محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک
موبائل :9141815923 
۱۔ انسانی قربت  
عمروچاؤش سفرسے بہت گھبراتاتھالیکن جب سے سفر کامزا لگاہے ، وہ ہرمہینہ کسی نہ کسی شہر کے لئے رخت سفر باندھ لیتاہے۔ وہ اس رازسے واقف ہوگیاہے کہ سفر کے ذریعہ دنیا دیکھ کر دنیا کوبرتاجاسکتاہے۔ ورنہ ایک ہی شہر میں پچاس ، ساٹھ سال تک جمے رہنے سے آدمی خود ممی Mummyبن کررہ جاتاہے۔ عمروچاؤش خود کواور انسانی زندگی کو ممی بنانا نہیں چاہتاتھا۔لہٰذا اس نے سفر کو اختیارکیااور ہزاروںانسانوں سے ملاقات کرتے ہوئے ان کادردسمجھا ، اوراپنادردان سے شیئر کرتے ہوئے انہیں خود سے قریب کرلینے میں کامیابی حاصل کرلی۔
۲۔ رونے والا 
دانتوں میں تکلیف ہوتی ہے تو پھر کچھ خیال نہیں رہتاکہ کون کون سی نعمتوں سے اوپر والا نواز رہاہے۔ ایسا لگتاہے زلزلہ آیاہواہے اور انسان اس زلزلے کے تھپیڑے کھاتے ہوئے انتہائی تکلیف اور درد میں مبتلا ہے۔ وجے بودھ کچھ ایسا ہی محسوس کررہاتھا۔
کوئی چیز بھی اچھی نہیں لگ رہی تھی۔ پہلی دفعہ اس نے دانتوں کی اہمیت کوسمجھااور روپڑا۔ اس کو اپنے دانتوں کی حفاظت مطلو ب تھی۔
۳۔ مسیحا میڈم
آرٹ گیلری میں پریرنامیڈم کی تصاویر کی نمائش لگی تھی۔ انھوں نے بالوں کی مذہبی روایت والی جٹا سے  ہندوخواتین کو مکتی دلانے کی کوشش کی تھی۔ اور 200سے زائد خواتین ان کی کوششوں کی بدولت روایتی مذہبی جٹا سے نجات پاگئی تھیں۔ وہ ایک فیشن ایبل خاتون تھیں، تصاویر کے قریب کھڑے ہوہوکر نمائش دیکھنے آنے والوں سے تصاویر کی کہانیاں سنارہی تھیں ۔ خواتین کو ان کی جٹانامی مذہبی روایت اور بھیک مانگنے کی لعنت سے نجات دلانے پر وہ مجھے ایک مسیحا نظرآئیں۔ میں ان سے بہت کچھ پوچھناچاہتاتھامگر میرے پاس وقت نہیں تھا۔میں فوری آرٹ گیلری سے نکلا اور ٹیکسی میں بیٹھ کر اسٹیشن کی طرف دوڑگیاکہ آدھا گھنٹہ بعد میری ٹرین تھی۔
۴۔ بڑا آدمی 
میں نے فون کیاتو اس نے بتایاکہ وہ حیدرآباد میں ہے۔ اپنے ضعیف والدین کو لے کر خصوصاً والد کے رشتہ داروں سے ملانے گیاہواہے۔مجھے حیرت ہوئی کہ ایک نوجوان انجینئر جس کے پاس وقت بالکل بھی نہیں ہوتاوہ کس طرح اپنے ضعیف والدین بلکہ والد کی دلجوئی میں لگا ہوا ہے۔
دل نے کہا’’خدمت انسان کو بڑابناتی ہے۔ کوئی ایسے ہی بڑا نہیں بن جاتا اور والدین کی خدمت تو خوش نصیب کیاکرتے ہیں‘‘
۵۔ بے وقوفی
ناٹک ختم ہوچکی تھی۔ ناٹک کے ختم پر پردہ گرا پھر پردا اٹھاتو دیکھاکہ ناٹک کے سبھی کردار ایک صف میں کھڑے تھے۔ اور اپنے ناظرین کاشکریہ بجالارہے تھے۔
وہ جو ایک دوسرے کے خلاف تھے ، ایک دوسرے کے جان کے دشمن تھے۔ ان کاایک ہی صف میں کھڑا ہونااچھانہیں لگا۔ بالکل ایسامحسوس ہواجیساکہ یہ ناٹک کے کردار نہ ہوں ، سیاست دان ہوں ۔ اور اپنی سیاست کی ترقی کے لئے ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر ملکی عوام کوبے وقوف بنانے میں لگے ہیں۔
۶۔ کوتاہی 
ملک کے معروف تعلیمی کیمپس کے دورے کی تفصیل سناتے ہوئے میں نے کہا’’کیمپس کیاہے ، معیاری تعلیمی میلہ ہے ، جوروزانہ لگارہتاہے۔ کیمپس کی اچھی بات یہ ہے کہ تعلیم کے حصول کاماحول طلبہ کے لئے میسرہے۔ مذہبی عبادت کاانتظام ہے۔ صحت کو برقرار رکھنے جم کھولا گیاہے۔ سائنس اور آرٹ مزاج طلبہ کے لئے سائنس لیب اور آرٹ کے حصول کے لئے پروگراموں کے مواقع ہیں، پورے ملک سے طلبہ نے وہاں داخلہ لے رکھاہے‘‘ میری بتائی گئی اس تفصیل پر عبدالکریم چوگلے نے دریافت کیا’’یہ بتاؤ یار،اس کیمپس کی خامی یاکمزوری کیاہے ؟‘‘
میں ہنس پڑااور اس کو سمجھانے لگاکہ بہت ساری خوبیوں میں ایک آدھ کمی رہ جاتی ہے ، اس کاذکر نہ کرنا ہی بہترہوتاہے۔کیوں کہ یہ انسانی کام ہے۔ عبدالکریم چوگلے نے کہا’’ ایک آدھ خامی ہی کشتی کاوہ سوراخ ہوتی ہے جو کشتی کو لے ڈوبتی ہے۔ یہ بتاؤ کہ کیمپس کی خامی ، کمزوری یاکوتاہی کیاہے ؟‘‘میں نے چوگلے کی بات پر اپنی ہارمانتے ہوئے کہا ’’کوایجوکیشن وہاں کی کمزور ی ہے یاپھر کوتاہی سمجھ لو ‘‘میں نے گاڑی اسٹارٹ کی اور چوگلے کو وہیں چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ مجھے معلوم تھاکہ اب وہ کیاکچھ کہے گا، ان باتوں کوسننے کامادہ میرے اندر ہرگز بھی نہیں تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے