محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ سرپھٹول
نیچے والے کی ہرنشاندہی کواوپربیٹھے باس نے ٹھوکر ماردی۔ نتیجہ یہ ہواکہ جو ٹیم تنظیمی کام کیلئے سامنے آئی وہ طائرانہ نظر کے بعدوالی ٹیم تھی، ان کی اپنی پسند تھی۔اسلئے ساراکام غارت ہوتے دیرنہیں لگی۔ تنظیم میں آپسی سرپھٹول جاری ہے۔ شیطان کہیں دور کھڑاہنس نہیں رہابلکہ اپنی کامیابی پرخوب خوب جشن منارہاہے۔
۲۔ آمناصدقنا
ایک ٹیکنالوجی زوال سے دوچار ہوتے ہی دوسری ٹیکنالوجی اس کی خالی جگہ پُرکرنے لگی لیکن میں سمجھتاہوں کہ کُن کے حکم کے ساتھ ہی ’فیکون‘ والی اطاعت کام کررہی ہے اور زوال کے فوری بعد ہر سو’آمناصدقنا ‘کا منظر بھی عام ہے۔
۳۔ ہاتھوں سے نکلی ہوئی بات
سونے کاوقت ہوچکاتھا۔ لیکن کوئی سونہیں رہاتھا۔ نیند بھی ذہن ودماغ پر چھائی ہوئی تھی۔ پھر بھی سونے کیلئے کوئی تیار نہیں تھا۔ ایک گھڑی وہ آئی کہ آخرکارانہیں سوناپڑااور جب اٹھے تو سورج سوانیزے پہ تھا۔ یہ وقت کی پابندی نہ کرنے کاایسا نتیجہ نکلے گا ایسا انھوں نے سوچانہ تھا۔ بات ان کے ہاتھوں سے نکل کر بہت دورجا چکی تھی۔
۴۔ کالے اکشر سے ٹیکنالوجی تک
کالے اکشر لکھ کر خوشی ہوتی اور دنیا بھی کالے اکشر پڑھ کر خوش ہوجاتی تھی ۔ یہ آپسی تعلق بنارہا۔پھر اس کے بعد کالے اکشروں کی جگہ کالے دِل والے لوگوں کے ویڈیوکلپ وائر ل ہونے لگے۔ اب تو بہت کچھ بلیک آؤٹ ہوتارہتاہے مگر عوام سمجھتی ہے کہ ہم نے کافی ترقی کرلی ہے ۔جدید ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے دنیاہمیں دھوکادینے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ سادہ لوح عوام کو کوئی کس طرح سمجھاتاکہ ہر ٹیکنالوجی کی آمد کے بعد ہمارے چھوٹے موٹے مسائل حل ضرور ہوتے ہیں لیکن خاموشی سے ہونے والے فراڈ اور گھپلوں کے حجم میں کافی اضافہ بھی ہوجاتاہے ۔مختلف ممالک کی اقتصادیات کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ جرائم میں کہیں کمی واقع نہیں ہوتی۔ انسانیت پریشان تھی اور شاید پریشان ہی رہے۔واقعی ٹیکنالوجی زندہ باد کہنے والے ٹیکنالوجی پرلعنت بھیج رہے ہیںمگر یہ لوگ نظر نہیں آتے کہ انسانیت کے مسیحا کی آوازیں زیادہ تر نحیف ونزارہوتی ہیں۔
۵۔ یہی ممکن
جب اس کی خواہش پوری ہوئی تو اس نے سوچاکہ یہ تو میں نے نہیں سوچاتھا لیکن تین بیس ساٹھ جیساہی معاملہ پیش آیا۔ خاموش رہناپڑا۔ یہ سوچتے ہوئے کہ اپنی خواہش کے اظہار میں کہیں نہ کہیں کمی تھی ۔ انسان ہونے کے ناطے اُس سے یہی کچھ تو ممکن تھا۔
