللّٰہ کا انمول تحفہ اور عطیہ ہے۔ لیکن اس تحفے میں آنکھوں کا الگ ہی مقام ہے ۔
یہ خد و خال یہ گیسو یہ صورت زیبا
سبھی کا حسن ہے اپنی جگہ مگر آنکھیں
