کتبہ ،محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی

بات مطالعہ کی ،: امام ابن شہاب الزہری المتوفی 124ھ بہت بڑے تابعی تھے امام مالک سفیان ثوری وغیرہ ان کے شاگرد تھے ، امام موصوف کے مطالعہ کا یہ حال تھا کہ جب اپنے گھر میں کتب بینی کیلئے بیٹھ جاتے تو ایسے مصروف ہوجاتے تھے کہ ان کو کسی چیز کی کچھ بھی خبر نہ رہتی ،ایک دن ان کی بیوی نے تنگ آکر کہہ دیا ، خدا کی قسم یہ کتابیں مجھ پر تین سوکنوں سے بھی زیادہ بھاری ہیں ۔

شیخ الرئیس طب کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ہیں ، انھوں نے فن طب میں بےشمار کتابیں تحریر کیں ، ان کے پڑھنے کا یہ عالم تھا کہ پہرۓ دار کی لالٹین کی روشنی میں مطالعہ کیا کرتے تھے ،وہ لاٹھی لیکر چلتا رہتا تھا اور یہ پیچھے پیچھے پڑھتے رہتے تھے ،

یہ کتاب ایک ہزار مرتبہ پڑھی:

عباس بن ولید فاسی رحمہ اللہ کے کچھ عزیزوں نے ان کی بعض کتابوں کے آخر میں لکھا ہوا دیکھا ” میں نے یہ کتاب تقریباً ایک ہزار مرتبہ پڑھی ”

ابن التبّان کے حالات زندگی میں لکھا ہے کہ انھوں نے ابن اللباّد سے علم حاصل کیا اور کتاب "المدونۃ” تقریباً ایک ہزار مرتبہ پڑھی ،

محمد بن عبداللہ ابہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے "مختصر ابن عبدالحکم "پانچ سو مرتبہ کتاب "الاسدیہ "پچھتر مرتبہ "موطا”پینتالیس مرتبہ "مختصر البرقی ” ستر مرتبہ اور "مبسوط "تیس مرتبہ پڑھی،

ابوالفضل بنیمان فرماتے ہیں ،میں نے ابوالعلاء ہمدانی کو بغداد کی ایک مسجد میں دیکھا ،وہ چراغ بلند مقام پر ہونے کی وجہ سے کھڑے کھڑے لکھ رہے ہیں ،

جعفر بن دستویہ فرماتے ہیں ،ہم علی بن مدینی کے حلقۂ درس میں دوسرے دن کے سبق کیلئے جگہ لینے کے لئے عصر کے وقت ہی پہنچ جاتے ،پوری رات وہاں بیٹھے رہتے اس اندیشے سے کہ کہیں ہمیں ایسی جگہ ملے جہاں ہم سبق نہ سن سکے ،

دربہاراں کہ شود سرسبز سنگ

خاک شو تا سبزہ روید رنگ رنگ ،

محترم قارئین! مستعدی سے مطالعہ ہی کمال علم کا موجب ہے ، رفتہ رفتہ وسعتِ مطالعہ ہوتا جاۓ تو انسان خاک سے کاخ ہی نہیں اس سے آگے تک بھی جاسکتا ہے ، لیکن تعالُم اور ہمہ دانی کے اس دور میں واٹساپ یونیورسٹی اور فیسبک کالج ہی کو مخزن علم وفن سمجھ لیا گیا ہے ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تو جھاڑ جھنکاڑ، گھاس پھونس کے سوا کچھ نہیں ، کبھی ایک آدھ علمی مضمون آجانے سے اس کی اہمیت نہیں بڑھ جاتی اسلئے کہ بھوسا کے انبار میں گیہوں کے چند دانے مل جانے سے بھوسا گیہوں یا سونا نہیں بن جاتا ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں شغوف بالعلم والإنكباب على الكتب والتوغل في الدراسة کی توفیق عطا فرمائے آمین ،

مطالعہ پر ابھارنے والی چند کتابیں:

صفحات من صبر العلماء ،قیمۃ الزمن عند العلماء، مراتب طلب العلم وطرق تحصیلہ ، آداب طالب العلم ، ورثۃ الانبیاء وغیرہ ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے