محمدیوسف رحیم بیدری
بیدر، کرناٹک۔ موبائل :9141815923
۱۔ ناکام فعل
اُس نے اُس کے موبائل سے تمام عورتوں کی تصویریں ڈیلیٹ کردیں اور سکون کاسانس لیا لیکن سچ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے شوہرنامدار کے دل سے پرائی عورتوں کاخیال نکال نہ سکی۔
۲۔ روحیں اور رب
روحیں اٹھیں اور چلی گئیں ۔ میں جوبات پوچھناچاہتاتھا وہ اب کس سے پوچھی جائے ؟ہاتف غیبی نے آواز لگائی ’’اپنے رب سے ‘‘
۳۔ بے جڑ کے پودے
گاؤں سے سرکل، سرکل سے تعلقہ ، تعلقہ سے تاریخی شہر اور تاریخی شہر سے ضلع کانیامستقر ، وہاں سے علاقہ اور علاقہ سے میٹروپالیٹن سٹیز پہنچنے پر انسان قدریں بھولنے کے ساتھ ساتھ اپنی قدر بھی کھوتاچلاجاتاہے اور اس کو اپنی ترقی سمجھتاہے ، یہاں تک کہ امریکہ جابستاہے جہاں وہ فوت ہوجاتاہے تو اسکے آس پاس اُس کی اولادیں اسلئے نہیں ہوتیں کہ وہ اپنے بڑوں کو ملک میں چھوڑ کر کئی سال پہلے امریکہ جاچکاتھااورجس وقت اس کے بڑوں کاآخری وقت آن لگاتھا، وہ ان کے پاس نہیں تھا۔
۴۔دھوپ کی شدت
پیرومرشد نے موسم ِبرسات کے باوجود پچھلے دوہفتوں سے اچانک بڑھ جانے والی دھوپ کی شدت پرایک نظر ڈالی اور کہا’’مہمانوںکو کھانا کھلادِیاکروورنہ دھوپ کی شدت میں مزید اضافہ ہوسکتاہے ‘‘مریدوں نے سرجھکالیاان مریدوں میں ایسے بھی تھے جنہوں نے مہمان کو بغیرکچھ کھلائے گھرسے روانہ کیاتھا۔
۵۔ ہندوقبرستان
مولانا نے کہا’’گھر کے بازو مسلم قبرستان ہونے سے دنیا کی بے ثباتی کااحساس پیدا ہوکہ نہ ہو، دعائے مغفرت دل سے نکل نکل جاتی ہے ۔درست ہے نا؟‘‘ عامر شریف نے پوچھا ’’ لیکن اگر گھر کے بازو ہندوقبرستان ہوتو ؟‘‘ مولانا نے کوئی جواب نہیں دِیا۔
۶۔ خود کی فوقیت
’’بھتیجوں اور بھتیجیوں سے تعلق کی بنیاد بھائی ہوتاہے۔ بھائی اگر فو ت ہوجائے تو بھائی سے متعلق تمام رشتے فوت ہوجاتے ہیں ‘‘ یاورنے فلسفہ بگھارا۔میں نے کہا’’موت کے بعد رشتوں میں مضبوطی سہارے کی وجہ سے آتی ہے۔لہٰذا ایک دوسرے کاخیال رکھاکریں، رشتے مضبوط ہوتے ہیں ‘‘ وہ ہنسااور ہنس کر بولا ’’ یہاں کون کس کاخیال رکھے گا؟ سبھی دوسرے پر خود کوفوقیت دیتے ہیں ‘‘ بات تو یاورمناسب کہہ رہاتھا۔
۷۔ ڈنکاپیٹنے والا
وہ ایک اچھاآدمی تھا۔ اس میں برائی بس یہ تھی کہ وہ سچ پرایمان رکھتاتھااور سچ کا ہی ڈنکاپیٹتاتھا۔
۸۔ ترقی وتنزلی اور سچائی
ویل سیٹلڈ فرزند نے اپنے 55سالہ والد سے کہا’’ڈیڈی آپ کو ابھی تک سیٹلڈ نہ دیکھ کر مجھے حیرت ہوتی ہے ‘‘ والد نے اپنے آپ کو ضبط کرتے ہوئے کہا’’بیٹے ! سچائی یہ ہے کہ ترقی ورقی کاکوئی فنڈانہیں ہے ۔ اوپر والے نے ایک روح کو بناترقی ایسے ہی معلق رکھنا چاہا تو روح نے بھی اس فیصلے کو قبول کرلیا، ورنہ فیصلہ کرنے والے کے پاس کس چیز کی کمی ہے ، سبھی کچھ تو وہ دے سکتاہے نا ‘‘پھر کچھ توقف کرتے ہوئے والد نے مزید کہا’’وقت سمجھااور سکھادیتاہے کہ ہماری ترقی اورہمہ جہت تنزلی کاسچ کیاہے ؟بس ہمیں اس وقت کاانتظا رکرناہوگا ‘‘
۹۔کم تعلقی
