عبد الرشید سلفی
شہرت گڑھ(سدھارتھ نگر): آزادی کی مناسبت سے، ادارہ میں ایک ثقافتی پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا۔ حکومت کے گائڈ لائن کے مطابق پرچم کشائی کا عمل شہرت گڑھ اسمبلی حلقہ کے سابق امیدوار اور سماجی کارکن الحاج ممتاز احمد مینیجر آزاد ڈگری کالج کرونا مسنا نے انجام دیا جبکہ انہوں نے اپنے ساتھ ادارہ کے ناظم اعلی الحاج محمد ظفر خان اور صدر کمیٹی سید ابو شحمہ کو بھی لیا۔ جھنڈا لہراتے ہی طلباء کے ایک گروپ نے راشٹریہ گان پیش کیا اور طالبات نے قومی ترانہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا بہتر انداز میں پیش کرکے سامعین و حاضرین کے دلوں کو جیت لیا پھر باضابطہ طور پر ثقافتی پروگرام کا دور شروع ہوا جس کی صدارت معہد کے پرنسپل اور جمعیت اہل حدیث حلقہ شہرت گڑھ کے نائب ناظم عبد الرشید سلفی نے کی جبکہ نظامت کا فریضہ حافظ حفظ الرحمن سلفی نے انجام دیا۔ ہندوستان کی آزادی سے متعلق مختلف اور دلچسپ عناوین پر طلباء و طالبات نے اردو، ہندی اور انگریزی زبان میں تقریریں پیش کیں اور نظم، گیت، قومی ترانے، ہندی ترانہ، اشعار سے پروگرام میں سماں باندھ دیا پورے گراؤنڈ میں طالبات کے ترنم آواز کے ساتھ تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے گونجتا رہا۔دوران پروگرام مکتب کے چھوٹے بچوں نے مجاہدین آزادی، عظمت ترنگا اور سرفروشان ہند کے موضوعات پر مکالمہ و ڈرامہ بڑی ہی عمدگی کے ساتھ پیش کیا جس پر ان معصوم طلباء کو داد و تحسین سے نوازا گیا۔
مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو، مولانا ابو الکلام آزاد، سردار ولبھ پٹیل، شہید اشفاق اللہ، بھگت سنگھ، مولانا محمد علی جوہر، اور ویر عبد الحمید کی قربانیوں کا ذکر بھی خطبا نے اپنے خطاب میں کیا
مہمان ذی وقار الحاج ممتاز احمد خان نے اپنے خطاب میں ملک کی آزادی میں علمائے اہل حدیث کا ذکر کرنے ساتھ ان کے اوپر آنے والی پریشانیوں کا بھی حوالہ دیتے ہوۓ کہا کہ بڑی خوشی سے ہمارے علمائے کرام نے جیل جانا، پھانسی کا پھندا چومنا گوارا کرلیا لیکن اپنے ملک کے ساتھ غداری اور انگریزوں کی چاپلوسی نہیں کی۔ انھوں نے عوامی سطح پر بھی اپنے ملک سے وفاداری کا سبق دیتے ہوۓ طلبا کو علم کی طرف رغبت دلاتے ہوۓ حصول علم میں کوشاں رہنے کی نصیحت کی۔ پروگرام منظم طریقے سے نماز عصر تک چلتا رہا۔
مولانا عبد الرشید سلفی نے اپنے اساتذہ اور معلمات کی محنتوں کو سراہتے ہوۓ بہتر پروگرام اور عمدہ تیاری پر مبارکباد پیش کی اور انکی حوصلہ افزائی بھی کیا۔
ادارہ کے معلمین مولانا جاوید عالم رحمانی، حافظ حفظ الرحمن سلفی، مولانا مسعود فیضی، ماسٹر اقبال انصاری، ماسٹر وصی اللہ صدیقی اور معلومات محترمہ شمع محسناتی، محترمہ شاہدہ سلمی، محترمہ انجم آراء محسناتی کے علاوہ گاؤں کے حساس افراد خصوصا شفیق اللہ، شفیق احمد، خوشبو الدین، رفیق اللہ،شمس الرحمن، عبید الرحمان انصاری، بلال احمد، سیہل احمد، محمد عادل، توفیق احمد، مصطفی آزاد محمد رئیس نے پورے لگن کے ساتھ آخری وقت تک طلباء کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔
