سدھارتھ نگر: 77 ویں یوم آزادی کے پر مسرّت موقعے پر ادبی اور سماجی تنظیم نئی آواز کے بینر تلے ایک مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں قرب و جوار کے شعراء اور کویوں نے شرکت کیا۔ اس موقع پر سبھی شعراء نے ملک کی آزادی کے لیے مسکراتے ہوئے تخت دار کو چومنے والےشہیدان وطن کو شدت سے خراج عقیدت پیش کیا اور اپنی اپنی شاعری کے ذریعے تمام شہیدوں کو یاد کیا اور ان کی شان میں ایک سے بڑھ کر ایک غزلیں اور نظمیں پیش کیں۔
اس موقع پر موجود شاعروں اور کویوں کے کچھ چنندہ اشعار مندرجہ ذیل ہیں۔
تیری چاہت تیری الفت نے نوازا ایسا،
میری بیماری میرے واسطے اکسیر ہوئی۔
ڈاکٹر نوشاد اعظمی
کچھ کہہ نہیں سکے خوف سے یہ بات الگ ہے،
لب کھولنے کی ہم کو اجازت تو ملی ہے۔
ایڈوکیٹ شاداب شبیری
جشن آزادی کا جب چرچہ ہوا،
ہر بھارتی کا دل لگا چمکا ہوا۔ ڈاکٹر نیاز اعظمی
گلہ کرتے پھریں جورو جفا کا،
ہم اتنے بھی گئے گزرے نہیں ہیں۔
ریاض قاصد
ہیں مناتے آج ہم پندرہ اگست،
اج کے دن لوگ خوش لگتے ہیں مست۔
جاوید سرور
تم آبروئے چمن بچانا،
کبھی نہ اس کا تو سر جھکانا۔مونس فیضی
کچھ فرقہ پرست عناصر ہوا دے رہے ہیں،
ملک میں ہمارے پھر بھی ایکتا دکھائی دیتا ہے۔
ہمدم سیوانی
پندرہ اگست آیا رت بڑی سہانی ہے،
ہر طرف ترنگا ہے دل میں شادمانی ہے۔
نور قاسمی
اونچا ہے جس کا نام اور اونچا مقام ہے،
اے پیارے ترنگے تجھے میرا سلام ہے ۔
ڈاکٹر جاوید کمال
کبھی ٹھنڈ میں ٹھٹھر کر دیکھ لینا،
کبھی تپتی دھوپ میں چل کر دیکھ لینا۔
کیسے ہوتی ہے حفاظت ملک کی
کبھی سرحد پر کھڑے جوانوں کو جا کر دیکھ لینا۔
سجیت جیسوال
دل میں میرے پیار کا ساگر جاری ہے،
آزادی کا دن یہ سب پر بھاری ہے
سو سو بار نمن کرتا ہوں ویروں کو۔
پنکج سدھارتھ
میکدے میں دین کے پیر مغاں ہیں محو خواب،
مے کشوں کے ہاتھ میں جام و سبو خطرے میں ہے۔
زاہد آزاد جھنڈا نگری
حسین کلیوں کی صورت ہمارے خواب کھلیں،
مہک اٹھیں یہ چمن یوں نئے گلاب کھلیں ۔
سالک بستی
درس قرآن صرف کافی ہے،
تم جہاں کے خطاب مت ڈھونڈو۔
سنبل ہاشمی گورکپوری
اس کے علاوہ ڈاکٹر فضل الرحمن، شیو ساگر سحر، گووند اوجھا اور دلیپ دویدی نے بھی اپنے اپنے خوبصورت کلام سے سامعین کو محظوظ کیا اور سامعین کے ذریعے اُنہیں بھی داد و تحسین سے خوب نوازا گیا ۔
مشاعرے کی صدارت سنبل ہاشمی گورکھپوری نے کیا اور نظامت کے فرائض نور قاسمی نے بڑے ہی خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیا۔
اس موقع پر اسسٹنٹ سیل ٹیکس کمشنر جناب علیم الدین اور سدھارتھ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالحفیظ کی بھی شمولیت رہی۔ انہوں نے بھی سامعین کو خطاب کرتے ہوئے جنگ آزادی میں اپنی جان کی قربانی پیش کرنے والے شہیدوں کے جذبے شہادت اور اُن کے حب الوطنی پر تفصیلی گفتگو کے دوران کہا کہ وطن پر اپنی جوانی قربانی کرنے والے شہیدوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ موجود شعراء، کویوں اور سامعین سے یہ عہد لیا کہ ملک میں امن اور یکجھتی کا ماحول اسی طرح قائم و دائم رکھیں گے اور جب ملک پر جاں نثار کرنے کی نوبت آ جائے تو سر پر کفن باندھ کر اپنی جان قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں گے۔ساتھ ہی ساتھ اپنے اردو اور ہندی ادب کی گنگا جمنی تہذیب کی وراثت کو اسی طرح آگے بڑھانے کا کام کرتے رہیں گے۔
مشاعرے میں سامعین کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود رہی ۔مشاعرہ کا انعقاد ڈاکٹر جاوید کمال کے ذریعے کیا گیا۔