اُس نے کسی مجرم کی طرح فون کیاتھا۔ میں بھی ایک لاپروا مگربے بس سرپرست کی طرح اس کے فون کوریسیو نہیں کرسکا
۱۰۔ کھاتی ہوئی لڑکی
’’چھوٹی چھوٹی چسکیاں لے کر چائے پینے اور امردو کھانے میں کوئی فرق نہیں ہوتا‘‘ اس نے گویا گیان بانٹنے کی کوشش کی ۔میں نے اپناحالیہ کہہ کر بیان کیاکہ’’میں سمجھانہیں ‘‘اس نے اطمینان سے پر لہجے میں جواب دِیا’’ امردو کھاتی ہوئی کسی لڑکی کامشاہد ہ کرلو، چائے کی چسکیاں سمجھ میں آئیں گی ‘‘
۱۱۔ گندا چشمہ
آنکھوں پر لگاہواچشمہ گندہ اور ناکارہ ہوتاجارہاہے، میرے بچوں کی طرح ۔چشمے سے دِکھائی کم دیتاہے اور جو کچھ دکھائی دیتاہے وہ غیرمطلوب ہوتاہے جس سے اذیت ہوتی ہی ہے ۔ یہ احساس بھی پید اہوتاہے کہ زندگی کی آخری ریل ہوشاید
۱۲۔ ناواقفوں کی کارستانی
ناواقف لوگ آدھی نہیں پوری غلطی کرجاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے واپسی کاکوئی فوری راستہ بچتانہیں ہے۔ واپس ہونے میں وقت لگتاہے۔
۱۳۔ آن لائن معشوق
ٹرین کے ڈبے میں 6خواتین، 9بالغ لڑکیاں اور 3کم عمر لڑکیاں بیٹھی ہوئی ہیں۔ سکنڈ کلاس سلیپر کے اس ڈبہ میں 10سے زائد نوجوان لڑکے اور طلبہ بھی ہیں۔ سبھی لڑکے اورطلبہ اپنے اپنے موبائل میں مشغول ہیں۔
ٹرین تیزرفتاری سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے لیکن بوگی کے اندر نہ عشق دبے پاؤں آنکھوں کے راستے دِل میں اُتر رہاہے اور نہ حسن کے جلوؤں کی حشرسامانیاں متاثر کررہی ہیں۔ زندگی کے ساتھ ساتھ غالباً حسن اور عشق بھی آن لائن ہوچکاہے
۱۴۔ داڑھی
اس نے تعریف کرتے ہوئے واٹس ایپ پرچیٹنگ کی ۔ ’’آپ کے افسانچے راجامولی کی خوبصورت تراشیدہ داڑھی کی طرح انسانی زندگی کے چہرے پر آویزاں ہیں ‘‘
افسانچہ نگار مسکرائے بغیر نہیں رہ سکا۔ وہ داڑھی کوپسند کرتاتھا۔ اس نے داڑھی رکھ چھوڑی تھی لیکن اس داڑھی کاخیال نہیں رکھتاتھا۔ اس ایک تعریفی کمنٹ کے بعدوہ اپنی داڑھی کاخیال بھی رکھنے لگا۔
۱۵۔ دَھن آئے گا
دونوں آنکھیں بند کئے ایک دوسرے سے بات چیت کررہے تھے۔ ایک نے کہا’’یہ ٹرین تب تک آگے نہیں بڑھ سکتی ، جب تک کہ مال گاڑی آکر بازو سے گزرنہ جائے ‘‘ دوسرابھی آنکھیں بندکئے ہوئے بولا’’مال گاڑیوں کی چلت پھرت کم ہونے کے سبب ساراملک ہماری ٹرین کی طرح رکا ہواہے ، مال گاڑیاں گھومیں گی تو دھن آئے گا۔ اور جب دھن آئے گاتو دھنیہ ہوجائیں گے لوگ ‘‘
۱۶۔ سادے صفحات
اس نے آج کہانیاں نہیں لکھیں۔ اس لئے نہیں لکھ سکاکہ ذہن کے صفحہ پر موجود ہرکہانی صفحہ ء قرطاس پر آنے کے لئے کافی وقت مانگ رہی تھی اور اس کے پاس وقت بالکل ہی نہیں تھا۔ زندگی کے مسائل کو دیکھیں یاکہانیوں کی نازبرداریاں سہی جائیں ؟آپ ہی کہیں کہ آخر کیا کیاجائے ؟
۱۷۔ گنگناہٹ
اچانک ہی جنگل میں ٹرین ٹہر گئی۔ جب پچیس منٹ سے زائد ہوگئے تو میں نے اس ٹہری ہوئی ٹرین کی کھڑکی سے نیل گری کے درختوں کو دیکھتے ہوئے کہا’’ہم آدھے گھنٹے سے رُکے ہوئے ہیں ‘‘ درختوں نے ایک پل توقف کیا اور شاید کورس میں گنگنایا’’ہم سبھی گڑھے ہوئے ہیں لیکن شکایت نہیں کرتے ‘‘درختوں کی گنگناہٹ سن کر میں شرمندہ ساہوگیا۔
