محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔
۱۔برکتیں
جو ہوا اچھا ہوا، کوئی بھی کہنے کے لئے تیارنہیں تھا۔ سبھی کوشکویٰ تھا، شکایت تھی، ایک دوسرے سے ناراضی تھی۔بڑوں نے بتایاکہ ان حالات میں جو نصرت من اللہ تھی وہ نہیں آسکی۔ ایسے میں ماحول کوافسردہ نہ بناتے ہوئے دل بڑاکرکے دوسرے کو خود پر ترجیح دے کرزندگی گزاری جائے تو عمراور مال ومنال میں برکت خود بخود آجاتی ہے۔
۲۔ کایاپلٹ
ماحول خراب ہوتاجارہاتھا۔ تعریفوں کے پل بھی لوگوںکے سدھارکے سامنے ہیچ تھے۔ نفرت نے گھرہی نہیں کرلیاتھابلکہ دلوں میں لاوابن کر ابلنے کوتیاربیٹھی ہوئی تھی۔اور اس کے حامی اس لاوے کو باہر لانے کے اقدامات میں لگے ہوئے تھے تاہم اسی دوران کچھ ہاتھ آسمان کی جانب ایسے اٹھے کہ سینے میں موجودنفرت کے لاوے پر محبت کے پھولکھل کررہے۔ سجدہ ء شکر واجب تھاکہ کایاپلٹ کامنظر دنیا نے سرکی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا۔
۳۔ بھنگ آمیز علاقہ
پیسہ سبھی کے پاس تھا۔ دل بھی تھا۔پیسہ خرچ کرنے کیلئے راستہ بھی میسر تھااوراس کی توفیق بھی ملی ہوئی تھی۔سبھی دولت مند شہری سیاسی اور سماجی کام میں لگے ہوئے تھے۔اور چاہتے تھے کہ ان کا اپناشہر پاک وصاف رہے لیکن اس کے باوجود ان کے شہر کاریڈلائٹ ائریاکسی کینسر کی مانند ان کے صاف وشفاف سیاسی اور سماجی کام میں بھنگ ڈال کر انہیں آئے دن شرمندہ کئے جاتاتھا۔انہیں اس مسئلہ کاکوئی حل سوجھ نہیں رہاتھا۔
۴۔ صدقہ ء جاریہ
ڈیڑھ سال کی علالت کے بعد اسکی والدہ انتقال کرگئیں۔ وہ چاہتاتھاکہ اس کے دوست احباب اس کی والدہ کی میت میں آئیں اور اس کاغم ہلکاکریں۔سبھی کو اس نے والدہ کے فوت ہونے کی اطلاع دی ۔ایک آدھ دوست کے سوا کوئی حاضر نہ ہوسکا۔ جس کا اس کو افسوس رہا۔ پھرفاتحہ سیوم میںاس نے دوستوں کومدعو کیا۔ چالیسویں پر بھی دوستوں کووہ مدعوکیاہواتھا لیکن ان دونوں مواقع پر بھی دوست احباب اپنی اپنی زندگی میں مصروف رہے ،انھوں نے تقریب میں شرکت نہیں کی۔پھرجب وہ اپنی والدہ کی برسی کااہتمام کرنے میں لگاہواتھاکہ اچانک ہی ایک نیاخیال اس کے ذہن ودل میں آیاکہ کھانا وانا کھلانے کے بجائے سرکاری اردو اسکول کے طلبہ میں کاپیاں اور دیگر اشیائے ضروریہ کیوں نہ تقسیم کیاجائے ؟ اس خیال کو اس نے فوری عملی جامہ پہنادیا۔ جس سے اس کوبے پناہ مسرت ہوئی ۔ اس دفعہ دوستوں کو زحمت نہیں دی گئی جس کی اسے خوشی ہی رہی۔ وہ یہ بھی محسوس کررہاتھاکہ جو بھی خرچ ہواہے وہ والدہ کے حق میں صدقہ ء جاریہ واقعی بن گیاہے۔
۵۔بے انتہا تنوع
ہر طرف ایک ہی قسم کی کہانیاں تھیں۔ اس نے وہ علاقہ ہی چھوڑدِیا۔وہ دراصل مختلف اقسام کی کہانیاں لکھ کر انسانی مزاج اور انسانی زندگی کے بے انتہا تنوع کو خود انسانوںکے سامنے پیش کرتے ہوئے رب کی لامتناہی ہمدردی ، عفوودرگزرسے انسانوں کو متعارف کراناچاہتاتھا۔ اوروہ اس مہم میں کامیاب رہا۔ رب اس کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین۔
